پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 7 روپے تک اضافہ کی تجویز

petrol filling

پاکستان میں تیل اور گیس کی قیمتیں تجویز کرنے والے ادارے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے آئندہ ماہ نومبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق سفارشات مرتب کرلی ہیں۔ مقامی خبری اداروں کے مطابق وزارت پیٹرولیم کو ارسال کی جانے والی ان سفارشات میں متعدد پیٹرولیم مصنوعات بشمول ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بتدریج اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے اوگرا نے یکم نومبر سے ڈیزل کی قیمت 6.69 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل کی قیمت 4.47 روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت 3.94 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت 0.85 روپے فی لیٹر بڑھانے کی بھی درخواست کی ہے۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا حتمی فیصلہ وزارت پیٹرولیم اور وزارت خزانہ کی مشاورت سے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول پمپ پر آپ کو 4 طریقوں سے دھوکا دیا جارہا ہے!

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں کمی کے بعد اوگرا نے پیٹرول، ڈیزل سمیت دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی تجویز دی تھی جسے وفاقی کابینہ نے مسترد کردیا تھا۔ اس سے قبل خام تیل کی قیمت میں کمی و زیادتی ہونے کے باوجود پاکستان میں مسلسل پانچ ماہ تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی ردو بدل نہیں کیا گیا ۔ اس حوالے سے اوگرا کی کی تجاویز مسلسل پانچ مرتبہ وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے بھی مسترد کی جاچکی ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نومبر 2016 سے ملک میں 92 اور 95 آکٹین کے حامل معیاری اور بہتر پیٹرول کی دستیابی سے متعلق بھی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ پاکستان میں 2016 کی دوسری سہہ ماہی تک یورو II معیار کے مطابق ایندھن متعارف کروایا جانا تھا تاہم اب تک یہاں خطے کے تمام ممالک سے کم ترین 87 آکٹین کا پیٹرول فروخت کیا جارہا ہے۔ معیاری ایندھن کی دستیابی سے گاڑیوں کی مسافت میں اضافہ، انجن کی کارکردگی میں بہتری اور گاڑیوں سے نکلنے والے مضر دھویں کے اخراج میں کمی جیسے قابل ذکر فوائد حاصل ہوں گے۔ تاہم اضافی آکٹین والے ایندھن کی آمد سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا بھی امکان ہے۔

Top