نئی آٹو پالیسی کا فوری اعلان ناگزیر ہے: میاں ہمایوں پرویز

AIDP

پاکستان کی آٹو پالیسی تین سے تعطل کا شکار ہے۔ متعلقہ ادارے بارہا حکومت سے اس کے اجرا کی سفارش کرتے آرہے ہیں تاہم انہیں اب تک کامیابی نصیب نہیں ہوسکی۔ اس حوالے سے آخری بار وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار غلام مرتضی خان جتوئی نے گزشتہ سال دسمبر میں لب کشائی فرمائی تھی۔ اس حوالے سے جتوئی صاحب نے کہاتھا کہ حکومت زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔

اب تین سال گزرنے کے بعد خبریں موصول ہوئیں کہ پاکستان کی نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ پھر اس کے اعلان میں دیر کیسی؟ اس کی وجوہات تو ہمیں نظر نہیں آرہیں لیکن موجودہ اور نئے کار ساز اداروں کی جانب سے آٹو پالیسی میں من مانی رعایت کے حصول کی کوششیں بہرحال نظر آرہی ہیں۔

متعلقہ تحریر: سوزوکی نے نئی سرمایہ کاری آٹو پالیسی میں مطلوب مراعات سے مشروط کردی

اس حوالے سے ایوان صنعت و تجارت راولپنڈی کے صدر میاں ہمایوں پرویز نے ایک بار پھر حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ آٹو پالیسی کا جلد از جلد اعلان اور نفاذ ممکن بنائے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ آٹو پالیسی میں تاخیر کے باوجود گاڑیوں کے شعبے میں زبردست ترقی ہورہی ہے تاہم یہ بھی کہا کہ نئی آٹو پالیسی کے اجرا میں غیر معمولی توقف سے مقامی کار ساز اداروں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔

میاں ہمایوں پرویز نے مزید کہا کہ نئی آٹوپالیسی کی آمد سے نہ صرف ملک میں کام رنے والے موجودہ کار ساز اداروں کے لیے صورتحال واضح ہوگی بلکہ نئے سرمایہ کاروں کو بھی کاروبار کرنے کے واقع مل سکیں گے۔ ایوان کے صدر نے یہ بھی کہا کہ نئی پالیسی ملک کے چھوٹے اور اوسط کاروباری اداروں کو بھی گاڑیوں کے شعبے میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرسکتی ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والے کار ساز ادارے بیرون ممالک بالخصوص جاپان سے گاڑیوں کی درآمد پر تحفظات کا ظاہر کرچکے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ گاڑیوں کی درآمدات میں اضافے سے مقامی کار ساز اداروں اور متعلقہ کاروباروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یاد رہے کہ سال 2011-2012 میں درآمدی پالیسی میں نرمی کے بعد 57 ہزار سے زائد گاڑیاں دیگر ممالک سے پاکستان منگوائی جاچکی ہیں۔

ایک بات تو طے ہے اور وہ یہ کہ آپ ایک آٹوپالیسی سے تمام ہی اداروں کو خوش نہیں رکھ سکتے۔ یہاں بہت سے اسٹیک ہولڈرز موجود ہوں جن میں سے ہر ایک کے مفادات اور خواہشیں دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایسے میں نئی پالیسی میں مزید تاخیر غیر ضروری ہے۔ اس کے جلد اعلان سے کم از کم ان اداروں کے لیے صورتحال واضح کرسکتی ہے جو پاکستان میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Top