سوزوکی نئی گاڑیاں پیش کرنے کے لیے “خصوصی” رعایت کا متقاضی

suzuki-mehran-blue

سوزوکی موٹر کارپوریشن نے وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار غلام مرتضی خان جتوی کے نام ایک خط ارسال کیا ہے۔ خط کے مندرجات میں سوزوکی مہران اور سوزوکی کلٹس کو ختم کر کے پاکستان میں دو نئے ماڈلز متعارف کروانے میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم سوزوکی موٹر کارپوریشن اپنے لیے بھی وہی رعایات چاہتی ہے جو حکومت پاکستان دیگر جاپانی کار ساز اداروں، ٹویوٹا اور ہونڈا کو فراہم کر رہی ہے یا انہیں آئندہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

سوزوکی آئندہ پانچ سالوں میں 110 ملین ڈالر سرمایہ کاری کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ پاک سوزوکی موٹر کمپنی نے 77 ایکڑ زمین خریدی ہے جہاں ممکنہ طور پر کارخانہ قائم کیا جائے گا۔ البتہ مزید پیش رفت سے قبل سوزوکی استعمال شدہ گاڑیوں کو درآمد کرنے کے قوانین میں سختی اور گاڑیوں کے پرزے درآمد کرنے پر عائد ٹیکس میں کمی چاہتی ہے۔

خط میں تجویز دی گئی ہے کہ بیرون ملک سے گاڑیوں کے پرزے منگوانے پر 10 فیصد ٹیکس جبکہ 1000 سی سی انجن سے زائد والی گاڑیوں کے پرزے منگوانے پر 25 فیصد ٹیکس رکھا جائے۔ یاد رہے کہ اس وقت گاڑیوں کے پرزے منگوانے پر 35 فیصد درآمدی ٹیکس لاگو ہے۔ سوزوکی کی خواہش ہے کہ حکومت مکمل گاڑیاں درآمد کرنے کے عمل کو مشکل بنائے تاکہ مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوسکے۔

7th_generation_Suzuki_Alto

سوزوکی موٹر کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر اور پی ایس ایم سی کے چیئرمین کنجی سائیتو نے اپنے خط میں لکھا کہ

بیرون ملک سے گاڑیوں کے پرزے درآمد کرنے پر عائد غیر ضروری ٹیکس کی وجہ سے گاڑیاں تیار کرنے پر ہونے والے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وجہ سے گاڑیوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں جس سے عام افراد کی دلچسپی میں کمی واقع ہوئی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں جدید سہولیات کی عدم دستیابی سے بھی کئی ایک پرزے بنانے کے کام میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

سائتو نے مزید کہا کہ

ہم پاک سوزوکی میں کام کرنے والے عملے کی جاپان میں تعلیم و تریب کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اس کے علاوہ پیشہ وارانہ تربیت فراہم کرنے والے ادارے امن انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ بھی کام کرتے رہیں گے۔ مزید برآں چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کی تقریب میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔

سوزوکی چھوٹی گاڑیاں تیار کرنے کے لیے بھی خصوصی مراعات چاہتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان میں توانائی کے بحران کی وجہ سے چھوٹی اور ایندھن بچانے کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیاں زیادہ مقبول ہوسکتی ہیں۔ نیز 660 سی سی گاڑیاں متعارف کروا کر پاک سوزوکی مقامی مارکیٹ میں مزید وسعت حاصل کرسکتی ہے۔

ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومتِ پاکستان سوزوکی کی تجاویز کا جواب کس طرح دیتی ہے۔ تاہم ایک بات تو طے ہے کہ بہت سے اداروں کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہوچکی ہیں جن میں اطالوی کار ساز ادارے فیات سے لے کرفرانسیسی کمپنی رینالٹ تک شعبے کے بہت سے بڑے اور عالمی شہرت یافتہ نام بھی شامل ہے۔

Top