اوگرا نے جون 2016 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی تجویز دے دی

OGRA Proposes Increase In Petroleum Prices For June 2016

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بڑھنے کے بعد آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پاکستان میں بھی جون 2016 کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کردی ہے۔ اوگرا کی جانب سے یہ تجاویز گزشتہ روز وزارت پیٹرولیم وقدرتی وسائل کو ارسال کی گئی ہیں۔

ملکی خبر رساں اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اوگرا نے پیٹرول پر 0.85 روپے فی لیٹر، ہائی آکٹین پر 2.18 روپے فی لیٹر، ہائی ڈیزل پر 6.69 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل پر 4.47 روپے فی لیٹر جبکہ مٹی کے تیل پر 3.97 روپے فی لیٹر اضافے کی درخواست کی ہے۔ اگر اوگرا کی ان تجاویز کو منظور کرلیا جاتا ہے تو یکم جون2016 سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں درج ذیل ہوں گی:

پیٹرول لائٹ ڈیزل ہائی اسپیڈ ڈیزل مٹی کا تیل ہائی آکٹین
موجودہ قیمتیں 64.27 37.97 72.25 43.25 72.62
مجوزہ قیمتیں 65.12 42.44 79.21 47.22 74.86

اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش پر حتمی فیصلہ وزارت خزانہ اور وزیر اعظم نواز شریف سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی اوگرا نے مئی 2016 کے لیے مذکورہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز ارسال کی تھی جسے وزیر اعظم نواز شریف نے نامنظور کرتے ہوئے اپریل 2016 کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس سے قبل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے بعد پاکستان میں بھی رواں سال تین بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں تخفیف کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس؛ عوام پر شدید معاشی بوجھ کے مترادف

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے قبل ملک کے مختلف شہروں میں تیل کی ‘قلت’ دیکھی جارہی ہے جس کی وجہ سے عوام کو پیٹرول اور ڈیزل کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ اوگرا کی جانب سے ارسال کی جانے والی سفارشات کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر ہونے کا اعتراف تو کیا جارہا ہے تاہم ہر ادارہ اس کا ذمہ دار دوسرے ادارے کو قرار دے رہا ہے۔

وزارت پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ ان معاملات کی نگرانی اوگرا کی ذمہ داری ہے جبکہ اوگرا کا کہنا ہے کہ وہ پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کا کہنا ہے کہ پیٹرول پمپس کو تیل کی فراہمی کم کردی گئی ہے جبکہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل سے وابستہ اداروں نے اس مسئلہ کو سرے سے تسلیم کرنے ہی سے انکار کردیا ہے۔ پیٹرول پمپس مالکان نے وزارت پیٹرولیم اور تیل فراہم کرنے والے اداروں پر تمام ملبہ ڈالتے ہوئے انہیں تیل کا بحران پیدا کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top