مراد سعید کی جانب سے پاکستان کی پہلی نیشنل روڈ سیفٹی اسٹریٹجی (‏2018-2030ء‎) کا اجراء


وزیرِ مملکت برائے مواصلات مراد سعید نے جمعرات کو پاکستان کی پہلی نیشنل روڈ سیفٹی اسٹریٹجی (‏2018-2030ء‎) کا اجراء کردیا کہ جس کا ہدف سڑک پر ہونے والے حادثات میں زندگیاں بچانا ہے۔

پاکستان میں سڑکوں پر بڑھتی ہوئی اموات قومی روڈ سیفٹی اسٹریٹجی (‏2018-2030ء‎) کا سبب بنیں، جو اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب میں لانچ کی گئی۔ مراد سعید کی جانب سے پیش کردہ اس حکمتِ عملی کو تکنیکی مدد کی گرانٹ کے لیے برطانیہ کے ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (DFID) کی اور انتظامی طور پر ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی مدد حاصل ہے۔ یہ حکمتِ عملی ایکشن پلانز کے ایک سلسلے پر مشتمل ہے کہ جو 2030ء تک نافذ ہوتے رہیں گے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے نافذ کردہ اس حکمتِ عملی میں شامل کلیدی اقدامات سفر کے دوران ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال کو یقینی بنانے، سڑکوں پر گاڑیوں سمیت حفاظتی معیارات کو بہتر بنانے ، ڈرائیور لائسنسنگ بالخصوص کمرشل ڈرائیوروں کے لیے معیارات کو بہتر بنانے، شعور وآگہی پھیلانے کی مختلف مہمات چلانے اور پاکستان بھر میں حادثات کا شکار ہونے والے افراد کے لیے بہترین معیار کی ہنگامی طبّی خدمات تک رسائی کو یقینی بنانے پر مشتمل ہیں۔

ADB کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ اس اسٹریٹجی کا آغاز روڈ سیفٹی کو بہتر بنانے کی جانب ایک زبردست قدم ہے البتہ اسٹریٹجی کے درست نفاذ کے لیے طویل عرصے تک مسلسل کوششیں کرنا ضروری ہے۔ اس موقع پر DFID کے اکنامک گروتھ گروپ کے سربراہ نے بتایا کہ اندازوں کے مطابق پاکستان میں ہر سال 30,000 افراد سڑکوں پر ہونے والے حادثات میں جانیں گنواتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر روڈ سیفٹی اسٹریٹجی کا اجراء ملک میں پالیسیوں کو بہتر بنانے اور سڑکوں پر سیفٹی کو یقینی بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ منٹ میں کوئی شخص سڑک پر مارا جاتا ہے یا بری طرح زخمی ہوتا ہے جو قانون نافذ کرنے والے محکموں کے لیے ایک خطرناک صورت حال ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کو پہنچنے والا اقتصادی نقصان پاکستان کے GDP کا تقریباً3 سے 5 فیصد ہے۔ پاکستان میں تیزی سے ہوتی معاشی ترقی اور CPEC کی طرح کے پھیلتے ہوئے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ روڈ سیفٹی کو بہتر بنانے کے لیے کافی کچھ باقی ہے۔ محفوظ گاڑیوں کی محفوظ حدِ رفتار کے ساتھ سڑکوں کا معیار بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے، جس کے ساتھ نظام میں بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، ملک بھر میں سیفٹی کے حوالے سے آگہی کی مختلف مہمات روڈ سیفٹی اسٹریٹجی کے نفاذ میں بڑی مدد دیں گی۔

مراد سعید نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت اپنے 5 سالہ عہد کے اختتام تک ملک کے لیے ایک جدید روڈ نیٹ ورک چھوڑ کر جائے گی کہ جو وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق ہوگا۔ انہوں نے پاکستان میں روڈ سیفٹی کو یقینی بنانے اور اس کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے میڈیا کے اہم کردار پر زور دیا۔ اس روڈ سیفٹی اسٹریٹجی کا نفاذ بالخصوص راہ گیروں، موٹر سائیکل سواروں اور تین پہیوں والی سواریوں کے مسافروں کے لیے خاص طور پر مددگار ہوگا۔ حکومت ان مقاصد کو بہترین انداز میں حاصل کرنے کے لیے ہر چھ ماہ میں عملی پیش رفت رپورٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ مستقبل میں گاڑیوں کے تمام مالکان کو ہر سال گاڑی کے سڑک پر چلنے کے قابل ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا جو سڑکوں پر محفوظ سفر کو یقینی بنائے گا اور یہ پروگرام جلد ہی لازمی کردیا جائے گا۔

حکومتِ پاکستان تمام حفاظتی اقدامات اٹھانے اور نئی جاری کردہ حکمتِ عملی کے نفاذ کے لیے تیار ہے تاکہ ان 6000 جانوں کو بچایا جا سکے جو ضائع ہو جاتی ہیں۔ ملک میں سڑکوں کے جال کو زیادہ محفوظ بنانا وقت کی آواز بھی ہے۔ یہ حکمتِ عملی ممکنہ طور پر صوبوں کے تعاون سے نافذ کی جائے گی اور مسلسل کوششیں بلاشبہ پاکستان میں سڑکوں پر سفر محفوظ بنانے میں مددگار ہوں گی۔ دیکھتے ہیں روڈ سیفٹی اسٹریٹجی کا آئندہ سالوں میں کس طرح نفاذ ہوتا ہے یا یہ حکومت کے دیگر منصوبوں کی طرح صرف کاغذ پر ہی رہ جاتی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے PakWheels.com پر آتے رہیے۔ ان خبر پر اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔


Ahmad Shehryar

An Electrical Engineer by profession who writes automotive content at Pakwheels and a photographer.

Top