گاڑیوں میں ایندھن کی بچت: مٹسوبشی 25 سال تک جھوٹ بولتا رہا

Mitsubishi CEO

جاپان کے چھ بڑے کار ساز اداروں میں سے ایک مٹسوبشی موٹرز نے تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ وہ گزشتہ 25 سالوں سے اپنی گاڑیوں میں ایندھن کی کفایت سے متعلق جھوٹے اعداد و شمار فراہم کرتا رہا ہے۔ کار ساز ادارے نے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ جن طریقوں سے گاڑیوں میں ایندھن کا خرچ جانچتے رہے وہ جاپانی معیارات پر پورے نہیں اترتے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ چار مقامی گاڑیوں کی جانچ کے دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار میں ردوبدل بھی کیا گیا تھا۔ ان چار گاڑیوں میں سے دو نسان کے لیے تیار کی گئی تھیں۔ یاد رہے کہ جاپانی حکام نے مٹسوبشی کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (R&D) مراکز میں سے ایک پر چھاپہ بھی مارا ہے۔

مٹسوبشی (Mitsubishi) نے کہا ہے کہ ادارے کی انتظامیہ کی جانب سے غیر معمولی دباؤ کے باعث چند افراد نے جانچ کے نتائج میں رد و بدل کیا۔ ان حیرت انگیز انکشافات کے بعد مٹسوبشی کے حصص میں زبرستی کمی دیکھی جارہی ہے جس سے ادارے کو شدید مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ جاپانی ادارے نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ امریکا، برطانیہ اور یورپ میں فروخت کی جانے والی گاڑیوں کی جانچ میں کوئی ردوبدل نہیں کیا تاہم امریکی اداروں نے مٹسوبشی سے متعلق تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مٹسوبشی کا اہم اعلان: لانسر، گیلنٹ اور پجیرو کا دور ختم

2010 Mitsubishi eK Wagon

مٹسوبشی موٹرز کے نائب صدر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندگان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 1991 میں جاپانی قوانین میں کی گئی ترمیم کے مطابق گاڑیوں کو شہری علاقوں میں بہتر طریقہ سے جانچا جانا چاہیے تھا لیکن مٹسوبشی نے اس پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا کہ ہمیں قانون کی پاسداری کرنی چاہیے تھی لیکن افسوس کہ ہم نے ایسا نہیں کیا۔

جاپانی کار ساز ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشتبہ گاڑیوں کو جاپانی قوانین کے بجائے امریکی طریقہ کار سے جانچا گیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا میں گاڑیوں کو طویل شاہراہوں پر سفر کے لیے تیار کیا جاتا ہے جبکہ جاپان میں اندرون شہر سفر کے لیے گاڑیوں میں ایندھن کی کفایت پر توجہ دی جاتی ہے۔

Mitsubishi CEO Apology

مٹسوبشی موٹرز نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس حوالے سے گزشتہ 20 سالوں کے دوران لاتعداد صارفین کی جانب سے شکایات موصول ہوتی رہی ہیں جنہیں مختلف وقتوں میں حل بھی کیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جاپان میں فروخت کی جانے والی 6 لاکھ سے زائد 660cc گاڑیاں اس دھوکہ دہی کی نظر ہوئیں۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ڈیزل گیٹ اسکینڈل کے بعد ووکس ویگن شدید مشکلات کا شکار ہے تو پھر سوچیئے کہ مٹسوبشی موٹرز کے اعترافات کے بعد مختلف ممالک نے ان کے خلاف کاروائی کا آغاز کردیا تو اس جاپانی کار ساز ادارے کا مستقبل کیا ہوگا؟

Mitsubishi President Tetsuro Aikawa

Top