گاڑیوں کے شعبے میں ترقی: رواں مالی سال فروخت میں 54 فیصد اضافہ

featured-2014-15-16ur

پاکستان میں گاڑیوں کا شعبہ گزشتہ سال سے ترقی کی جانب گامزن نظر آرہا ہے اور رواں مالی سال کے دوران اس میں تسلسل کے ساتھ مزید بہتری آرہی ہے۔ شعبے کی اسی مثبت صورتحال دیکھنے کے بعد فیات، ووکس ویگن اور رینالٹ جیسے معروف کار ساز اداروں کی پاکستان میں دلچسپی پر زیادہ حیرت نہیں ہوتی۔

مالی سال 2014-15 میں مجموعی طور پر 151,134 گاڑیاں فروخت ہوئیں۔گزشتہ مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں فروخت ہونے والی گاڑیوں کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

fy2014-15

جبکہ روں مالی سال 2015-16 کے ابتدائی پانچ ماہ میں فروخت ہونے والی گاڑیوں کے اعداد و شمار کچھ اس طرح ہیں:

fy2015-16

دونوں حسابات کا موازنہ کریں تو یہ بات واضح ہے کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 54 فیصد زیادہ رہی ہے۔

موٹر سائیکل کے شعبے پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی کافی حوصلہ افزا نتائج ملیں گے۔ مالی سال 2014-15 میں جولائی تا نومبر فروخت ہونے والی موٹر سائیکلوں کی تعداد 292,895 رہی جبکہ موجودہ مالی سال کے انہی مہینوں میں یہ تعداد 373,536رہی جو 27 فیصد زیادہ ہے۔یاد رہے کہ ان حسابات میں راوی اور ہیرو موٹر سائیکل کی فروخت شامل نہیں اور اگر انہیں بھی شامل کیا جائے تو یہ تعدادکہیں زیادہ ہوجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: نسان اور رینالٹ کی نئی گاڑیاں متعارف کروانے سے متعلق گفتگو

گزشتہ مالی سال (جولائی تا نومبر) کے دوران فروخت ہونے والی ٹویوٹا کرولا کی تعداد 16,847 تھی جس میں رواں مالی سال 38 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 23,384 ہوگئی۔ ٹویوٹا کرولا کی گیارہویں جنریشن کی متوقع آمد کے باعث جولائی 2014 میں صرف 673 کرولا فروخت ہوئیں جبکہ اگلے سال جولائی 2015 میں یہ تعداد 3,868 تک پہنچ گئی۔

toyota corolla 2014-15-16

اوپر موجود گراف سے آپ مالی سال 2015-16 کے دوران فروخت ہونے والی گاڑیوں کی مجموعی تعداد کے ساتھ ساتھ کرولا کی فروخت کا بھی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ مذکورہ دورانیے میں کُل 75,805 گاڑیاں فروخت ہوئیں جن میں سے 30 فیصد یعنی 23,384 صرف ٹویوٹا کرولا کی فروخت ہے۔ یہ کسی بھی برانڈ کے لیے قابل فخر اعدا د و شمار ہیں۔ کرولا کی اتنی زیادہ فروخت کے پیچھے کار فرما عوامل میں سے ایک کسی ہم پلہ گاڑی کا موجود نہ ہونا بھی ہے۔ عام طور پر ٹویوٹا کرولا کے سامنے ہونڈا سِوک کو مقابلے ے لیے رکھا جاتا ہے تاہم سِوک کی فروخت سے متعلق اعداد و شمار تو بیان کے قابل بھی نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئی آٹو پالیسی پر جاپانی اور یورپی اداروں کے درمیان رسہ کشی کا آغاز

سِوک اور سِٹی کی انتہائی کم فروخت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہونڈا یٹلس ان کی فروخت سے متعلق اعداد و شمار کا مجموعہ پیش کر رہی ہے۔ مالی سال 2014-15 (جولائی تا نومبر) میں سِوک اور سِٹی کی مجموعی فروخت 7,888 رہی جبکہ آئندہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 9,582 تک پہنچی۔ نئی ہونڈا سِوک کی متوقع پاکستان آمد کے باعث فروخت میں کمی قابل فہم ہے۔ ہونڈا کی گاڑیوں میں سب سے زیادہ سِٹی فروخت ہورہی ہے باوجودیکہ عالمی سطح پر نئی ہونڈا سِٹی کی آمد کے بعد بھی ہونڈا ایٹلس نے پرانی جنریشن کی فروخت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

civic & city 2014-15-16

پنجاب سبز ٹیکسی اسکیم کی بدولت پاک سوزوکی بھی زبردست ترقی کر رہی ہے۔ مالی سال 2014-15 اور 2015-16 کے ابتدائی پانچ کے دوران راوی اور بولان کی فروخت کچھ اس طرح رہی:

ravi bolan 2014-15-16

1000 سے 800 سی سی گاڑیوں کی فروخت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔ اس زمرے میں سوزوکی مہران اور سوزوکی بولان ہی وہ گاڑیاں ہیں جو مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں۔ ان دنوں گاڑیوں کی جولائی تا نومبر 2014 کی مجموعی فروخت 16,018رہی ہے جبکہ آئندہ مالی سال اسی عرصے کے دوران یہ تعداد 96 فیصف اضافے کے بعد 31,473 تک جا پہنچی ۔ اور اس کی بنیادی وجہ ٹیکسی اسکیم میں بولان کا پیش کیا جانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کلٹس کا دور ختم؛ سوزوکی سلیریو آیا چاہتی ہے!

گوکہ پاک سوزوکی کلٹس کا متبادل لانے کے ارادے رکھتی ہے، کلٹس کی فروخت اب بھی تسلسل سے جاری ہے۔ جولائی اور نومبر 2015 کے دوران 6,273 کلٹس فروخت ہوئیں جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 5,425 رہی۔ انہی ماہ میں سوزوکی ویگن آر کی فروخت میں بھی تقریباً دوگنا اضافہ ہوا۔

suzuki wagonR  2014-15-16

شرح کے اعتبار سے ہونے والے اضافے میں سرفہرست پِک اپس رہیں جن میں سوزوکی راوی، ٹویوٹا ہائی لکس، ہونڈائی شہزور، ماسٹر وغیرہ شامل ہیں۔ جولائی تا نومبر 2014 کے عرصے میں مجموعی طور پر 6,632 پِک اپس فروخت ہوئیں جبکہ اگلے سال انہی مہینوں میں یہ فروخت 162 فی صد اضافے کے بعد 17,384 تک جا پہنچی۔

گاڑیوں کا واحد زمرہ جس میں شامل گاڑیاں پچھلے مالی سال کے مقابلے میں کم فروخت ہوئیں وہ جیپ (4×4) کا رہا۔ پاما صرف دو ہی گاڑیوں ٹویوٹا فارچیونر اور سِگما ڈیفینڈر (لینڈ روور ڈیفینڈر) کو اس زمرے میں شامل رکھتا ہے۔ مالی سال 2014-15 کے پہلے پانچ مہینوں میں 502 جیپ فروخت ہوئی جبکہ مالی سال 2015-16 کے ابتدائی پانچ ماہ میں یہ تعداد گھٹ کر 381 ہوگئی۔

مجموعی طور پر گاڑیوں کے شعبے میں ہونے والی ترقی اور پاکستان میں غیر ملکی کار ساز اداروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی دیکھتے ہوئے ہم امید کرتے ہیں کہ ہمیں آئندہ بھی بہت حوصلہ افزا نتائج ملیں گے۔

Top