نئی آٹو پالیسی کا اعلان: نئے کار ساز اداروں کے لیے خصوصی مراعات شامل

Auto-industry-of-Pakistan-640x360

تقریباً دو سے ڈھائی سال کے صبر آزما انتظار کے بعد بالآخر وفاقی کابینہ پر مشتمل اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ‘آٹوموبائل ڈیولپمنٹ پالیسی 2016-2021’ کی منظوری دے ہی دی۔ اس پالیسی کا باضابطہ اعلان وزارت خزانہ کی جانب سے بروز پیر، 21 مارچ کو متوقع ہے۔

منظور شدہ نئی آٹو پالیسی میں نئے کار ساز اداروں کے لیے خصوصی مراعات رکھی گئی ہیں جو پاکستان میں گاڑیاں تیار کر کے فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان مراعات کا فائدہ صرف ان اداروں کو ہوگا جو اس وقت پاکستان میں کام نہیں کر رہے دوسرے لفظوں میں 90 کی دہائی سے پاکستان میں کام کرنے والے تینوں کار ساز ادارے اس سے مستفید نہیں ہوسکیں گے۔

سرمایہ کاری بورڈ کے سربراہ مفتا اسماعیل نے اس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نئی پالیسی میں صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے نئے کار ساز اداروں کو راغب کرنے اور گاڑیوں کے شعبے میں مسابقت کی فضا بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ نئے سرمایہ کاروں کے لیے رکھی گئی مراعات سے موجودہ کار ساز ادارے محروم رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گاڑیوں کی پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور اگر نئے کار ساز ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے تو ن کے خلاف کاروائی کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں نسان کی ممکنہ آمد: ڈاٹسن GO اور GO+ پیش کی جاسکتی ہیں

جرمن کار ساز ادارے ووکس ویگن کی خواہش کے برعکس نئی آٹو پالیسی میں جزوی تیار شدہ گاڑیوں (medium knocked-down unit) کی تعریف کو حذف کردیا گیا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ فیات، اوڈی اور ووکس ویگن جیسے ادارے گاڑیوں کی تیاری کے لیے پاکستان ہی میں کارخانے قائم کریں۔ یہ حکومتی فیصلہ حقیقتاً قابل تعریف ہے۔

VW

نئی آٹو پالیسی میں شامل مراعات

نئے سرمایہ کاروں کو سب سے قابل ذکر رعایت ان پرزوں کی درآمد پر دی گئی ہے جو پاکستان میں تیار نہیں ہوتے۔ اس ضمن میں موجودہ کار ساز ادارے 32.5 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں جسے 2.5 فیصد کم کر کے 30 فیصد کردیا گیا ہے۔ تاہم نئے اداروں کو آئندہ پانچ سالوں کے دوران اس مد میں صرف 10 فیصد ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔

جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال 2016-17 میں نئے سرمایہ کار ادارے گاڑیوں کے پرزے 25 فیصد ڈیوٹی اور پھر آئندہ پانچ سالوں کے دوران 50 فیصد ڈیوٹی پر درآمد کرسکیں گے۔ جبکہ موجودہ کار ساز ادارے صرف آئندہ مالی سال 2016-17 کے دوران 45 فیصد تک رعایت سے مستفید ہوسکیں گے بعد ازاں انہیں کوئی رعایت حاصل نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ حکومت نے نئے کار ساز اداروں کو پاکستان میں کارخانے کے قیام میں مدد کے لیے بغیر ڈیوٹی سامان درآمد کرنے کی اجازت بھی دی ہے۔ نئے سرمایہ کار کسی بھی ایک برانڈ کی 100 تیار شدہ گاڑیاں (completely built units) 50 فیصد کم ڈیوٹی پر بھی درآمد کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ووکس ویگن کی 4 گاڑیاں جو پاکستان میں دستیاب ہونی چاہئیں!

مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد کے سلسلے میں بھی رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت مالی سال 2017-18 اور 2018-19 کے دوران 1800cc اور اس سے کم انجن والی گاڑیاں 10 فیصد ڈیوٹی پر درآمد کی جاسکیں گی۔ یہ رعایت نئے اور پرانے دونوں ہی کار ساز اداروں کے لیے رکھی گئی ہیں جن سے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں گاڑیوں کے پرزے درآمد کرنے پر عائد ڈیوٹی کو آٹو پالیسی کے 5 سال بعد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے البتہ نئے سرمایہ کاروں کے لیے 7 سالوں تک ڈیوٹی کا موجودہ نظام ہی لاگو رہے گا۔

ایسے ادارے، جو پہلے پاکستان میں گاڑیاں تیار کرکے فروخت کرتے تھے مگر بعد میں اپنا کام بند کر گئے، کے لیے بھی خصوصی مراعات پیش کی گئی ہیں۔ ایسے اداروں کو اپنے کارخانے دوبارہ کھولنے کے لیے درکار پرزوں کی درآمد پر صرف 10 فیصد ٹیکس دینا ہوگا جو بعد ازاں آئندہ تین سالوں تک 25 فیصد ہوجائے گا۔

البتہ حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے قوانین میں کوئی تبدیلی نہیں کی جس کی وجہ سے صارفین نئے کار ساز اداروں کی آمد تک محدود تعداد ہی میں گاڑیاں درآمد کرسکیں گے۔ تجویز دی گئی تھی کہ درآمد کرنے والی گاڑیوں کی عمر کی حد تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کردی جائے۔

Big108

نئی آٹو پالیسی سے صارفین بہت زیادہ امیدیں لگائے بیٹھے تھے اور منظور شدہ آٹو پالیسی میں نئے کار ساز اداروں کے لیے مخصوص رعایتوں کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے صبر کا پھل مل چکا ہے۔ تینوں جاپانی کار ساز ادارے سوزوکی، ہونڈا اور ٹویوٹا طویل عرصے سے گاڑیوں کے غیر معیاری اور اضافی قیمتوں کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ نئے کار ساز ادارے گاڑیوں کے شعبے میں کتنی مثبت تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چینی ادارے زوتیے کی گاڑیاں جو پاکستان میں پیش کی جاسکتی ہیں!

نئے کار ساز اداروں کی آمد سے نہ صرف صارفین کو زیادہ گاڑیاں دستیاب ہوسکیں گی بلکہ موجودہ کار ساز اداروں کو بھی گاڑیوں کا معیار بہتر کرنے کی ترغیب ملے گی۔ گو کہ نئی آٹو پالیسی کا اطلاق جلد متوقع ہے تاہم اس کے اثرات صارفین تک پہنچنے میں چند سال لگیں گے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ نئے اداروں کی یہاں آمد اور کارخانوں کے قیام تک موجودہ کار ساز ادارے کیا حکمت عملی مرتب کرتے ہیں۔

پاکستان میں آنے والے ممکنہ اداروں میں اوڈی، ووکس ویگن، فیات، رینالٹ، نسان، ہیونڈائی، کِیا موٹرز شامل ہیں جبکہ متعدد چینی ادارے مثلاً زوتیے، جاک، چانگان، جیلی اور چیری بھی یہاں اپنی گاڑیاں متعارف کروانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

Usman Ansari

An automotive enthusiast associated with the animation industry since 15 years having worked with leading organizations and production facilities across Pakistan.

  • Shakeel Anjum

    Short term solutions and political move. I guess it will not be a good move to facilitate the new entrants on the cost of old ones.

  • Guest

    No “cost” is being paid by the old ones. They are not subsidizing the entry of new companies.

Top