سوزوکی مہران کے مستقبل سے متعلق پاک سوزوکی کا اہم بیان


پاک سوزوکی نے کئی سالوں بعد اب سے چند روز قبل ہی پاکستان میں ایک نئی گاڑی “سوزوکی ویتارا” متعارف کروائی ہے۔ دیگر ممالک میں خود کو منوانے والی کراس اُووَر سوزوکی ویتارا کے دو ماڈلز GL+ اور GLXپیش کیے ہیں۔ ویتارا GL+ کی قیمت 34,90,000 رکھی گئی ہے جبکہ ویتارا GLX کی قیمت 37,99,000 ہے۔ یہ دونوں ہی ماڈل 1600cc پیٹرول انجن کے ساتھ فروخت کیے جائیں گے۔

پاکستان میں سوزوکی ویتارا کی آمد سے قبل پا ک سوزوکی کو 1000cc اور کم قوت والے انجن کی حامل چھوٹی گاڑیاں پیش کرنے والے ادارے کے اچھی خاصی شہرت حاصل ہے۔ اور کیوں نہ ہو آخر پاکستان میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑیوں میں سے بیشتر پاک سوزوکی ہی کی تیار کردہ ہوتی ہیں۔ بہرحال کار ساز ادارے کی حالیہ پیشکش کو مدنظر رکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اب پاک سوزوکی دیگر طرز کی گاڑیوں میں بھی اپنا لوحہ منوانے کا ارادہ کرچکا ہے۔

سوزوکی ویتارا کی تقریب رونمائی کے موقع پر پاک سوزوکی کے جنرل منیجر مارکیٹنگ اعظم مرزا نے پاک ویلز سے بات کرتے ہوئے چھوٹی اور کم قیمت گاڑیوں کی پیشکش سے متعلق ادارے کا نقطہ نظر کچھ یوں بیان کیا:

گو کہ اقلیت کے خیال میں پاک سوزوکی کی تیار کردہ گاڑیاں اب پرانی ہوچکی ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ عوام کی بڑی اکثریت آج بھی ہماری پیش کردہ گاڑیوں کو سراہتے ہیں۔ اس کے باوجود پاک سوزوکی آئندہ 3-4 سالوں کے دوران نئی گاڑیاں پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جن میں 1000cc انجن والی چھوٹی اور طاقتور انجن والی بڑی گاڑیاں دونوں ہی شامل ہیں۔اس کے علاوہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے صارفین کو گاڑیوں کے نئے اور بہترین ماڈل پیش کریں۔

یہ بھی پڑھیں: سوزوکی مہران سے پاکستانیوں کی لازوال محبت؛ آخر وجہ کیا ہے؟

azam-mirza

انہوں نے مزید کہا کہ پاک سوزوکی نئی اور کم قیمت گاڑیاں پیش کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہے جس کی ایک مثال سوزوکی ویگن آر بھی ہے۔ 10 لاکھ روپے کے بجٹ میں کسی نئی گاڑی کی متوقع آمد سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پاک سوزوکی کے جنرل منیجر مارکیٹنگ نے کہا کہ آٹو پالیسی 2016-2021 کی وجہ سے ملک میں گاڑیاں تیار کرنے پر اضافی اخراجات آرہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ نئی آٹو پالیسی میں دی گئی وہ ہدایات ہیں جن کے تحت اب تمام کار ساز اداروں کو اپنی گاڑیوں میں حفاظتی سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا کہا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود ہم صارفین کو بہترین پیکیج فراہم کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

سوزوکی مہران کے مستقبل اور سال 2017 میں اس کی تیاری جاری رکھنے سے متعلق ایک سوال پر جناب اعظم مرزا نے کچھ یوں جواب دیا:

دیہی علاقوں میں رہنے والوں کے مقابلے میں شہری صارفین کے رجحانات تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں اور یہی بات دیہی علاقوں میں سوزوکی مہران کی بے پناہ مقبولیت کی دلیل فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا دیہی علاقوں میں اس گاڑی سے لوگوں کی مانوسیت کو قابل توجہ سمجھنا چاہیے۔ علاوہ ازیں پاکستانی صارفین دیگر کسی بھی خصوصیت کے مقابلے میں بعد از استعمال اچھی قیمت پر فروخت (resale value) کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اور یہی امر سوزوکی مہران کو جاری رکھنے یا اس کی تیاری بند کرنے کے سامنے ایک بڑا سوال لا کھڑا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سوزوکی مہران سے بھی سستی سیڈان – اور کیا چاہیے!


Top