2018ء میں چھ نئے فضائی اداروں کی آمد کا امکان

Pakistan likely to get six new airlines in 2018

فضائی سفر کی بات ہو تو ذہن میں سب سے پہلا نام پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا آتا ہے۔ لیکن پی آئی اے کے علاوہ بھی کئی دیگر نجی ادارے طویل عرصے سے اس میدان میں سرگرم عمل ہیں اور رواں سال یعنی 2018ء میں بھی کم از کم چھ نئے ادارے اس فہرست میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ امید ہے کہ نئے اداروں کی آمد سے مسابقت میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں مسافروں کو بہتر سے بہترین خدمات مل سکیں گی۔

حاصل شدہ تفصیلات کے مطابق چھ نئی فضائی کمپنیوں نے سِول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کو ریگولر پبلک ٹرانسپورٹ (آر پی ٹی) کے اجازت نامے کی درخواست بھیج دی ہے۔ توقع ہے کہ اجازت نامہ موصول ہونے کے بعد یہ ادارے رواں سال کی پہلی ششماہی میں فضائی سفر کی خدمات کا آغاز کر دیں گے۔

جن اداروں نے آر پی ٹی لائسنس کے لیے درخواست دی ہے، ان کی تفصیلات یہ ہیں:

  • لبرٹی ایئر (ملکیت: چوہدری منیر اور میاں عامر)
  • یونائیٹڈ ایئرویز پاکستان لمیٹڈ (ملکیت: عدنان تابانی)
  • عفیف زارا ایئروئز (ملکیت: راشد صدیقی)
  • گو گرین ایئرویز (ملکیت: الہی گروپ)
  • ایئر سیال (ملکیت: ایوان تجارت سیالکوٹ SCC)
  • عسکری ایئر پاکستان (ملکیت: آرمی ویلفیئر ٹرسٹ)

شعبہ ہوا بازی کے ایک ماہر نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نئے فضائی اداروں کی آمد سے اندرون ملک سفر کرنے والوں کی ضروریات پوری کی جاسکیں گی تاہم ان اداروں کی آمد سے شعبے میں کوئی بڑی پیش رفت متوقع نہیں کیوں کہ تمام ہی ادارے جہازوں کی خریداری کے بجائے انہیں کرائے پر حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

علاوہ ازیں، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پی آئی اے نے مسابقت کی بڑھتی ہوئی فضا میں اپنے قدم مضبوط رکھنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور اسی ضمن میں اسلام آباد اور گوادر کے درمیان فضائی سفر کی خدمات پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ پڑوسی ملک کے تعاون سے جاری پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت گوادر میں ہوائی اڈے کی تعمیر رواں سال مکمل کر لی جائے گی جس کے بعد گوادر میں کاروباری اور سیاحیی سرگرمیوں کا آغاز متوقع ہے۔ پی آئی اے کی کوشش ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مسافروں کو فضائی سفر کی خدمات فراہم کر کے اس موقع کو منافع بخش بنائے جس سے ادارے کو مالی خسارے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

پاکستان میں نئے فضائی اداروں کی آمد کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ ہمیں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top