سوزوکی ویتارا کی پاکستان آمد؛ تمام معلومات اور تفصیلی جائزہ


پاکستان میں نئی آٹو پالیسی برائے 2016-2021 بظاہر سودمند نظر آرہی ہے اور اس کے نفاذ کے بعد سے اب تک متعدد غیر ملکی ادارے پاکستان میں کاروبار کی شروعات میں دلچسپی ظاہر کرچکے ہیں۔گزشتہ کئی ماہ سے ہمیں ایسی خبریں بھی مل رہی ہیں کہ گاڑیاں بنانے والے بہت سے بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارے مثلاً رینالٹ (رینو)، بی ایم ڈبلیو، آوڈی وغیرہ پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری اور فروخت کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ جرمن کار ساز اداروں بی ایم ڈبلیو اور آوڈی کی گاڑیاں تیار شدہ حالت میں درآمد کر کے یہاں فروخت کی جارہی ہیں اور اب یہ ادارے پاکستان میں کم قیمت گاڑیوں کی پیشکش سے اپنے صارفین کی تعداد میں اضافے کے خواہشمند نظر آرہے ہیں۔ ان تمام مثبت سرگرمیوں کو گاڑیوں کے شعبے میں تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا جائے تو بالکل غلط نہ ہوگا۔ یہ صورتحال شعبے میں اجارہ داری قائم رکھنے کے خواہاں اداروں ٹویوٹا، سوزوکی اور ہونڈا کے لیے مزید پریشانی کا باعث ہوگی۔ یاد رہے کہ بگ تھری کے نام سے مشہور یہ جاپانی ادارے پہلے ہی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی درآمدات پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ لیکن ایک خریدار اور صارف ہونے کی حیثیت سے یہ صورتحال بہت خوش آئند ہے کیوں کہ اس سے شعبے میں مسابقت کی فضا قائم ہوگی اور خریداروں کو بہتر سے بہتر گاڑیوں کے انتخاب کا موقع میسر آئے گا۔

گزشتہ دہائی اور اس کے بعد کراس اُووَر (crossover) گاڑیوں کی مقبولیت میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ ہر کار ساز ادارے کی کوشش ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کو کراس اوور انداز میں بھی متعارف کروائے۔ کراس اوورز کا یہ رجحان نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ پاکستان میں بھی بہت تیزی سے پنتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس کی تابندہ مثال ہونڈا وزل کی صورت میں ہمارے سامنے ہے کہ جسے جاپان سے بڑی تعداد میں پاکستان منگوایا جارہا ہے۔ جاپانی ہونڈا وزل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے ہی ہونڈا ایٹلس کو پاکستان میں HR-V متعارف کروانے کی طرف دھکیلا۔ تاہم 10 ماہ گزرجانے کے باوجود ہونڈا HR-V وہ مقبولیت اور توجہ حاصل کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے کہ جو ہونڈا وزل کو حاصل ہے۔ بظاہر اس کی وجہ ہونڈا وزل کی منفرد خصوصیات اور قیمت کا فرق ہے جو اسے HR-V سے زیادہ بہتر گاڑی ثابت کر رہا ہے۔ حال ہی میں آوڈی پاکستان کی جانب سے کم قیمت کراس اوور Q2 متعارف کروائے جانے کی خبر بھی سامنے آچکی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نہ صرف ملکی بلکہ غیرملکی ادارے بھی چھوٹی کراس اوور گاڑیوں میں خریداروں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ گو کہ نئی آٹو پالیسی سے ملک کی عوام اور نئے سرمایہ کار بہت مطمئن نظر آتے ہیں تاہم موجودہ کار ساز ادارے اس سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ گاڑیاں فروخت والا ادارہ پاک سوزوکی بھی آر یا پار والی حکمت عملی اپنانے لگا ہے۔ اس کی مثال پاک ویلز پر سوزوکی ویتارا کی آمد سے متعلق خبر سے بھی لی جاسکتی ہے کہ جس نے چند ہی گھنٹوں میں انٹرنیٹ پر دھوم مچادی۔ اس خبر کے مطابق نئی سوزوکی ویتارا کا پہلا قافلہ کراچی میں پورٹ قاسم بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے اور بہت جلد اسے باضابطہ طور پر فروخت کے لیے پیش کردیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: عنقریب پیش کی جانے والی سوزوکی ویتارا کی خفیہ تصاویر پاک ویلز کو حاصل

سوزوکی ویتارا کا تعارف

سوزوکی ویتارا دراصل جاپانی ادارے کی جانب سے کراس اوور گاڑیوں کی فہرست میں شامل ہونے کی کوشش ہے۔ اسے عالمی سطح پر پہلی مرتبہ 1988 میں متعارف کروایا گیا اور اب تک ویتارا کی چار جنریشنز پیش کی جاچکی ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ جب اپنی چھوٹی گاڑیوں کی وجہ سے شہرت پانے والے ادارے سوزوکی نے آف-روڈ گاڑیوں کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہو۔ اس سے قبل 1970 کی دہائی میں سوزوکی جمنی کے نام سے بھی ایک گاڑی پیش کی جاچکی ہے۔ سوزوکی جمنی کی خاطر خواہ کامیابی کے بعد سوزوکی نے اس طرز کی مزید بہتر گاڑیوں کی پیشکش کا سلسلہ جاری رکھا۔ جدید سوزوکی ویتارا کا ظاہری انداز بہت سادہ اور پرانی جنریشن سے ملتا جلتا کہا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود یہ کراس اوور خاصی اسپورٹی اور پھرتیلی معلوم ہوتی ہے۔ سوزوکی ویتارا کا مختصر نقشہ کھینچا جائے تو اسے آپ ایک ایسی ہیچ بیک سمجھ سکتے ہیں کہ جس کی اونچائی زیادہ ہو، فرش زمین سےکافی اوپر ہو اور اس میں بڑے پہیےلگے ہوئے ہیں۔ درحقیقت زیادہ تر کراس اوورز کو ہیچ بیک پلیٹ فارم ہی پر تیار کیا جارہا ہے تبھی ان کی مشابہت چھوٹی ہیچ بیک سے بہت ملتی ہے۔ اب تک سوزوکی ویتارا جہاں بھی متعارف کروائی گئی وہاں اسے اپنے حریف گاڑیوں سے زیادہ پزیرائی حاصل ہوئی۔ سوزوکی ویتارا کی پیمائش درج ذیل ہے۔ اس کے ساتھ ہونڈا وزل کی پیمائش بھی شامل کر رہا ہوں تاکہ قارئین ویتارا کے حجم کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

سوزوکی ویتارا کی پیمائش

پیمائش (ملی میٹر) / گاڑی کا نام سوزوکی ویتارا ہونڈا وزل
لمبائی 4175 4295
چوڑائی 1775 1770
اونچائی 1610 1605
ویل بیس 2500 2610
گراؤنڈ کلیئرنس 185 185

سوزوکی ویتارا میں شامل انجن

بین الاقوامی سطح پر سوزوکی ویتارا کو پیٹرول اور ڈیزل دونوں ہی انجن کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ان میں M16A، K14-DITC اور D16AA انجن شامل ہیں۔ M16A کے نام سے پیش کیا جانے والا نجن 1600cc نیچرلی ایسپریٹڈ انجن ہے جو 118 ہارس پاور کے ساتھ 4400 آر پی ایم پر 156 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرتا ہے۔ K14C-DITC دراصل 1400cc ٹربو چارجڈ انجن ہے جسے 1.4L بوسٹر جیٹ بھی کہتے ہیں۔ یہ انجن 138 ہارس پاور اور 1500 سے 4000 آر پی ایم پر 220 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرسکتا ہے۔ تیسرا D16AA انجن دراصل 1600cc ڈیزل انجن ہے جو 118 ہارس پاور اور 330 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرسکتا ہے۔ تینوں ہی انجن اگلے پہیوں کی قوت سے چلنے یا تمام پہیوں کی قوت سے چلنے کی سہولت، جسے “آل گرپ” بھی کہتے ہیں، فراہم کرتے ہیں۔ تمام ہی انجن کے ساتھ سوزوکی ویتارا میں 5 –اسپیڈ مینوئل یا-اسپیڈ آٹو میٹک گیئر باکس کا انتخاب موجود ہے۔ سوزوکی ویتارا کے بہترین ماڈل یعنی ویتارا S میں 1400cc انجن پیش کیا جاتا ہے۔ ویتارا کے تمام ہی ماڈل متعدد جدید خصوصیات بشمول قابل ترتیب اسٹیئرنگ سسٹم، اگلی اور پچھلی جانب ڈسک بریکس کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ سسپنشن کی اگر بات کریں تو ویتارا کے تمام ماڈلز میں اگلی جانب میکفرسن اسٹروٹ بمع کوائل جبکہ پچھلی جانب ٹورسیون بیم بمع کوائل استعمال کی جاتی ہے۔ ویتارا میں 17 انچ کے الائے ویلز کے ساتھ 215/550 کے پہیے لگائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سوزوکی ویتارا کا تاریخی جائزہ

سوزوکی ویتارا کے انجن

نئی سوزوکی ویتارا کے فیول ٹینک کی گنجائش 47 لیٹر ہے اور دونوں ہی انجن بہت اچھی مسافت فراہم کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ 1400cc انجن ایک لیٹر میں 18.18 کلومیٹر جبکہ 1600cc انجن مینوئل گیئر کے ساتھ ایک لیٹر میں 18.75 کلومیٹر اور آٹومیٹک گیئر کے ساتھ 18.18 کلومیٹر تک سفر کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

پاکستان میں پیٹرول گاڑیوں کو ترجیح دینے کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ سوزوکی ویتارا صرف پیٹرول انجن کے ساتھ ہی پیش کیے جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ پاک سوزوکی کوئی ایک یا دونوں ہی پیٹرول انجن متعارف کروائے۔

سوزوکی ویتارا کی قیمت

برطانیہ میں 1400cc انجن، مینوئل گیئر اور ‘آل گرپ’ کے ساتھ پیش کی جانے والی سوزوکی ویتارا S کی ابتدائی قیمت 21,749 برطانوی پاؤنڈ ہے جبکہ یہی ماڈل آٹو میٹک گیئر باکس اور ‘آل گرپ’ کے ساتھ 23,099 برطانوی پاؤنڈ میں دستیاب ہے۔ دوسری طرف 1600cc انجن کے ساتھ پیش کیے جانے والے ماڈلز کا جائزہ لیں تو ان کی قیمت سہولیات اور خصوصیات کے اعتبار سے کافی مختلف نظر آتی ہے۔ اس انجن کے ساتھ دستیاب ویتارا کا سادہ ماڈل 14,749 برطانوی پاؤنڈ جبکہ تمام سہولیات سے آراستہ اور ‘آل گرپ’ خصوصیت کا حامل ماڈل 22,899 برطانوی باؤنڈ میں فروخت کیا جارہا ہے۔ قیمت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان میں 1600cc کو چند مخصوص پیکجز کے ساتھ متعارف کروائے جانے کے امکانات زیادہ ہیں تاکہ اس کی قیمت 30 لاکھ سے کم رکھی جاسکے۔ پاک ویلز کی حاصل کردہ خفیہ تصاویر میں نظر آنے والی سوزوکی ویتارا کے عقب میں ‘آل گرپ (ALLGRIP)’ لکھا ہوا دیکھا جاسکتا ہے جس سے یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان میں چاروں پہیوں کی قوت سے چلنے کی صلاحیت والی گاڑی میں متعارف کروائی جائے گی۔ البتہ یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ آیا پاکستانی خریداروں کو دونوں انجن کے انتخاب کا موقع دیا جاتا ہے یا نہیں۔

ایسی بھی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان میں سوزوکی ویتارا کی قیمت 32 سے 35 لاکھ روپے رکھی جائے گی۔ اگر واقعی سوزوکی اس قیمت میں گاڑی متعارف کروانے جارہی ہے تو امید رکھ سکتے ہیں کہ ہمیں ایک بہترین ماڈل پیش کیا جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فی الوقت سوزوکی ویتارا صرف ہنگری کے شہر استرگوم میں تیار کی جارہی ہے اور وہیں سے دیگر 70 سے زائد ممالک میں برآمد کی جاتی ہے۔

سوزوکی ویتارا کی خصوصیات

سوزوکی ویتارا کے اندر جھانکیں تو یہ حصہ روایتی سوزوکی گاڑیوں جیسا بالکل سیدھا سادا ہے۔ اندرونی حصے (interior) کی تیاری میں استعمال ہونے والا سازو سامان بہت اعلی معیار کا تو نہیں لیکن اسے برا بھی نہیں کہا جاسکتا۔ دستیاب سہولیات کی بات کریں تو ماڈل اور قیمت کے اعتبار سے ان میں کمی بیشی موجود ہے۔ 1600cc ویتارا کے ہر ماڈل میں مختلف خصوصیات پیش کی جاتی ہیں اور اسی اعتبار سے ان کی قیمت مقرر کی جاتی ہے جبکہ 1400cc ویتارا S میں تقریباً تمام ہی خصوصیات اور سہولیات شامل ہوتی ہیں۔ اور یہی امر 1600cc کے سادے ماڈل اور 1400cc ویتارا S کی قیمت میں بنیادی فرق کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

یہاں پر میں سوزوکی ویتارا S کی خصوصیات کا تذکرہ کروں گا تاکہ قارئین اس بات کا اندازہ لگاسکیں کہ پاکستان میں سوزوکی ویتارا کن خصوصیات کے ساتھ پیش کی جاسکتی ہے۔ سوزوکی ویتار S کی چند خصوصیات دیگر 1600cc ماڈل میں بھی شامل ہیں جبکہ 1600cc کے بہترین ماڈل کی تمام خصوصیات 1400cc کا حصہ ہیں۔ اگر پاک سوزوکی ویتارا S کو یہاں متعارف کرواتی ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس میں وہی تمام خصوصیات موجود ہوں جو دیگر ممالک میں پیش کی جاتی ہیں۔

سوزوکی ویتارا S میں 4WD نظام کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ اس میں انجن خود کار طریقے سے اسٹارٹ/بند کرنے کی خصوصیت بھی شامل ہے جس سے کسی سگنل پر گاڑی رکنے کی صورت میں انجن ازخود بند ہوجاتا ہے اور اس سے ایندھن کم خرچ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹائر میں ہوا کو جانچنے والا نظام TPMS بھی موجود ہے جو تمام ٹائروں میں ہوا کی مناسب تعداد سے باخبر کرتا ہے۔ یورپ میں سوزوکی ویتارا S کے اندر 7 انچ کی LCD بھی دی جاتی ہے جو اینڈرائیڈ آٹو یا ایپل کار پلے سے منسلک کی جاسکتی ہے۔ سوزوکی ویتارا S میں 4 اسپیکرز اور 2 ٹویٹرز اور بلوٹوتھ سے منسلک کرنے کے علاوہ اسٹیئرنگ ویل پر موجود بٹن کے ذریعے موبائل فون سے منسلک ہونے کی بھی خاصیت شامل ہے۔ گو کہ یورپ میں سوزوکی ویتارا S کو نیوی گیشن کے ساتھ پیش کیا جاتاہے تاہم یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی ہے کہ یہ سسٹم پاکستان میں پیش کیا جائے گا اور مقامی راستوں کے لیے کارآمد ہوگا یا نہیں۔ لیکن چونکہ یہ گاڑی بالکل تیار شدہ حالت میں یورپ ہی سے درآمد کی گئی ہے اس لیے 1400cc ویتارا میں 7 انچ کی LCD شامل ہونے کا امکان بہرحال موجود ہے۔ اس حوالے سے اچھی امید رکھی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ سوزوکی ویتارا میں سنگل زون آٹو میٹک کلائمٹ کنٹرول بھی شامل ہے۔ حفاظتی سہولیات سے متعلق بات کریں تو سوزوکی نے کسی بھی ماڈل میں اس پر سمجھوتا نہیں کیا۔ یورپ میں گاڑیوں کی جانچ کرنے والی ایجنسی Euro-NCAP نے ویتارا کو کریش ٹیسٹنگ میں سب سے زیادہ 5 ستارے دے رکھے ہیں۔ویتارا کے تمام ہی ماڈلز میں امموبلائزر کے ساتھ آگے، دائیں و بائیں اور نیچے ایئر بیگز بھی دیئے گئے ہیں۔آل گرپ ماڈلزمیں شامل دیگر نمایاں خصوصیات میں اینٹی لاک بریکنگ سسٹم ABS، الیکٹرانک بریک ڈسٹریبیوشن، بریک اسسٹ سسٹم، الیکٹرانک اسٹیبلٹی کنٹرول، ٹریکشن کنٹرول، اونچائی اور ڈھلوان پر گاڑی کو بہتر گرفت فراہم کرنے کا نظام (جیسا کہ ہونڈا سوک X میں ہل اسٹارٹ اسسٹ کے نام سے شامل ہے)، ریڈار سے چلنے والا کروز کنٹرول، LED لائٹس، برسات کو محسوس کرنے والے وائپرز اور برقی فولڈنگ مررز شامل ہے۔ اس کے علاوہ ویتارا S میں چمڑے کی نشستیں اور پینارومک چھت بھی دی جارہی ہے۔ مجموعی طور پر تکنیکی لحاظ سے ویتارا S ایک بہترین گاڑی ہے جو دیگر ہم پلہ گاڑیوں سے ایک قدم آگے معلوم ہوتی ہے۔

سوزوکی ویتارا کی پاکستان آمد اور امکانات

فی الحال یہ بات واضح نہیں کہ آیا ہمیں 1400cc ماڈل بھی دستیاب ہوگا یا نہیں اور اگر دستیاب ہوگا تو اس میں یہ خصوصیات بھی شامل ہوں گی یا نہیں۔ میں نے اپنی استطاعت کے مطابق تھوڑی بہت تحقیق کی جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ پاک سوزوکی ویتارا میں کیا کچھ پیش کرنے والا ہے۔ پورٹ قاسم پر سوزوکی ویتارا کے قافلے میں شامل گاڑیوں کا بغور معائنہ کرنے پر یہ ظاہر ہوا کہ گاڑی میں الائے ویلز شامل ہیں اور سائیڈ مررز بھی گاڑی کے رنگ سے مشابہ ہیں۔ پھر میں نے دیگر ممالک میں دستیاب 1400cc اور 1600cc ویتارا کا بغور جائزہ لیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ظاہری انداز میں یہ دونوں گاڑیاں کیسے مختلف ہیں؟ اس سوال کے جواب میں مجھے دو چیزیں بہت واضح نظر آئیں کہ جو دونوں ماڈل کو ایک دوسرے سے مختلف ظاہر کرتی ہیں۔ 1400cc ماڈل میں نقرئی (سلور) رنگ کے سائیڈ مررز اور سیاہ (کالے) الائے ویلز ہوتے ہیں۔ جبکہ پاکستان آنے والی سوزوکی ویتارا میں یہ دونوں ہی چیزیں شامل نہیں ہیں اس سے یہی خیال مزید تقویت پاتا ہے کہ پاک سوزوکی یہاں 1600cc ماڈل متعارف کروانے جارہا ہے۔ سادے ماڈل کے علاوہ ویتار کے باقی تمام ماڈل بشمول 1400cc اور 1600cc ماڈل میں رنگین شیشے استعمال کیے جاتے ہیں تاہم پاکستان میں انہیں غیر قانونی قرار دیئے جانے کے باعث ان کی شمولیت ممکن نہیں ہوگی۔

پاک ویلز ذرائع کے مطابق پاک سوزوکی بہت جلد ویتارا پیش کرنے جارہا ہے۔ اوپر 1400cc ماڈل کی بیان ہونے والی خصوصیات میں سے کئی ایک 1600cc ماڈل میں بھی شامل ہیں لہٰذا ہم امید کرسکتے ہیں کہ پاک سوزوکی ان میں سے اکثر کی دستیابی یقینی بنائے گا اور غیر معمولی قیمت میں جدید خصوصیات سے عاری گاڑی پیش کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ ایک بات جس کا مجھے یقین ہے وہ یہ کہ سوزوکی ویتارا کا معیار مقامی تیار شدہ گاڑیوں سے کہیں بہتر ہوگا کیوں کہ اسے مکمل تیار شدہ حالت میں درآمد کیا جارہا ہے۔ اگر جدید خصوصیات کی حامل سوزوکی ویتارا کو مناسب قیمت اور متاثر کن تشہیری مہم کے ساتھ پیش کیا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ یہ کراس اوور خریدنے کے خواہشمند بہت سے افراد کو اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب ہوجائے۔ مجھے امید ہے کہ سوزوکی کزاشی کی ناکامی سے پاک سوزوکی نے بہت کچھ سیکھا ہوگا اور اب سوزوکی ویتارا کی پیشکش نہ صرف پاک سوزوکی بلکہ پاکستانی صارفین کو بھی کزاشی کا غم غلط کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

سوزوکی ویتارا کی ویڈیوز

1400ccسوزوکی ویتارا S کی تصاویر

1600cc سوزوکی ویتارا کی تصاویر


Fazal Wahab

I am Civil Engineer by Profession and have love for High Rise Towers, Underground construction and Carbon Fiber Composites, automobiles is my first love. Its my passion to know and share about anything new in automobile industry.

Top