اپنی گاڑی خود منگوائیں: چند اہم باتوں کی وضاحت

carimports

اپنے پچھلے مضمون ‘اپنی گاڑی خود منگوائیں’ میں بیان کیا تھا کہ آپ کس طرح جاپان کے نیلامی مراکز سے گاڑی خرید کر کراچی کی بندرگاہ اور پھر اپنے گھر کی دہلیز پر منگوا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مزید چند اہم باتیں آج اپنے اس مضمون کے ذریعے قارئین تک پہنچا رہا ہوں جس سے آپ جاپان سے پاکستان گاڑی درآمد کرنے کے معاملے کو مزید بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: جاپان سے گاڑی درآمد کرنے کا مرحلہ وار طریقہ

نیلامی مراکز سے گاڑی خریدتے ہوئے آپ کو گاڑی سے متعلق تمام اہم چیزیں مثلاً اس کی مجموعی حالت اور اس کی مجموعی مسافت یعنی مائیلیج وغیرہ بتائی جاتی ہے۔ کسی بھی گاڑی کی نیلامی میں حصہ لینے سے قبل اصلی آکشن شیٹ (auction sheet) دیکھ لینی چاہیے تاکہ آپ کو گاڑی کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہوجائیں۔اس بات کی بھی تصدیق کرلینی چاہیے کہ آیا آکشن شیٹ میں کسی قسم کا رد و بدل تو نہیں کیا گیا۔ اگر کسی بھی گاڑی میں تھوڑا بہت شک ہو تو اسے دور کریں اور اگر ایسا ممکن نہ ہوتو دیگر بے شمار گاڑیاں بھی دستیاب ہیں ان میں سے کسی کا انتخاب کریں۔

پچھلے مضامین پر اظہار رائے کرنے والے چند مبصرین کا کہنا ہے کہ گاڑی درآمد کرنا اتنا بھی آسان نہیں جتنا سمجھا جا تا ہے۔اسی لیے میں نے پچھلے مضمون کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے اس مضمون میں بات کر رہا ہوں کہ کراچی کی بندرگاہ پر گاڑی پہنچنے کے بعد کیا مراحل طے کرنے ہوتے ہیں۔

گاڑی کے بندرگاہ پہنچتے ہی کسٹم حکام اس کو اپنی تحویل میں لے لیتے ہیں۔ یہاں سے اپنی گاڑی نکلوانے کے لیے آپ کو ایک کسٹم ایجنٹ کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی جو کسٹم ڈیوٹیز اور کسٹم کلیئرنس کے تمام مراحل سے گزرنے میں آپ کی مدد کرے گا۔ بہتر ہوگا کہ آپ کسی جان پہچان والے ایجنٹ کو منتخب کریں ورنہ کوئی بھی ناتجربکار یا بدنیت ایجنٹ آپ کو مشکلات میں پھنسا سکتا ہے۔ ایک ایجنٹ کا محنتانہ گاڑی کی فیس کے حساب سے 18 تا 25 ہزار روپے تک ہوتا ہے۔ گاڑی کے بندرگاہ پہنچنے والے دن سے 15 روز تک بندرگاہ کا کوئی کرایہ نہیں لیا جاتا۔ قابل افسوس لیکن حقیقی امر ہے کہ دیگر سرکاری اداروں کی طرح یہاں بھی رشوت ستانی عام بات ہے۔ اگر آپ کسٹم ایجنٹ کو رشوت نہیں دیتے تو آپ کی گاڑی کسٹم معاملات میں لٹکی رہے گی اور پھر 15 روز گزرنے کے بعد آپ کو بندرگاہ کو کرائے کی مد میں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ اور اگر کوئی بھاری کرائے سے بچنا چاہتا ہے تو اسے گاڑی جلد از جلد بندرگاہ سے باہر نکلوانی ہوگی اور یہ کام رشوت دیئے بغیر بہت مشکل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان درآمد کی جانے والی 5 مشہور ترین جاپانی گاڑیاں

اگرآپ کسٹمز ایجنٹ سے بچنا چاہیں تو کئی ایک کسٹم کلیئرنگ ایجنسیز بھی اس ضمن میں آپ کی مدد کرسکتی ہیں البتہ ان کی فیس ایک عام ایجنٹ سے تھوڑی زیادہ ہوتی ہے۔ اب آپ نیلامی کی قیمت، گاڑی کو بیرون ملک سے پاکستان منگوانے کے اخراجات، درآمدات پر حکومتی ٹیکس، ایجنٹ کا محنتانہ، پاسپورٹ اور ٹرانسپورٹ کا خرچے کے بعدرشوت کی مد میں دئیے گئے پیسوں کا مجموعہ کریں تو شوروم سے خریدی جانے والی گاڑی سے زیادہ ہی بنے گا۔

اب ہوسکتا ہے کہ آپ میں سے بہت سارے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ اگر گاڑی منگوانا مہنگا پڑتا ہے تو درآمد شدہ گاڑیوں کا کاروبار کرنے والے منافع کیسے کماتے ہیں؟ تو چلیے اس قضیے کو بھی حل کیے دیتا ہوں۔ اگر آپ 660 سی سی گاڑی منگواتے ہیں تو آپ کو 1100 امریکی ڈالر، جو تقریباً 1 لاکھ 10 ہزار پاکستانی روپے بنتے ہیں، ادا کرنا ہوں گے۔ اس پیشے سے وابستہ افراد ایک گاڑی نہیں منگواتے بلکہ کئی گاڑیوں کو ایک ساتھ منگوانے کو ترجیح دیتے ہیں جس سے ان کا کرایہ بچ جاتا ہے۔ میں ایسے کئی افراد کو جانتا ہوں جو 660 سی سی گاڑی کے لیے صرف 14500 روپے ادا کرتے ہیں۔ ایک گاڑی منگوانے اور بہت سی گاڑیاں ایک ساتھ منگوانے میں کرائے کا فرق ہی دراصل درآمد شدہ گاڑیاں فروخت کرنے والوں کا منافع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بندر گاہ سے گاڑی باہر نکلوانے کے لیے بھی شوروم مالکان نے ایک مخصوص ایجنٹ یا کلیئرنگ ایجنسی کے ساتھ کام کرتے ہیں جو مسلسل کاروباری مواقع کی وجہ سے کم خرچہ لیتے ہیں۔ یوں ان کو کلیئرنگ کے شعبے میں ہونے والی کسی رکاوٹ یا پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے علاوہ تحفے کے طور پر بھیجی جانے والی گاڑیوں پر حاصل رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھی کئی افراد یہ کام انجام دیتے ہیں جس سے ان کا منافع بڑھ جاتا ہے۔

اگر آپ کوئی گاڑی منگوا رہے ہیں تو کوشش کیجیے کہ کسٹمز میں آپ کی اچھی جان پہچان ہو یا پھر آپ کا ایجنٹ بہت قابل بھروسہ ہو۔ ایسا ممکن نہ ہو تو پھر کسٹم کلیئرنگ ایجنسی سے رابطہ کرنا ہی سودمند رہے گا۔ اگلے مضمون میں تحفے کے طور پر منگوائی جانے والی گاڑیوں سے متعلق آگاہ کروں گا جس میں حتمی ٹیکسز اور حاصل رعایت کے بارے میں بھی تفصیلی بیان کروں گا۔

Shaf Younus

I'm an Auto Enthusiast, a Student of Computer Science and above all, Citizen of Pakistan.

Top