ایک غلط فہمی کا ازالہ: O/D بٹن ‘ٹربو’ نہیں ‘اوور ڈرائیو’ کا ہے!

od-button

ابھی کچھ دن پہلے ہی میں اپنے دوست سے باتیں کرتے ہوئے اس کی نئی گاڑی کا ذکر نکل آیا۔ میرے دوست نے حال ہی میں ڈاج چارجر خریدی تھی۔ جب میں نے اس سے گاڑی کی خصوصیات اور کارکردگی کے بارے میں معلوم کیا تو وہ پرجوش انداز میں مسکراتے ہوئے بولا “اس میں ٹربو بھی موجود ہے”۔

میں ایک دم چونک گیا۔ ڈاج چارجر میں ٹربو؟ یہ بات میرے لیے حیران کن تھی۔ میرے دوست نے حیرانی بھانپ لی اور گیئر شفٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ٹربو یہاں ہے۔ اس کی نشاندہی پر میں نے وہاں ایک نظر ڈالی تو مجھے جیسے چپ لگ گئی۔ اس سے پہلے کہ میری چپ ٹوٹتی میرے دوست نے اپنی معصومانہ خوشی کے ساتھ کہا “میں نے گیئر شفٹ پر موجود بٹن دبایا جس نے اسے ٹربو میں تبدیل کر دیا”۔

اس وقت مجھے بالکل بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طرح اپنے رد عمل کا اظہار کروں۔ وہ لمحہ جب اس نے گیئر لیور پر موجود بٹن کا ذکر کیا مجھے ہنسی بھی آ رہی تھی اور اپنے دوست کی معصومیت پر رونا بھی آرہا تھا۔ مگر مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اپنے دوست کو کیسے بتاؤں کہ یہ وہ چیز نہیں جس پر تم خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔ اس وقت تو میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر چپ سادھ لی لیکن چند روز بعد باتوں باتوں میں اپنے دوست کو یہ بتا ہی دیا کہ اس کی گاڑی snail powered (ٹربو چارجڈ) نہیں ہے بلکہ حقیقت میں یہ بٹن، جس پر O/D لکھا ہوا ہے، اوور ڈرائیو (overdrive) کا ہے۔

سوال یہ ہے کہ O/D بٹن دراصل ہے کیا؟ اوور ڈرائیو دراصل تیز رفتاری کے دوران انجن کے استعمال کو کم کرتا ہے۔ اس سے آپ کے سفر کی رفتار کم نہیں ہوتی بس انجن چلنے کی رفتار گھٹ جاتی ہے۔ تو حقیقت میں جب آپ برق رفتار سے گاڑی دوڑا رہے ہوتے ہیں تو انجن بھی تیزی سے چل رہا ہوتا ہے لیکن جب آپ اوور ڈرائیو کا O/D بٹن دباتے ہیں تو آپ کی رفتار برقرار رہتی ہے لیکن انجن کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔

اوور ڈرائیو کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے آپ اسے گئیر تصور کرلیں۔ اس کا تناسب براہ راست گاڑی کی رفتار پر محصر ہوتا ہے۔ مثلاً اگر آپ کی گاڑی 3000 آر پی آیم (RPM) پر 120 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کر رہی ہے، تو اوور ڈرائیو کے استعمال سے آپ گاڑی کی رفتار کو بر قرار رکھتے ہوئے انجن کی رفتار کو کم کرسکتے ہیں۔ یعنی (صرف ایک اندازے کے طور پر) 3000 آر پی ایم پر چلنے والی گاڑی کو اوور ڈرائیو بٹن 2500 آر پی ایم کر دے گا جبکہ گاڑی کی رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہی رہے گی۔ اور اس گیئر کو بند کرنے سے انجن پہلے والی ہی رفتار پر منتقل ہوجائے گا۔

اس سے نہ صرف گاڑی میں ایندھن کا استعمال کم ہوتا ہے بلکہ برق رفتار کے دوران انجن پر پڑنے والے دباؤ میں بھی کمی آتی ہے۔ کیوں کہ جتنی کم انجن کی رفتار ہوگی اتنا ہی کم ایندھن اور پرزوں کا استعمال بھی کم ہوگا۔ یاد رہے کہ اوور ڈرائیو O/D بٹن کی خصوصیت خود کار ٹرانسمیشن والی گاڑیوں میں موجود ہے۔

ہمارے ایک تبصرہ نگار کِم ایلن نے بتایا کہ 60 اور 70 کی دہائی میں اوور ڈرائیو کی سہولت 4 اسپیڈ والی مینوئل گاڑیوں میں بھی پیش کی گئی تھی جسے کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان گاڑیوں میں یہ سہولت تیسرے اور چوتھے گیئر کے ساتھ دستیاب تھی تاہم بعد میں 5ویں گیئر کی آمد کے بعد اسے حذف کردیا گیا۔

Top