ہونڈا ایٹلس کی مسلسل خاموشی؛ ہونڈا سِوک کے مداح کشمکش کا شکار

2016-Honda-Civic

اب سے چند ماہ قبل ہونڈا ایٹلس کی جانب سے پاکستان میں ہونڈا سِوک (Honda Civic) کی دسویں جنریشن متعارف کروائی گئی تھی۔ پاکستان میں گاڑیوں کے مداحوں نے نئی سِوک کی آمد کا جشن زور و شور سے منایا اور اسی لیے کار ساز ادارے کی جانب سے زبردست تشہیری مہم بھی کامیاب رہی۔ ہونڈا پاکستان کی جانب سے خریداروں کو سِوک کی فراہمی شروع ہوتے ہی پاک ویلز فورم پر اس جدید گاڑی سے متعلق بے شمار تبصرے اور تجزیے پیش کیے جانے لگے۔ ان میں جہاں پاکستان میں نئی سِوک کی آمد کو سراہا گیا وہیں اس سے وابستہ توقعات کے چکنا چور ہوجانے کے شکوے بھی شامل تھے۔ گاڑی کی انتہائی غیر معیاری تیاری سے لے کر ظاہری اور اندرونی حصوں پر نظر آنے والے بھدے نشانات تک سبھی کچھ اس دوران زیر بحث رہا۔

بہرحال، ان تجزیے اور تبصروں سے زیادہ دلچسپی مجھے ہونڈا ایٹلس کی جانب سے جواب میں ہے کہ جو کئی ہفتے گزر جانے کے بعد بھی نہیں دیا جاسکا۔ پاکستان میں تیار شدہ ہونڈا گاڑیاں استعمال کرنے اور ایک پرانا مداح ہونے کی حیثیت سے مجھے امید تھی کہ ہونڈا پاکستان کی ویب سائٹ یا پھر دیگر ذرائع سے کار ساز ادارہ اپنا موقف پیش کرے گا تاہم اب تک ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ مجھے توقع تھی کہ ہونڈا ایٹلس پاکستان کم از کم ایک اعلامیہ کے ذریعے تو ہونڈا سوک کے معیار سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جواب ضرور دے گا لیکن ادارے کی جانب سے ایسا کوئی بھی اشارہ موصول نہیں ہورہا کہ مستقبل قریب میں وہ ان معاملات پر بات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ہونڈا سِوک 2016 کا کچا چٹھا

10th-Generation-Honda-Civic-Renders-PakWheels-1-640x360

میں یہاں کسی کی مخالف یا حمایت نہیں کر رہا بلکہ ہونڈا گاڑیوں کا مداح ہونے کی وجہ سے یہ بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ سوک پر لکھے جانے والے مضامین پر ہونڈا ایٹلس کی خاموشی عجیب اور حیرت انگیز ہے۔ آج کے دور میں جہاں ادارے اپنی بہترین مصنوعات کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں وہیں ان کا اپنا صارفین سے رویہ بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ صارفین سے لاتعلقی کے اظہار سے ادارے کی آمدنی اور منافع پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس لیے اگر ہونڈا سِوک پر کیے جانے والے اعتراضات حقیقت پر مبنی ہیں تو ہونڈا پاکستان کو ایک معتبر ادارہ ہونے کی حیثیت سے اس بارے میں بات کرنی چاہیے۔ گاڑیاں تیار کرنے والے اداروں کو دنیا بھر میں ایسے معاملات کا سامنا رہتا ہے لیکن وہ خاموش نہیں بیٹھتے بلکہ مثبت انداز میں ضروری اقدامات اٹھاتے ہیں۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

ٹویوٹا پرایوس میں سافٹویئر کا مسئلہ
ٹویوٹا کی جانب سے 19 لاکھ پرایوس (Prius) کو درستگی کے لیے اس وقت طلب کیا گیا کہ جب ان کے سافٹویئر میں خرابی کا انکشاف ہوا۔ نئے سافٹویئر کی مدد سے وارننگ لائٹس اور گاڑی کے دیگر برقی آلات میں ممکنہ مسائل کو حل کیا گیا۔ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کے اندر موجود خرابی کو تسلیم کر کے انہیں دور کیے جانے کے باوجود آج ٹویوٹا گاڑیاں بنانے والے اداروں میں ہر لحاظ سے سر فہرست ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹویوٹا گاڑیوں میں نئے مسئلہ کا انکشاف؛ پاکستان درآمد شدہ پرایوس بھی متاثر ہوسکتی ہیں

Toyota's next-generation Prius featuring Hybrid Synergy Drive technology

ٹکاٹا ایئر بیگز کے باعث ہلاکت
جی ہاں، یہ حقیقت ہے کہ ٹکاٹا ایئر بیگز میں آنے والی خرابی سے ہلاکتوں کا امکان پیدا ہوچکا تھا۔ جس کے بعد 14 مختلف کار ساز اداروں نے صرف امریکا ہی میں 2 کروڑ 40 لاکھ گاڑیوں کو درستگی کے لیے طلب کیا۔ اس خرابی کی سنجیدہ نوعیت کا اندازہ اس وقت ہوا کہ جب ایک خاتون (ہما حنیف) کی گاڑی ایک چھوٹے سے حادثے کا شکار ہوئی اور ان کی گاڑی میں موجود ایئر بیگز پھٹ گیا۔ ایئر بیگز سے نکلنے والے باریک اور پتلے پرزوں سے خاتون زخمی ہوگئیں اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ان دس افراد میں شامل ہوگئیں کہ جو غیر معیاری ایئر بیگز کے باعث ہلاک ہوئے۔

مزید پڑھیں: لاکھوں گاڑیوں کے حفاظتی ایئربیگز میں مسئلہ کا انکشاف

TAKATA Airbag

ہونڈا پاکستان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نئی سِوک کے معیار سے متعلق ادارے کا موقف سامنے آنا انتہائی ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان میں سِوک کی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ ممکنہ خریداروں کو بھی ذہنی سکون اور اطمینان حاصل ہوگا اور وہ مکمل اعتماد کے ساتھ ہونڈا کی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کرسکیں گے۔ اس حوالے سے اگر ہمارے قارئین بھی ہونڈا کو مشورہ دینا چاہیں تو بذریعہ تبصرہ اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں۔

We all make mistakes in life but I believe in learning from them and that is why I have opted to become an auto-journalist. I have a tech background but I prefer to write and express my views on cars because I am petrol head.

  • Alpha Bravo

    Admit it admins you are pro-Toyota

  • Atif

    Keep screwing them till the time they mend their ways. Such kind of crap which they are trying to sell here for PKR 3.0 M must not be tolerated at any level.

  • Atif Baig

    Examples given by u are from the countries where consumer is the preference. In Pakistan End User or Consumer is treated as a 3rd class citizen as no one can raise question to the Big Companies. These companies give monthly to High Officials in Pakistan.

Top