گاڑی کے شیشے پر دراڑوں کو ہر گز نظر انداز مت کریں!


گاڑی کے اگلے حصے میں لگے شیشے کو انگریزی میں ونڈ شیلڈ کہا جاتا ہے۔ اس کا اصل کام مسافروں کو ہوا کے دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے اور اسی لیے اسے windshield کا نام دیا گیا۔ درحقیقت یہ گاڑی کے اہم ترین حصوں میں سے ایک ہے جو صرف ہوا ہی سے نہیں بلکہ کئی دیگر اجزا مثلاً دھول مٹی سے بھی مسافروں کو بچاتا ہے۔ یہ ایسی معمولی چیز نہیں کہ جسے آپ پرچون کی دکان یا کسی بڑے اسٹور سے خرید کر گاڑی میں لگوا سکتے ہیں بلکہ یہ بہت ہی خاص تکنیک سے تیار کیا جانا والا شیشہ ہے۔ اس مضمون میں ہم ونڈ شیلڈ کی چند اقسام، اس کی اہمیت اور کمزور ونڈ شیلڈ کے ممکنہ نقصانات سے متعلق بات کریں گے۔ تفصیل کی طرف بڑھنے سے پہلے یہ جان لیجیے کہ عام طور پر گاڑیوں میں دو طرح کی ونڈ شیلڈ استعمال کی جاتی ہیں جن میں سے ایک کو ٹمپرڈ (Tempered) جبکہ دوسری کو لیمی نیٹڈ (Laminated) کہا جاتا ہے۔

ٹمپرڈ گلاس ونڈ شیلڈ

سب سے پہلے ٹمپرڈ گلاس سے تیار کی جانے والی ونڈ شیلڈ سے متعلق بات کرلیتے ہیں۔ ٹمپرڈ گلاس کو شدید درجہ حرارت میں تیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ ہلکے پھلکے دباؤ کو باآسانی برداشت کرسکے۔ البتہ اس شیشے پر بہت زیادہ بوجھ پڑنے کی صورت میں یہ عام گلاس کی طرح ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے بجائے چکنا چور ہوجاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں چورا بن جانے کے باعث یہ گاڑی میں سوار مسافروں کے لیے سنگین نقصان کا باعث نہیں بنتا۔ عام طور پر ونڈ شیلڈ کے علاوہ دروازوں، ڈگی اور گاڑی کے دیگر حصوں میں استعمال ہونے والے شیشے بھی ٹمپرڈ گلاس ہی سے تیار کیے جاتے ہیں۔

لیمی نیٹڈ گلاس ونڈ شیلڈ

اب بات کرتے ہیں دوسری قسم یعنی لیمی نیٹڈ گلاس سے تیار ہونے والی ونڈ شیلڈ کے بارے میں۔ ٹمپرڈ گلاس کے مقابلے میں لیمی نیٹڈ گلاس زیادہ پائیدار اور مضبوط مانا جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ قیمت کے اعتبار سے بھی مہنگا ہوتا ہے۔ اسے تیار کرنے کے لیے تین مختلف تہہ بنائی جاتی ہیں جس کا مقصد اس کی لچک میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ ٹمپرڈ گلاس کی طرح اس کی تیاری میں بھی شدید درجہ حرارت استعمال کیا جاتا ہے تاہم درمیان میں اضافی ورق کے استعمال سے یہ اضافی بوجھ بھی سہہ سکتا ہے۔ ذیل میں موجود خاکے سے آپ لیمی نیٹڈ گلاس کی مختلف تہہ کو باآسانی سمجھ سکتے ہیں:

Windshield Construction.jpg

اسے یوں سمجھ لیجیے کہ دو ٹمپرڈ گلاس کے درمیان پلاسٹک کی بہت پتلی سی پننی استعمال کی جاتی ہے جسے لیمنیشن کہتے ہیں۔ درجہ حرارت میں تیار ہونے کی وجہ سے شیشے کی مضبوطی میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ کسی بہت وزنی چیز کو مختصر وقت کے لیے بھی سنبھال سکتا ہے۔ جبکہ شیشے کے چکنا چور ہوجانے کی صورت میں لیمنیشن اس کے ٹکڑوں کو پھیلنے سے بچاتی ہے۔ اس طرح گاڑی کے مسافروں کی بہتر طریقے سے حفاظت ممکن ہوپاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر گاڑی کے اگلے شیشے میں کوئی پتھر یا لوہے کی چیز آکر ٹکرائے تو اس سے شیشہ چکنا چور ہوجائے گا لیکن پلاسٹک کی تہہ سے وہ ڈرائیور یا مسافر پر نہیں گرے گا۔

car_broken_glass-windshield-replacement.png

دور حاضر میں تیار شدہ تمام ہی گاڑیوں میں لیمی نیٹڈ گلاس سے تیار شدہ ونڈ شیلڈ ہی استعمال کی جارہی ہے۔ تاہم چند ایک سستی گاڑیوں میں آج بھی ٹمپرڈ گلاس ہی کو ترجیح دی جارہی ہے تاکہ ان کی قیمت میں کمی لائی جاسکے۔ سوزوکی مہران، سوزوکی بولان اور راوی کے علاوہ پاکستان میں تیار کی جانے والی تمام گاڑیوں میں لیمی نیٹڈ گلاس والی ونڈ شیلڈ لگائی جاتی ہے۔ البتہ گاڑیوں کے دیگر حصوں بشمول دروازوں، ڈگی کے شیشے وغیرہ میں ٹمپرڈ گلاس ہی استعمال کیا جارہا ہے۔

گاڑیوں میں ونڈ شیلڈ کی اہمیت

ونڈ شیلڈ چاہے صرف ٹمپرڈ ہو یا پھر لیمی نیٹڈ، وقت کے ساتھ اس پر مختلف طرح کے نشانات اور دراڑیں نظر آنے لگتی ہیں۔ مسافر گاڑیوں کے علاوہ عوامی نقل و حمل کے استعمال ہونے والی بسوں اور ٹرکوں کے اگلے شیشے بھی دراڑوں کے ساتھ عام دیکھے جاسکتے ہیں۔ اکثر لوگ یہ خیال کرتے ہوئے ان نشانات کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ ونڈ شیلڈ پر پڑنے والی دراڑیں زیادہ اہمیت کی حامل نہیں۔ لیکن کیا واقعی یہ ایسا مسئلہ ہے کہ جس سے صرف نظر برتا جاسکتا ہے؟ شاید لوگ صرف یہی سمجھتے ہیں کہ ونڈ شیلڈ محض ایک شیشے کا ٹکڑا ہی تو ہے اور اس کا کام صرف ہوا، دھول اور مٹی کو گاڑی کے اندر داخل ہونے سے روکنا ہے۔ لیکن سچ پوچھیے تو حقیقت اس سے مختلف ہے۔

جدید گاڑیوں میں ونڈ شیلڈ صرف ایک شیشے کا ٹکڑا نہیں بلکہ گاڑی کے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ ہے۔ پرانے وقتوں کی گاڑیوں جیسے سوزوکی مہران اور سوزوکی بولان وغیرہ میں ربڑ کے ذریعے شیشے کو گاڑی میں جوڑا جاتا ہے۔اس کے برعکس جدید گاڑیوں میں اگلے شیشے کو گوند کے ذریعے چپکا کر نصب کیا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو سوزوکی مہران، بولان اور راوی کے علاوہ کسی بھی گاڑی کی ونڈ شیلڈ کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ سوزوکی مہران، بولان اور راوی چونکہ 30 سال پرانے طریقے سے بنائی جارہی ہے اس لیے ان میں ربڑ کی مدد سے شیشے کو گاڑی سےجوڑا جاتا ہے۔ البتہ سوزوکی نے بھی جدید طریقے سے ونڈ شیلڈ نصب کرنے کا آغاز 1988 میں پیش کی جانے والی سوزوکی خیبر سے کردیا تھا۔

نئی اور پرانی گاڑیوں کی ونڈ شیلڈ میں فرق

کم قیمت گاڑیوں میں ونڈ شیلڈ کو ربڑ کی مدد سے لگائے جانے کے برعکس نئی گاڑیوں میں اگلے شیشے کو گوند سے لگایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ونڈ شیلڈ ذریعے گاڑی کے اگلے ستونوں اور چھت کو سہارا دینا ہے۔ ونڈ شیلڈ چاروں کونوں کو مربوط رکھنے کا اہم ترین کام انجام دیتی ہے۔ اگر کسی گاڑی کی ونڈ شیلڈ کمزور ہوجائے یا پھر سرے سے موجود ہی نہ ہوتو حادثے کی صورت میں ایسی گاڑی کی چھت ٹکروں میں تقسیم ہوسکتی ہے بالخصوص اگر گاڑی لڑھک جائے تو بغیر ونڈ شیلڈ والی گاڑی کی چھت مسافروں پر گر سکتی ہے۔

علاوہ ازیں ونڈ شیلڈ گاڑی میں موجود ایئربیگز کی کارکردگی پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ گاڑی کا اگلا شیشہ تقریباً تمام ہی ایئربیگز کو مدد فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ کی گاڑی کی ونڈ شیلڈ کمزور ہے یا اس پر دراڑیں موجود ہیں تو حادثے کی صورت میں ایئر بیگز کھلنے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ چونکہ اب بہت سی غیر ملکی گاڑیوں میں ایئر بیگز شامل ہوتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ ایسی گاڑیاں رکھنے والے افراد ونڈ شیلڈ کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہ کریں۔

آخر میں گزارش کرنا چاہوں گا کہ جب کبھی گاڑی کے اگلے شیشے یعنی ونڈ شیلڈ میں کوئی دراڑ نظر آئے تو اسے ہر گز نظر انداز مت کریں۔ اب تو مارکیٹ میں بہت سی ایسی چیزیں دستیاب ہیں جو گاڑی کی ونڈ شیلڈ کی بخوبی مرمت کرسکتی ہیں۔ لہٰذا اپنی گاڑی کے اہم ترین حصے کی مرمت کرنے میں ہر گز غفلت نہ برتیں۔ آپ کی زندگی سب سے قیمتی ہے اس لیے اپنا اور اپنے ساتھ سفر کرنے والے ہر فرد کا خیال رکھیں۔


Syed Talib Haider

The author has a bachelors degree in engineering from one of Pakistan's leading universities. He is currently associated with the Pakistani automobile industry in a professional capacity and takes cars and engineering seriously. You should not expect bias or inclination towards a particular manufacturer. All posts are thoroughly researched and posted to the best of his knowledge and ability. Be sure to comment on his blogs. Your feedback will always be welcome.

Top