اورنج لائن منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایات جاری

Bad News for Orange Line Contractors

حکومت پنجاب نے لاہور میں زیر تعمیر اورنج لائن کے ٹریک پر تعمیری کام مکمل کرنے کے لیے 31 جنوری 2017 کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ ڈیرا گجراں سے چوبرجی تک ٹریک بنانے والے تمام اداروں کو مقررہ تاریخ سے قبل کام مکمل کرنے کی ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔ میٹروٹروین پیکج 1 حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس ٹریک کو جلد از جلد مکمل کر کے چینی فرم کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ برقی اور تکنیکی کاموں کو بروقت مکمل کرسکے۔

یہ فیصلہ اورنج لائن منصوبے کا جائزہ لینے کے لیے بلائی گئی ہفتہ وار میٹنگ میں کہا گیا۔ اس میٹنگ میں اورنج لائن کمیٹی کے سربراہ خواجہ احمد حسن بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی جلد از جلد تکمیل بہت اہمیت کی حامل ہے۔ نیس پاک اور چینی ٹھیکے داروں کی جانب سے میٹنگ کے شرکاء کو بتایا گیا کہ انہیں برقی اور مکینکی کام کرنے کے لیے 135 روز درکار ہوں گے۔ پروجیکٹ کو بروقت مکمل کرنے کے لیے مقامی ٹھیکیداروں کے ساتھ بیک وقت مختلف اسٹیشنز پر کام کیا جائے گا۔

اورنج ٹرین کے چار حصوں (پیکجز) اور ان پر جاری کام کی تفصیلات یہ ہیں:

اورنج لائن (پیکیج 1): ڈیرا گجراں سے چوبرجی – 70 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔

اورنج لائن (پیکیج 2): چوبرجی سے علی ٹاؤن – 44 فیصد کام مکمل ہوسکا۔ ٹھیکے دار کو غیر تسلی بخش کارکردگی کے باعث معطل کیا جاچکا ہے۔

اورنج لائن (پیکیج 3 او 4): دونوں ہی پیکجز پر 54 فیصد تک کام کیا جاچکا ہے تاہم عدالت کی طرف سے حکم امتناع ور دیگر تکنیکی وجوہات کی بنا پر مزید کام ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں نئی ایئر کنڈیشن بس سروس کی شروعات

اونج لائن پیکیج 1 پر کام کرنے والے ایک ٹھیکے دار شاہد سلیم نے بتایا کہ وہ تمام اسٹیشن پر مقررہ وقت کے بعد بھی کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ انہیں جلد از جلد مکمل کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان اسٹیشن پر کام ممکن نہیں ہو پارہا کہ جنہیں عدالت کی جانب سے روک دیا گیا تھا۔ شاہد سلیم نے امید ظاہر کی کہ وہ اسلام پارک، سلامت پورا اور محمود بوٹی اسٹیشن کو 15 دسمبر تک چینی ادارے کے حوالے کردیں گے جبکہ باقی رہ جانے والے اسٹیشن پر بھی 31 جنوری تک کام مکمل کرلیا جائے گا۔

Top