اوگرا نے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کی سمری آگے بھیج دی


آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے دسمبر 2018ء کے مہینے کے لیے پیٹرولیئم مصنوعات کے نرخ نامے میں تبدیلی اور نظرثانی کے لیے سمری پیٹرولیئم ڈویژن کو ارسال کردی ہے، ایک مقامی میڈیا ادارے نے بتایا۔

خبر کے مطابق وزارت خزانہ تجویز کو ملاحظہ کرے گی اور اس کے مطابق تیل کی قیمتوں پر نظرثانی کرے گی۔ اتھارٹی کی جانب سے تجویز کردہ قیمت ظاہر نہیں کی گئی اور نئی قیمتیں یکم دسمبر 2018ء سے نافذ العمل ہوں گی۔

صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں بین الاقوامی سطح پر کمی آئی، اس لیے مقامی صارفین کو بھی اس کا فائدہ ملنا چاہیے اور حکومت کو قیمتیں کم کرنی چاہئیں۔ دیکھتے ہیں کہ اس ضمن میں حکومت کیا کرتی ہے۔

تیل کی مصنوعات کی موجودہ قیمتیں کچھ یوں ہیں:

قبل ازیں وفاقی حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے دباؤ کی وجہ سے اگلے تین ماہ کے عرصے میں پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے تک کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کے علاوہ پاک سوزوکی نے بھی روپے کی گھٹتی قدر کی وجہ سے اپنی CBU گاڑیوں کی قیمتوں میں 1,00,000 سے 3,00,000 روپے تک کا اضافہ کیا ہے۔

اس بارے میں اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top