پیرس، فرانس: 1997 سے پہلے رجسٹر شدہ گاڑیوں پر پابندی کا فیصلہ

Smog in Paris

دنیا کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک پیرس اس وقت شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہے۔ فرانس کے دارلحکومت کو آلودگی کے بھنور سے نکالنے کے لیے 1997 سے پہلے رجسٹر کروائی جانے والی گاڑیوں اور 1999 سے قبل رجسٹر کروائی جانے والی موٹر سائیکلوں کے شہر میں داخلے پر جزوی پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یکم جولائی 2016 سے نافذ العمل اس فیصلے کے تحت صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک پرانی گاڑیاں اور موٹر سائیکل چلانے پر پابندی ہوگی۔ ایک اندازے کے مطابق اس سے پیرس کے موجودہ ٹریفک میں 10 فیصد کمی لائی جاسکے گی۔ پیرس کے میئر آفس کا کہنا ہے کہ شہر میں موجودہ نائیٹروجن ڈائی آکسائیڈ آلودگی میں گاڑیوں کا دو تھائی حصہ ہے جو شہر کی مجموعی آلودگی کا 50 فیصد بھی بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں اور موٹر سائیکل کا دھواں چہرے کو نقصان پہنچا سکتا ہے

پیرس کی موجودہ میئر آن ہیدالگو کی جانب سے تاریخی شہر کو آلودگی سے پاک کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے تازہ قدم کو کافی موثر اور مثبت تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ تاہم یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی بڑے شہر میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر پابندی لگائی گئی ہو۔ اس سے قبل دنیا کے دیگر نمایاں شہروں میں بھی اس طرح کے فیصلے کیے جاچکے ہیں۔

پیرس میں بھی اس سے قبل متعدد بار ہفتے میں ایک دن گاڑیوں پر مکمل پابندی لگانے کے فیصلے پر عمل کیا جاچکا ہے۔ سال 2014 میں طاق عدد (odd) اور جفت عدد (even) والی نمبر پلیٹس کی حامل گاڑیوں کو متبادل دنوں میں چلانے کی اجازت دینے کا بھی انوکھا فیصلہ بھی آزمایا جاچکا ہے۔ علاوہ ازیں، عوامی ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کے لیے بسوں کے کرائے کو جزوی طور پر ختم کر کے بھی آلودگی پر قابو پانے کی کوشش کی جاچکی ہے۔

بہرحال، تازہ فیصلے سے فرانسیسی حکومت اور پیرس کی میئر نے ایک بار پھر شہر کو فضائی آلودگی سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ سال 2020 تک پیرس میں ڈیزل گاڑیوں پر مکمل پابندی لگائے جانے کے ساتھ 2011 سے قبل رجسٹر کروائی جانے والی گاڑیاں چلانے کی بھی ممانعت ہوگی۔

Cars impact on smog

Adan Ali

Adan is a Tribe Leader at Drive Tribe, who writes to share his passion for cars, culture and gadgetry through words. So far his writings and contributions have been able to make their way to media outlets like PakWheels and Dawn. Reach out to him by tweeting @adanali12

Top