سوزوکی سیاز – عنقریب پیش کی جانے والی سیڈان پر ایک نظر!

ex-4

پاکستان میں سوزوکی سیاز پیش کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اکثر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آیا سوزوکی سیاز پہلے سے موجود گاڑیوں کے مقابلے میں کسی قابل ذکر یا انوکھی خاصیت کی حامل ہوگی یا نہیں۔فی الحال سوزوکی نے اس بابت کسی بھی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کیں اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا نئی سیاز ان پاکستانی شائقین کو متوجہ کرنے میں کامیاب رہے گی کہ جو عرصےسے ہونڈا سِٹی کی چاہت میں مبتلا ہیں۔ اس کے باوجود یہ کہنا درست ہوگا کہ سیاز کی صورت میں سوزوکی کو انہی سیڈان گاڑیوں میں اپنانام بنانے کا موقع مل رہا ہے جس میں وہ چند دہائیوں قبل راج کرتا تھا۔

پاکستان میں گاڑیوں کے شعبے بالخصوص سیڈان طرز کی گاڑیوں کے ماضی پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پاک سوزوکی کے لیے یہ میدان ہر گز نیا نہیں ہے۔ سوزوکی مرگلہ، پھر سوزوکی بلینو اور گزشتہ چند سالوں میں سوزوکی لیانا نے پاک سوزوکی کو سیڈان گاڑیوں کی مارکیٹ میں نمایاں مقام عطا کیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ کفایتی انجن، بہتر گراؤنڈ کلیئرنس اور اضافی گنجائش کے باوجود لیانا وہ مقام حاصل کرنے میں ناکام رہی جو ماضی میں سوزوکی مرگلہ اور بلینو کو حاصل ہوا تھا۔ لیکن اب سوزوکی سیاز کے ذریعے پاک سوزوکی ایک مرتبہ پھر پاکستان میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اسی ضمن میں یہاں کی مقبولیت ترین سیڈان گاڑیوں بشمول سِٹی اور کرولا کے مدمقابل ایک ایسی گاڑی پیش کی جارہی ہے کہ جوان مقامی گاڑیوں کی بہترین متبادل ثابت ہوسکتی ہے۔

ظاہری انداز
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کزاشی کے ذریعے ادارے کا نام بہتر بنانے کا خیال اب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔پاکستان میں سوزوکی صرف چھوٹی اور سستی گاڑیاں بنانے والے ادارے کے طور پر جانا جاتاہے۔ اس تصور کو صرف اسی صورت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے کہ جب کار ساز ادارہ مناسب قیمت میں بہتر معیاری اور جدید خصوصیات سے لیس گاڑیاں پیش کرے۔خوشی کی بات یہ ہے کہ سوزوکی سیاز اس پر پوری بھی اترتی ہے۔ظاہری انداز پر نظر ڈالیں تو بڑی ہیڈلائٹس اور کروم گِرل کا حامل خوبصورت بمپر سیاز کو خاصہ جاذب نظر بناتا ہے۔ دائیں اور بائیں حصے پر ابھری گہری لائن گاڑی کے پچھلے حصے تک جاتی ہیں جس سے طاقتور ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ 15 انچ کے پہیے بھی سوزوکی سیاز کی دلکشی میں چار چاند لگاتے ہیں۔

پچھلے حصے کی بات کریں تو یہاں آپ کو گولائی میں بنائی گئی چیزیں نمایاں نظر آئیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس حصے کو ہونڈا سِٹی کی چھٹی جنریشن سے مشابہ قرار دیا جاتا ہے۔آگے کی طرح پیچھےکا بمپر بھی کافی خوبصورتی سے بنایا گیا ہے۔ ڈگی کے دروازے پر کروم کی پٹی اسے دیگر سیڈان سے کافی ممتاز بناتی ہے۔

اندرونی حصہ
ظاہری انداز کی خوبصورتی اپنی جگہ لیکن اگر کسی گاڑی کا اندونی حصہ دیکھنے والوں کو متاثر نہ کرسکے تو پھر بدقسمتی سے ایسی گاڑیاں زیادہ کامیاب نہیں ہوپاتیں۔ پاک سوزوکی نے بھی اس کی اہمیت کو بخوبی سمجھا اور سیاز کو نہ صرف باہر سے بلکہ اندر سے بھی دلکش انداز دینے کی کوشش کی ہے۔ ڈیش بورڈ کا ڈیزائن بہت سادہ اور صاف ستھرا ہے لیکن ساتھ ہی یہ جدید ڈیزائن کے حامل انسٹرومنٹ پینل کو بھی بخوبی سموئے ہوئے ہے۔ رنگوں کے انتخاب اور کروم کے استعمال نے سوزوکی سیاز کے خریداروں کو اپنی گاڑی مزید پرکشش بنانے کا بھی موقع دیا ہے۔

گنجائش کی بات کریں تو سوزوکی سیاز کافی کشادگی رکھتی ہے۔ بالخصوص پچھلی نشستوں کے لیے سوزوکی نے کافی جگہ فراہم کی ہے۔ اس ضمن میں سوزوکی نے اگلی نشستوں کو ترتیب دینے کی سہولت بھی شامل کی ہے تاکہ پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والے آرام و سکون کے ساتھ اپنے سفر کا لطف اٹھا سکیں۔

خصوصیات
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ گاڑی کی خصوصیات اور سہولیات ہی اس کی قدر کا تعین کرتی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ سوزوکی سیاز میں دو ایئر بیگز شامل کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ سوزوکی سیاز کا فریم اور بریک پیڈل کو قابلیت بہتر بنانے کے لیے TECT کریش سے بھی گزارا جاچکا ہے۔ علاوہ ازیں برقی ونڈوز اور آوڈیو سسٹم بھی سوزوکی سیاز کی خصوصیات میں شامل ہیں۔ سامان رکھنے کی گنجائش کی بات کریں تو اس میں اگلی اور پچھلی نشستوں پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے متعدد کپ اور بوٹل ہولڈرز دیئے گئے ہیں۔

ex-6

کارکردگی
عالمی سطح پر سوزوکی سیاز کو 3 مختلف انجن کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے جن کی فہرست یہ ہے:
– 1400cc پیٹرول انجن
– 1200cc پیٹرول انجن
– 1300cc ڈیزل انجن

پاکستان میں ڈیزل گاڑیوں کو درپیش زوال کو مدنظر رکھا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ پاک سوزوکی یہاں صرف پیٹرول انجن کی حامل سیاز ہی متعارف کروائے گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں اس گاڑی کی کفایت، کارکردگی اور قیمت کے اعتبار سے بہترین ثابت کرنا ہے۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں جن میں سے ایک سیڈان مارکیٹ میں سوزوکی کا نام دوبارہ منظر عام پر لانا اور دوسرا اس زمرے کے سخت ترین حریف گاڑیوں ہونڈا سِٹی اور ٹویوٹا کرولا GLi کو ٹکر دینا ہے۔

حتمی رائے
زیادہ لمبے چوڑے تبصرے کے بجائے براہ راست اس سوال کا جواب جانتے ہیں کہ آیا ہونڈا سِٹی اور ٹویوٹا کرولا GLi/Xli کو سیاز کی آمد سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے؟ اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میرا جواب ہوگا کہ “جی ہاں”۔ لیکن یہاں پاکستانی خریداروں کی بعد از استعمال اچھی کی قیمت پر گاڑی فروخت ہونے کی خاصیت کو ترجیح دیئے جانے کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ لہٰذا سوزوکی سیاز کی صرف اچھی قیمت پر پیشکش ہی کافی نہیں ہوگی بلکہ اسے کامیاب گاڑیوں میں شمار کروانے کے لیے پاک سوزوکی کو اس کے پرزے اور مینٹی نینس کو ہر خریدار کے لیے قابل رسائی اور قابل خرید بنانا ہوگا۔ اگر پاک سوزوکی نے ان عوامل کا خیال رکھا تو کوئی بعید نہیں کہ یہ حریف گاڑیوں پر بھاری پڑسکتی ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اس کا حشر بھی لیانا سے مختلف نہیں ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستانی اس نئی گاڑی کی آمد کو ضرور سراہیں گے لیں جو CBU ہونے کی وجہ سے بہتر معیار کی حامل ہوگی۔ بہرحال، اس کی کامیابی کا بہت زیادہ دارومدار قیمت پر بھی ہوگا۔ گو کہ پاک سوزوکی نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سوزوکی سیاز کی قیمت 18 سے 22 لاکھ روپے کے لگ بھگ رکھی جاسکتی ہے۔


Top