نومبر 2018ء میں گاڑیوں کی فروخت میں 28 فیصد کمی

car sales

زیادہ فروخت کے مسلسل دو ماہ کے بعد ملک میں آٹو سیکٹر کو نومبر 2018ء میں 28 فیصد کی زبردست کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ جس میں 15334 مسافر کاریں ہی فروخت ہو پائیں۔ جبکہ اکتوبر میں کل 21341 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔ ہر زمرے کے لیے فروخت کا رحجان تقریباً یکساں ہی رہا بلکہ سال بہ سال میں گاڑیوں کی فروخت 11 فیصد بڑھی۔

اس اچانک کمی کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن اہم وجہ یہ ہے کہ سال ختم ہونے والا ہے اور عام طور پر لوگ نئے سال میں رجسٹریشن کروانے کے لیے گاڑیاں خریدنے کے لیے اگلے سال کا انتظار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت اور نتیجتاً گاڑیوں کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ بھی سال بھر اس کمی کی دو اہم وجوہات رہیں۔

1300cc کیٹیگری میں ہونڈا سوِک اور سٹی کی ماہ بہ ماہ فروخت 29 فیصد کمی کے 3152 یونٹس رہی۔ ٹویوٹا کرولا کی کل فروخت 11 فیصد کمی کے ساتھ نومبر 2018ء میں 4957 تک پہنچی۔ دوسری جانب سوزوکی سوئفٹ کی فروخت میں بہت بڑا زوال آیا کہ جو صرف 317 یونٹس تک محدود رہ گئی۔

1000cc گاڑیوں میں سوزوکی نے ماہ بہ ماہ میں 36 فیصد کی بڑی کمی کا سامنا کیا۔ کلٹس کے فروخت ہونے والے کُل یونٹس کی تعداد 1545 رہی، جبکہ اکتوبر میں 2401 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔ نومبر میں ماہ بہ ماہ کے حساب سے 36 فیصد کمی کے ساتھ ویگن آر کے 2113 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔

800cc میں سوزوکی مہران نے، یعنی وہ گاڑی جو جلد ہی بند ہو جائے گی، نومبر 2018ء میں 2199 یونٹس کی فروخت کے ساتھ 33 فیصد کا سامنا کیا۔

جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ مجموعی طور پر تو فروخت کا معاملہ اچھا نہیں رہا، اس لیے نومبر میں 236 یونٹس کی فروخت کے ساتھ فورچیونر کی فروخت بھی 8 فیصد کم رہی۔ BR-V کی فروخت میں 300 یونٹس کے ساتھ 42 فیصد کمی دکھائی دی۔

اس کے علاوہ پِک اپس اور ٹرکوں کی فروخت میں سال بہ سال میں بالترتیب 29 اور 13 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

دو پہیوں کی بات کریں تو موٹر سائیکلوں کی فروخت میں ماہ بہ ماہ میں 21 فیصد کی بڑی کمی ہوئی اور سال بہ سال میں بھی 4 فیصد کے زوال کا سامنا رہا۔ نومبر میں کل 120,325 موٹر سائیکلیں فروخت ہوئیں جن میں سے ہونڈا نے 90,016 یونٹس فروخت کیے جبکہ سوزوکی، یاماہا اور یونائیٹڈ نے بالترتیب 1849، 2019 اور 26,441 یونٹس فروخت کیے۔

٭٭اعلانِ دستبرداری: یہ ڈیٹا PAMA کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے اور پاک ویلز ان اعداد و شمار میں کسی بھی خامی کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔


Top