ٹویوٹا ہائی لکس ریوو – 4×4 گاڑیوں کا نیا بادشاہ!


رواں ماہ یعنی دسمبر 2016 کے اوائل میں انڈس موٹرز کمپنی نے نئی ٹویوٹا فورچیونر اور ہائی لکس ریوُو متعارف کروائی ہیں۔ پاکستان میں نئی ٹویوٹا ہائی لکس ریوُو کے آٹھ مختلف ماڈل متعارف کروائے گئے ہیں جن میں 4×4، 4×2، سنگل کیبن، ڈبل کیبن اور آٹو میٹک و مینوئل گیئر باکس کی حامل گاڑیاں شامل ہیں۔ ان تمام ہی ماڈل میں 3000cc ڈیزل انجن (1KD) پیش کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں نئی ٹویوٹا فورچیونر اور ہائی لکس ریوُو پیش کردی گئی

آج ہم جس گاڑی کا تفصیلی جائزہ لینے جارہے ہیں وہ ٹویوٹا ہائی لکس ریوو V ہے۔ یہ ہائی لکس ریوُو کے مہنگے ترین بہترین ماڈل میں سے ہے۔ البتہ یہ بات واضح کرتا چلوں کہ ہمیں دستیاب ماڈل آزمائش کے لیے منگوایا گیا تھا اس لیے ممکن ہے کہ مارکیٹ میں برائے فروخت ماڈل سے یہ کچھ مختلف ہو۔تو آئیے اب تفصیل سےٹویوٹا ہائی لکس ریوُو پر بات کرتے ہیں۔

ظاہری انداز
نئی ہائی لکس ریوُو کا ظاہری انداز پہلے پیش کیے جانے والے تمام ماڈل سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی تیاری میں بھی ‘کین ڈیزائن’ طرز بہت نمایاں ہے جو پاکستان میں دستیاب نئی ٹویوٹا گاڑیوں جیسا کہ کرولا وغیرہ میں بھی استعمال کی جاچکی ہے۔ ریوُو کی خوبصورتی اور جاذبیت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ٹویوٹا نے اس تن ومند گاڑی کی تیاری میں کس قدر محنت اور جانفشانی سے کام کیا ہے۔ پچھلی ہائی لکس ویگو کے مقابلے میں اس ماڈل کے پیچھے خاصی بڑی اور چوڑی اسٹاپ لائٹس بھی دی گئی ہیں۔

اگلے حصے پر نظر ڈالیں تو یہاں پروجیکشن ہیڈلائٹس کے ساتھ LED لائٹس بھی نظر آئیں گی جو سفر کے دوران ڈرائیور کو بہت سہولت فراہم کرتی ہیں۔ ان لائٹس میں انسگنیا (insignia) کی خصوصیت بھی شامل ہے جس کے ساتھ ہیڈلائٹس اور فوگ لائٹس کو ازخود فعال اور غیر فعال کرنے کی سہولت بھی شامل ہے۔ ایک طویل عرصے سے ٹویوٹا ہائی لکس ریوُو میں ان چیزوں کی کمی محسوس کی جارہی تھی جو بالآخر انڈس موٹرز نے فراہم کر ہی دیں۔

ہائی لکس ریوو کے ظاہری انداز کو مزید جذباتی انداز بنانے کا سہرا بونٹ پر موجود انٹرکولر ڈکٹس کے سر باندھا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ان کی موجودگی سے ریوو کو ایک نئی شناخت حاصل ہوئی ہے جو لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ اس کے علاوہ ریوُو میں 18 انچ الائے ویلز بھی شامل کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پچھلے ماڈلز میں 17 انچ کے ویلز پیش کیے جاتے تھے۔

اندرونی حصہ
اگر نئی ہائی لکس ریوُو کا موازنہ ماضی قریب میں پیش کی جانے والی ویگو سے کیا جائے تو سب سے زیادہ قابل ذکر بہتری کارکردگی، خوبصورتی اور اندرونی حصے کے معیار، انداز اور تخلیق میں دیکھی جاسکتی ہے۔ گاڑی کے اندر بیٹھ بہت اچھا اور معیاری ساز و سامان نظر آتا ہے جسے بہت سلیقے اور مہارت سے لگایا گیا ہے۔ڈیش بورڈ پر نظر ڈالیں تو یہ بھی پچھلی جنریشن ہائی لکس کے مقابلے میں خاصہ بہتر اور نئے پن کا احساس لیے ہے۔ سینٹر کنسول کی تیاری میں پلاسٹک اور کہیں کہیں چمڑے کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اسٹیئرنگ ویل کو بہتر گرفت کے لیے چمڑے کے غلاف سے ڈھانپا گیا ہے۔

ہائی لکس ریوو میں 4.2 ٹچ اسکرین پر مشتمل انفارمیشن کلسٹر بھی دیا گیا ہے۔ یہ سفری معلومات کے علاوہ گاڑی میں شامل مختلف خصوصیات استعمال کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ ٹویوٹا نے نئی ریوو میں شامل اسٹیرنگ پر ملٹی میڈیا بٹن بھی شامل کیے ہیں جن کی مدد سے ڈرائیور اب مزید آسانی سے آڈیو اور ویڈیو کنٹرول کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیئرنگ پر آواز پہچاننے کی سہولت فعال کرنے کا بھی بٹن موجود ہے جس کی بدولت بلوٹوتھ اور ٹیلی فون کنکٹویٹی کو آواز کی مدد سے بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ہائی لکس ریوو کے بہترین ماڈل میں کروز کنٹرول بھی دیا گیا ہے جسے کنٹرول کرنے کا بٹن بھی اسٹیئرنگ ویل ہی میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دس لاکھ ہائی لکس کی فروخت پر ٹویوٹا کا نیا تحفہ

روایتی 4×4 گاڑیوں کی طرح ہائی لکس ریوو میں بھی الیکٹرانک کنٹرول ہائی اور اور لو رینج سوئچ دیا گیا ہے۔ یہ سہولت بڑی حد تک ٹویوٹا کی دیگر بڑی اور مہنگی 4×4 گاڑیوں جیسا کہ لینڈ کروزر وغیرہ سے مشابہ ہے۔ اس کے علاوہ ریوو میں ڈیجیٹل کلائمنٹ کنٹرول بھی موجود ہے جو پاکستان کے گرم موسم میں بھی مناسب کارکردگی پیش کرتا ہے۔ گو کہ پچھلی نشستوں کے لیے علیحدہ AC وینٹس نہیں دیئے گئے تاہم ایئرکنڈیشننگ کی مجموعی کارکردگی قابل تعریف ہے۔ ڈیش بورڈ پر ایئرکنڈیشننگ اور سینٹر کنسول کے درمیان ایک ڈیجیٹل کلاک بھی دی گئی ہے۔

ٹویوٹا ریوو میں 7 انچ کی ٹچ اسکرین بھی لگائی گئی ہے جو عقبی کیمرے کے علاوہ یو ایس بی، بلوٹوتھ اور آڈیو کیبل سےبھی منسلک کی جاسکتی ہے۔گاڑی میں چھ اسپیکر بھی موجود ہیں جو تفریح کا لطف دوبالا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس میں گاڑی پارک کرنے میں سہولت کے لیے بھی ایک کیمرہ دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اندرونی حصے میں ریڈنگ لائٹس بھی دی گئی ہیں۔ سینٹر کنسول پر 12 والٹ کا ساکٹ اور ڈفرینشل لاک بھی موجود ہے۔ ڈرائیور کی نشست برقی کنٹرول سے لیس ہے جبکہ تمام ہی نشستوں پر کانسی کے رنگ سے مشابہ چمڑے کا غلاف موجود ہے۔ اگلی نشستوں کے درمیان 220 واٹ کا برقی ساکٹ بھی دیا گیا ہے جس کی مدد سے آپ مختلف ڈیوائسز چارج کرسکتے ہیں۔

ٹویوٹا ریوو میں سیکوئنشل گیئر ناب کے ساتھ 5-اسپیڈ آٹومیٹک گیئر باکس دیا گیا ہے۔ سینٹر کنسول، ڈرائیور کے برابر والی نشست کے سامنے اور پچھلی نشستوں کے وسط میں کپ ہولڈرز دیئے گئے ہیں۔ ڈیش بورڈ میں ایک اشیا خانہ بھی دیا گیا ہے جہاں چھوٹا موٹا سامان رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑی میں کول باکس بھی شامل ہے جو اب تک صرف مہنگی ترین SUVs میں پیش کیا جاتا تھا۔ لیگ روم کی اگر بات کریں تو پچھلی نشستوں پر بہت زیادہ جگہ دستیاب نہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں گاڑی کا مجموعی ڈیزائن اور نشستوں کی پوزیشن شامل ہیں۔ البتہ نشستوں کے بہترین معیار اور ہیڈ روم کے معاملے میں ریوو نے بہت متاثر کیا ہے۔

حفاظتی سہولیات اور کارکردگی
سفر کے دوران سب سے پہلے محسوس کی جانے والی چیز گاڑی میں گھسنے والی ہوا اور اس کے انجن کی آواز ہوتی ہے لیکن ہائی لکس ریوُو میں یہ دونوں ہی چیزیں پریشان نہیں کرتیں۔ پرانی ویگو کے مقابلے میں دیکھا جائے تو اس نئی گاڑی میں انجن یا کیبن کی کھٹر پٹر جیسی آوازیں سنائی نہیں دیتیں۔ مختلف صورتحال اور حالات میں ریو کی کارکردگی خاصی مناسب رہی ہے۔ حفاظی سہولیات کی بات کریں تو اس میں تین ایئر بیگز شامل ہیں جن میں سے ایک اسٹیئرنگ ویل پر، دوسرا ڈرائیور کے سامنے اور ایک ڈرائیور کے برابر والی نشست کے سامنے موجود ہے۔ اس کے علاوہ ریوو میں ABS اور EBD بھی شامل ہیں جس سے گاڑی کے ہر ٹائر کو یکساں قوت کے ذریعے جلد از جلد روکا جاسکتا ہے۔

حتمی رائے
پاکستان میں اگر کسی کو 40 لاکھ روپے میں 4×4 گاڑی خریدنی ہو تو اسے دس سال پرانی ٹویوٹا پراڈو کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر بجٹ تھوڑا زیادہ ہو تو درآمد شدہ ٹویوٹا ریوو 60 سے 65 لاکھ روپے میں خریدی جاسکتی ہے۔ یہاں ٹویوٹا انڈس موٹرز کی تعریف کی جانی چاہیے کہ جنہوں نے مکمل مارکیٹ ریسرچ کے بعد اس گاڑی کو انتہائی مناسب قیمت پر متعارف کروایا۔4×4 خاصیت اور نئے و بہتر انجن کی حامل یہ گاڑی ریلی ڈرائیورز کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوسکتی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے ٹویوٹا ہائی لکس مقامی 4×4 مارکیٹ میں بے تاج حکمرانی کرتی آرہی ہے جس کی ایک وجہ مسابقت کی کمی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود نئے ماڈل کے بہتر ڈیزائن، سسپنشن اور کارکردگی کو پچھلے سالوں کی پرانی ہائی لکس ویگو سے موازنہ کیا جائے تو اسے بلاشبہ پاکستانی مارکیٹ کا ‘بادشاہ’ قرار دیا جاسکتا ہے۔

prices


Top