موٹروے پر مکینکوں کی لوٹ ماری؛ مسافر پریشان!


سوشل میڈیا پر غم و غصے پر مشتمل مختلف پوسٹس دیکھنے سے اندازہ ہو رہا ہے کہ موٹروے پر موجود مکینکوں کی دکانیں مسافروں کے لیے باعث رحمت ہونے کے بجائے زحمت بن چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر پریشانی کا اظہار کرنے والے مسافر کہتے ہیں کہ محض ٹائر میں ہوا چیک کروانے کے لیے مکینک کے پاس رک جانا کسی خطرے سے کم نہیں کیوں کہ جب کوئی مسافر گاڑی کے ٹائر کی ہوا چیک کروانے رکتا ہے تو دکان کے ملازم جان بوجھ کر ٹائر پنکچر کر دیتے ہیں یا اس انداز سے ٹائیر کو نقصان پہنچا دیا جاتا ہے کہ نیا ٹائر ڈلوائے بغیر گزارا ہی نہیں رہتا۔ یوں موٹروے مکینک صاحبان مسافر کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ غیر معیاری ٹائر کو مہنگے داموں خریدے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایسی خبریں پہلی بار منظر عام پر نہیں آئیں بلکہ گزشتہ سال بھی اس طرح کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں پاک ویلز کمیونٹی کے ایک رکن کے ساتھ پیش آیا جنہوں نے اسی مسئلہ پر اپنی کہانی سنائی۔

 

علاوہ ازیں ایسی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ موٹروے میکینک جان بوجھ کر سڑک پر کیلیں بکھیر دیتے ہیں جس کی وجہ سے گاڑیوں کے ٹائروں کو نقصان پہنچتا ہے اور پھر لامحالہ انہیں مکینک کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں۔ یوں ان دکانداروں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ حکومت اور موٹروے اہلکاروں سے درخواست ہے کہ نوعیت کے واقعات کے خلاف جلد از جلد کارروائی کریں۔ یاد رہے کہ میں، بذات خود، بھی ان شکاریوں  کے جال میں پھنس چکا ہوں۔

پاک ویلز کمیونٹی میں ایک ممبر نے اس حوالے سے فیس بک پر بتایا کہ

 

میں کچھ ہفتوں پہلے بذریعہ M2 اپنی فیملی کے ہمراہ فیصل آباد جا رہا ہے۔ دوران سفر بھیرا سروس ایریا میں ہم کچھ کھانے پینے کے لیے رکے۔ قریب ہی ایک 24/7 ورکشاپ موجود تھی۔ میں نے وہاں موجود ایک لڑکے سے ٹائر کی ہوا چیک کرنے کے لیے کہا جو کہ بعد میں میری غلطی ثابت ہوئی کیوں کہ یہاں سے ایک دکھ بھری کہانی کا آغاز ہوا۔۔۔

 

لڑکے نے مجھے بتایا کہ گاڑی کے دو ٹائرز پنکچر ہو چکے ہیں۔ میں نے اس سے کہا کہ مجھے تو یہ ٹھیک لگ رہے ہیں کیونکہ اسلام آباد سے گاڑی چلاتے ہوئے آ رہا ہوں اور اس دوران مجھے کچھ بھی عجیب محسوس نہیں ہوا۔ اس نے ٹائر کے نٹ کھولے اور پانی میں ڈبو کر مجھے کھایا تو حیران کن طور پر ٹائر میں پانچ پنکچر موجود تھے۔ میرے لئے یہ بہت پریشان کن بات تھی کیونکہ یہ ٹائر چند ماہ پہلے ہی بلیو ایریا سے ڈلوائے تھے۔ اس وقت رات کے 11 بجے تھے اور میرے پاس نئے ٹائر ڈلوانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔ مختصر یہ کہ رات کے اس پہر مجھے مجبوراً اس لڑکے کی بات ماننا پڑی۔ اس نے مجھے دو نئے چینی ٹائرز معراج کی قیمت 13 ہزار روپے بتائی۔ میں نے اتنی زیادہ قیمت پر اس سے شکایت کی کیونکہ یہ عمومی قیمت سے تقریباً دو گنا زیادہ تھی نیز موٹروے اتھارٹی کی متعین قیمتوں سے بھی اضافی تھی۔
ٹائرز میں پنکچر کی اصل حقیقت اس وقت معلوم ہوئی جب میں نے پہلے فیصل آباد اور بعد میں اسلام آباد سے ان کا معائنہ کروایا۔ یوں مجھے پتہ چلا کہ ورکشاپ والے لڑکے نے خود ٹائر کو نقصان پہنچایا اور یہ موٹروے پر معمول کی بات ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس نے میری آنکھوں کے سامنے کس طرح ٹائرز میں پنکچر کیے لیکن بہرحال یہی اصل بات تھی۔

آپ لوگوں سے یہی گزارش ہے کہ بھیرا سروس ایریا کے نزدیک 24/7 ورکشاپ کی دھوکے بازیوں سے محتاط رہیں۔ اور مجھ سمیت ہر شخص کو یہ بتائیں کہ ہم اس ورکشاپ پر مہنگی اشیا فروخت کی شکایت کس سے کریں؟

میں ایک اور فرد نے بھی اس حوالے سے اپنی آپ بیتی لکھ بھیجی، جو کچھ یوں ہے؛

میرے ساتھ بھی بھیرا سروس ایریا میں بالکل ایسا ہی ہوا۔ ہوا کا دباؤ چیک کرنے کا رکا تو دوکاندار نے کہا کہ دو ٹائروں میں پنکچر ہیں۔ میں نے کہا یہ ممکن نہیں کیوں کہ میرے ٹائر بالکل نئے ہیں اور صرف سات دن پہلے ہی تو میں نے لگوائے ہیں۔ مگر وہ پنکچر والا اپنی بات پر ڈٹا رہا۔ تب میں نے اس سے کہا تم ہوا چیک کرلو تاکہ میں اسلام آباد تک پہنچ سکوں۔ پھر میں وہاں سے چلا گیا اور تقریباً چھ دن بعد جب ورکشاپ جا کر ٹائر چیک کروائے تو وہ بالکل ٹھیک تھے۔  کسی بھی ٹائر میں ایک پنکچر تک نہ تھا۔ وہ بو لوگوں کو بے وقوف بنا کر جیبیں بھر رہے ہیں!
اس تحریر کا مقصد لوگوں کو اس دھوکے سے آگاہ کرنا تھا جو موٹروے پر معلوم بن چکے ہیں۔ جب بھی آپ کو موٹروے پر ٹار چیک کروانے ہوں تو اپنی آنکھیں کھلی رکھیں۔ مکمل چوکنا ہو کر مکینک کی تمام حرکات کا جائزہ لیتے رہیں کہ کہیں وہ آپ کے ٹائر کے ساتھ کچھ غلط تو نہیں کر رہا۔ صرف یہی ایک طریقہ ہے کہ اس ممکنہ مشکل سے بچنے کا۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top