نئے آٹو میکرز پاکستانی آٹو موبائل انڈسٹری میں جاری سیاست کو ختم کرنے کے خواہاں۔

hyundai-kia-logo1
 پاکستان کے آٹو موٹِو سیکٹرپرتین بڑے جاپانی آٹو میکرز ٹویوٹا، ہنڈااور سوزوکی کا راج ہے۔گزشنہ چند دہائیوں سے یہ مستقل بنیادوں پرغیرمناسب قیمت رکھتی ہر قسم کی گاڑیاں بنانے کی وجہ سے مارکیٹ پر راج کر رہے ہیں،اگر ان کی متعارف کرائی جانے والی گاڑیوں کا موازنہ پچھلے ماڈل سے کیا جائے تو ان میں سوائے ہلکی پھلکی تبدیلی کے کو ئی نئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔اس کی ایک بڑی مثال حالیہ ہنڈا سِٹی سے لی جا سکتی ہے جو دو فیس لفٹس رکھتی ہے،ہر بار محض ہلکی پھلکی باہری خوبصورتی اور کچھ مکینیکل اپ گریڈز کی جاتی ہیں۔یہ سب کچھ اب بہت جلداختتام پذیر ہونے والا ہے کیونکہ حکومت نے تین نئے آٹو میکرز کو اجازت دی ہے کہ وہ ملک کے آٹو موٹِو سیکٹر کا حصہ بنیں اور ملک بھر میں مینو فیکچرنگ پلانٹس لائیں جس کی مجموعی لاگت تقریباًتین سو بہتر ملین یو ایس ڈالر ز ہے۔
جو کمپنیاں انویسٹمنٹ کر رہی ہیں ان میں ایک سو نوے ملین یو ایس ڈالر کے ساتھ کِیا لکی،ایک سو چونسٹھ یو ایس ڈالر کے ساتھ نشاط گروپ اور اٹھارہ اعشاریہ ایک ملین کی انویسٹمنٹ لئے یونائیٹڈ موٹرز شامل ہیں۔ان تین نئے مینوفیکچررز کے تعارف کا مطلب ہے کہ اب پاکستانی آٹو موٹِو سیکٹر ان جاپانی مینو فیکچررز کی سیاست سے آزاد ہو جائے گا۔ان تینوں مینوفیکچررزکے ملک بھر میں تعارف کا مقصد موجودہ جاپانی مینوفیکچررز کی مارکیٹ پکڑ کو کمزور کرنا اور آپس میں نئے مقابلوں کی فضا پیدا کرنا ہے۔ان مینوفیکچررز کا تعارف ملک بھر کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ آٹو مو ٹِو سیکٹر سٹیبلشمنٹ کے پاکستانی لوگوں کے لئے پائے جانے والے جذبات کی اکاسی بھی کرتا ہے۔
٭مارکیٹ پلیس میں مقابلہ۔
جیسے ہی یہ نئے مینوفیکچررز پراڈکشن شروع کریں گے،اس ملک میں پہلی بارآٹو موٹِو مارکیٹ پلیس کے مقابلے کی فضاء پیدا ہو گی۔انڈسٹری میں پیدا ہونے والے مقابلے کی بدولت نئے ماڈلز میں جِدت دیکھنے میں آئے گی جس کا مطلب صارفین کے لئے کم قیمت میں بہتر گاڑی میسر آناہے۔پچھلے کئی سالوں سے ہنڈا، ٹویوٹا اور سوزوکی مارکیٹ میں بنا کسی مدِمقابل کے ہی راج کر رہے تھے۔اور آخر کار مقابلے کی یہ فضا ان مینوفیکچررز کو اپنی موجودہ رینج میں سے جدیدماڈلز متعارف کروانے کی جہت دے گی،  اوراگر تو وہ مارکیٹ میں اپنی جگہ پکڑے رہنا چاہتے ہیں توانہیں کم قیمت اور نئی خصوصیات کی حامل گاڑیاں متعارف کروانا ہوں گی۔ اس سے پہلے کہ یہ مینو فیکچر رزاپنا سلسلہ شروع کریں مقامی مینو فیکچررز جیسا کہ سوزوکی نے پہلے سے ہی خطرے کی فضا کو بھانپ لیا ہے اور انہوں نے اپنے نئے پلانٹ پر چار سوپچاس ملین ڈالرز کی انویسٹمنٹ کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں،یہاں تک کہ گورمنٹ نے بھی نئے آنے والے اور پہلے سے موجود برینڈز کو انسینٹِو بڑھائے جانے کی آفر کر دی ہے۔ انڈس موٹرز جو کہ ٹویوٹا گاڑی کے مینو فیکچرر ہیں وہ بھی اپنی پروڈکشن کو پینسٹھ ہزاریونٹس تک بڑھانے اور ساتھ میں اپنے میعار کو مزید بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، ہنڈا اٹلس بھی اسی تناظر میں اپنا نیا لائحہ عمل بنا رہی ہے۔
٭  ہر طرز کے ماڈلزکی آپشن بکثرت ہو گی۔
ہم چند ہی سالوں میں یقینی طور پر ہر طرزکے نئے ماڈلز دیکھنے والے ہیں،اگر آپ مو جودہ مارکیٹ کی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو آپ کو آٹھ سو سی سی طرز کی گاڑیوں پر سوزوکی مہران کا راج نظر آئے گا۔ لیکن جیسے ہی تمام آٹو مینو فیکچر رز ہر طرز کے نئے ماڈلز متعارف کروائیں گے یہ عمل بہت جلد کم ہو جائے گا۔صارفین کے پاس اپنی گاڑی کا انتخاب کر نے کے لئے بہت زیادہ آپشنز موجود ہوں گی۔اس وقت صارفین کو سمجھوتا نہیں کرنا پڑے گا جب ہر صارف کو اس کی ضروریات کے مطابق ہر طرح کاماڈل میسر ہو گا۔
٭   کم قیمت۔
پاکستان بھر میں آٹو موبائلز کی قیمتیں چند سالوں سے بتدریج بڑھتی چلی جا رہی ہیں،اس زیادتی کو کم کرنیم میں بھی یہ نئے آنے والے تین نئے مینو فیکچرر ز کافی مددگار ثابت ہو ں گے،کیونکہ اس کی وجہ سے ملکی آٹو موٹِو سیکٹر کے ہر کھلاڑی کواپنی قیمت کم کرنے کی شہہ ملے گی۔جب مقابلے کی فضا تیز ہو گی،دنیا بھر کے آٹو میکرز کو محصوص ہو گا کہ وہ مارکیٹ میں بنے رہنے کے لئے اپنی قیمت کو کم کریں۔بعض جگہوں پر انہیں مفت سن روف یااپ گریڈڈ سٹیریو سسٹم جیسی آفرز دینے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔
 آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان نئے آٹو مینو فیکچررز کا تعارف پاکستانی آٹو میکر سیکٹر میں کیسا ثابت ہوتا ہے؟ آپ سمجھتے ہیں کہ کیایہ خاطر خواہ تبدیلی لا سکیں گے،یا انہیں ناکامی کا سامنا ہو گا؟
نیچے کمنٹ دے کر ہمیں اپنی رائے جاننے کا موقع دیں۔

  • Mian

    Excellent

Top