نان-فائلر گاڑیاں خرید سکتے ہیں – آٹو انڈسٹری ایک مرتبہ پھر بحال!


18 ستمبر 2018ء کو حکومت کی جانب سے نان-فائلرز کو گاڑیاں خریدنے کی اجازت ملتے ہی مقامی آٹومیکرز کے اسٹاکس اوپر چلے گئے ہیں۔

پاک سوزوکی اور ہونڈا اٹلس کے حصص میں 5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ٹویوٹا IMC کے حصص 0.55 کے معمولی فرق سے نیچے آئے۔ گزشتہ حکومت کی جانب سے نان-فائلرز پر پابندی لگانے کے بعد آٹومیکرز کی فروخت بالکل نیچے پہنچ گئی تھی۔ مثال کے طور پر اگست میں ماہ بہ ماہ گاڑیوں کی فروخت 18 فیصد کمی کے ساتھ 15,389 تک جا پہنچی۔ مزید برآں، سال بہ سال میں تقابل کریں تو گاڑیوں کی فروخت میں 17 فیصد کمی آئی جو اگست 2017ء میں 18,664سے گھٹ کر رواں سال اگست میں 15,389 تک گرگئی۔

صرف جولائی 2018ء ایسا مہینہ تھا کہ جس میں چار، پانچ ماہ کے مسلسل زوال کے بعد فروخت میں 20 فیصد اضافہ ہوا، پھر ایک مرتبہ پھر اگست میں ایک مرتبہ پھر فروخت میں کمی آئی۔

مقامی مارکیٹ نان-فائلر کے معاملے پر افراتفری کا شکار تھی اور کئی صنعتی ماہرین نے پیشن گوئی کی تھی کہ اگر حکومت نے ضروری اقدامات نہ اٹھائے تو گاڑیوں کی فروخت آئندہ مہینوں میں مزید زوال کا شکار ہوگی۔

اب جبکہ حکومت نے نان-فائلرز کو گاڑیاں خریدنے کی اجازت دے دی ہے، اب متوقع ہے کہ گاڑیوں کی فروخت پر واضح اثر پڑے گا جن کی فروخت میں اضافہ ہوگا۔ ایک مقامی کار ڈیلر نے PakWheels.com سے کہا کہ یہ حکومت کا ایک زبردست قدم ہے کیونکہ یہ صارفین اور آٹومیکرز دونوں کو سکھ کا سانس فراہم کرے گا۔ دیکھتے ہیں اب کیا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ ہونڈا اور سوزوکی سے ہٹ کر ٹویوٹا IMC نہ صرف اپنی گاڑیوں کی فروخت کی شرح برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ اس نے نان-فائلرز پر پابندی کے باوجود خالص منافع بھی حاصل کیا۔

ٹویوٹا IMC نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں انکشاف کیا کہ ادارے نے 30 جون 2018ء کو ختم ہونے والی موجودہ مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں 21.31 فیصد کا خالص منافع حاصل کرکے 15.77 ارب روپے کمائے۔

ٹویوٹا کے علاوہ ہونڈا پاکستان کا خالص منافع گزشتہ سہ ماہی میں 50 فیصد کمی کے ساتھ 1,050 ارب روپے رہا اور پاک سوزوکی کا خالص منافع بھی 43 فیصد کمی کے ساتھ 394 ملین روپے تک جا پہنچا۔

تو اس پابندی کا خاتمہ مقامی آٹومیکرز بالخصوص سوزوکی اور ہونڈا کو سکھ کا سانس عطا کرے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے آتے رہیے۔


Top