بحری جہاز آئی این ایس وکرانت کے لوہے سے موٹر سائیکلوں کی تیاری

bajaj-v-featured

بھارت کے پہلے طیار بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرانت کے لوہے سے اب موٹر سائیکلیں تیار کی جائیں گی۔ اس تاریخی جہاز کو 1997ء میں فارغ کردیا گیا تھا جس کے بعد سال 2014ء میں اسے توڑ کر ختم کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں بھارت میں موٹر سائیکل بنانے والی دوسری بڑی کمپنی بجاج آٹو نے پچھلے سال آئی این ایس وکرانت کے اسکریپ کو خرید لیا تھا۔

بجاج آٹو نے اب یہ اعلان کیا ہے کہ وہ آئی این ایس وکرانت کے اسکریپ سے ایک نئی موٹر سائیکل متعارف کروائے گا۔ اس موٹر سائیکل کا نام بجاج وی (Bajaj V) رکھا گیا ہے۔ اس کے نام میں شامل انگریزی حرف V بحری جہاز کے نام ‘وکرانت’ سے لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے موٹر سائیکل ساز ادارے نے کہا ہے کہ وکرانت کے لوہے سے تیار ہونے والا موٹر سائیکل کا نیا ماڈل یکم فروری کو پیش کیا جائے گا۔

آئی این ایس وکرانت بھارت کی تاریخ کا پہلا طیارہ بردار بحری جہاز تھا ۔ اس کا شمار 1943ءمیں دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی رائل نیوی کیلئے تیار کیے جانے والے بحری جہازوں میں ہوتا ہے۔ بھارتی بحریہ نے 1957 میں یہ جہاز خریدا اور 1961 میں اسے بحریہ کے حوالے کیا۔ اس جہاز نے 1961ء میں ریاست گوا پر بھارتی حملے اور پھر 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔

آئی این ایس وکرانت کی جگہ بھارت ہی میں تیار ہونے والے بحری جہاز نے لے لی ہے۔نئے بحری جہاز کا افتتاح اگست 2013 میں کیا گیا تھا۔اس بھارتی بحری جہاز کو بھی آئی این ایس وکرانت کا ہی نام دیا گیا ہے۔ یہ جہاز سال 2018 میں بھارتی بحریہ کے حوالے کیا جائے گا۔

بجاج وی پیٹرول پر چلنے والی 150 سی سی موٹر سائیکل ہوگی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بجاج آٹو نے اپنی کسی موٹر سائیکل کو عسکری نام سے منسوب کیا ہو۔ اس سے قبل 145 سی سی بجاج چیتک کا نام بھی راجپوت راجہ مہارانا پرتاپ سنگھ کے گھوڑے کے نام پر رکھا گیا ہے۔

Top