نائٹروجن سے پھلائے گئے ٹائروں کے فوائد اور نقصانات

lamborghini-mystery-car-paris-motor-show-img_2

ایک دہائی قبل نسان جی ٹی آر کی لانچ کے موقع پر گاڑیوں سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے یہ خبر بہت حیران کن تھی کہ نسان جی ٹی آر کے ٹائروں میں نائٹروجن بھری ہوئی ہے۔ اس بارے میں نسان اور بہت سے صحافیوں کا یہ ماننا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ نسان جی ٹی آر مشکل جگہ پر بھی بہت عمدہ موڑ کاٹتی ہے۔ آپ اپنی گاڑی کے ٹائروں میں عام ہوا کی جگہ نائٹروجن بھروا کر کیا فوائد حاصل کرسکتے ہیں؟ درحقیقت عام ہوا میں بھی 78 فیصد نائٹروجن ہی ہوتی ہے مگر نائٹروجن ٹائر کے فوائد حاصل کرنے کے لیے گاڑی کے ٹائروں میں 93 سے 95 فیصد تک خالص نائٹروجن کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

نائٹروجن ٹائر کے فوائد

ہم اپنے ٹائروں کو پھلانے کے لیے جو عام ہوا استعمال کرتے ہیں اس میں 21 فیصد تک آکسیجن شامل ہوتی ہے اور آکسیجن کا نقصان یہ ہے کہ اس کے مالیکیول بہت چھوٹے ہونے کی وجہ سے ٹائروں میں موجود مائیکر سکوپ سے دیکھے جانے والے سوراخوں سے باآسانی خارج ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں گاڑی کے ٹائروں کو پھلانے کے لیے دوبارہ اس میں ہوا بھروانا پڑتی ہے۔ نائیٹروجن کے مالیکیول قدرتی طور پر آکسیجن سے قدرے بڑے ہوتے ہیں جس وجہ سے انہیں ٹائروں میں موجود ان چھوٹے سوراخوں سے خارج ہونے میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے جس کی وجہ سے آپ کو گاڑی میں بار بار ہوا بھروانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

اگر آپ کی گاڑی کے چاروں ٹائروں میں سے 1 پی ایس آئی ہوا نکل جائے تو ایک اندازے کے مطابق آپ کی گاڑی کی فیول اکانومی 0.3 فیصد کم ہوجاتی ہے۔ ہوا کا پریشر کم ہونے کی وجہ سے گاڑی کے ٹائروں کو گھومنے میں زیادہ مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے گاڑی کی فیول مائیلیج کم ہو جاتی ہے۔ چونکہ نائیٹروجن ٹائر بہت لمبے وقت کے لیے ٹائروں میں پریشر برقرار رکھ سکتے ہیں اس وجہ سے اگر آپ نائٹروجن ٹائر استعمال کریں گے تو آپ گاڑی سے قدرے بہتر فیول مائیلیج حاصل کر سکتے ہیں۔

ٹائروں میں بھری جانے والی عام ہوا میں پانی کے بخارات شامل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ٹائروں کی اندرونی سطح کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ وقت سے پہلے خراب ہوجاتے ہیں۔ یہ بخارات ٹائروں میں موجود سٹیل بیلٹ کو بھی زنگ آلود کر سکتے ہیں جس سے ٹائر مکمل طور پر خراب ہوجاتا ہے۔ چونکہ خالص نائٹروجن میں پانی کے بخارات شامل نہیں ہوتے اس وجہ سے آپ کو اس مسئلہ سے مکمل نجات مل جاتی ہے۔

عام ہوا سے بھرے ٹائروں میں پانی کے بخارات کا تناسب مختلف ہوتا ہے اور سخت موسمی حالات میں ان بخارات کی وجہ سے ٹائروں کا اندرونی درجہ حرارت بہت تیزی سے بڑھتا ہے اور اس کے پریشر کے بارے میں پیشن گوئی کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ نائٹروجن ٹائروں میں پانی کے بخارات نہیں ہوتے جس کی وجہ سے ان ٹائروں کے پریشر بارے پیشن گوئی کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ریسنگ گاڑیوں میں نائٹروجن سے بھرے ٹائر استعمال کیے جاتے ہیں کیونکہ ان کے پریشر بارے میں درست پیشن گوئی کی جاسکتی ہے جس سے تکنیکی ماہرین اور ڈرائیوروں کو یہ پتہ لگانے میں بہت آسانی ہوتی ہے کہ کس طرح کے حالات میں ٹائر گرپ برقرار رکھنے کے لیے کتنا پریشر درکار ہوگا۔

nitrogen-diagram

نائٹروجن ٹائروں کے نقصانات

نائٹروجن ٹائروں کے استعمال میں سب سے بڑا مسئلہ ان کے مناسب فلنگ اسٹیشن کی عدم دستیابی ہے۔ نائٹروجن فلنگ اسٹیشن امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی عام نہیں ہیں تو پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں ایسے اسٹیشن ڈھونڈنا بہت مشکل کام ہے اور ہر بار ٹائروں میں نائٹروجن بھروانے کے لیے آپ کو اچھی خاصی رقم بھی صرف کرنا پڑے گی۔ اس سارے عمل کی لاگت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ایک ٹائرمیں نائٹروجن بھروانے کے لیے آپ کو 5 سے 7 ڈالر ادا کرنا پڑیں گے اور اگر آپ پہلی مرتبہ اپنی گاڑی کے ٹائروں میں نائٹروجن بھروا رہے ہیں تو آپ کو کئی بار انہیں بھروا کر دوبارہ خالی کرنا ہوگا تا کہ ٹائروں میں موجود آکسیجن کو مکمل طور پر باہر نکالا جاسکے۔

Top