پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 13 روپے تک کمی کا امکان

petrol

وزارت پیٹرولیم کے ذرائع سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق پاکستان میں یکم فروری 2016 سے تیل کی قیمتوں میں 13 روپے تک کمی کا امکان ہے۔ اس کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی ہے جو 12 سال کے دوران سب سے کم ترین سطح پر آچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس؛ عوام پر شدید معاشی بوجھ کے مترادف

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 25 ڈالر فی بیرل مزید کمی آئی ہے۔ اس وقت خام تیل کی قیمت 30 ڈالر سے بھی کم ہوچکی ہے۔ یاد رہے کہ آٹھ ماہ قبل خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔

ایک اندازے کے مطابق ملک میں آئندہ ماہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8.74 روپے فی لیٹر، پیٹرول 9 روپے فی لیٹر، مٹی کا تیل 9.77 روپے فی لیٹر، ہائی آکٹین 13 روپے فی لیٹر سستا ہونے کی امید ہے۔ کھیتی باڑی اور تعمیرات کی مشینوں میں استعمال ہونے والا لائٹ ڈیزل بھی 8.56 روپے فی لیٹرسستا کیے جانے کا امکان ہے۔

پیٹرول مصنوعات کی فی لیٹر موجودہ قیمتیں یہ ہیں:
پیٹرول: 76.26 روپے
ہائی آکٹین: 80.66 روپے
مٹی کا تیل: 48.25 روپے
لائیٹ – اسپیڈ ڈیزل: 44.94 روپے
ہائی اسپیڈ- ڈیزل: 80.70 روپے

خام تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر ہونے والی کمی کے اثرات مکمل نہ سہی، کسی نہ کسی حد تک پاکستان پر بھی پڑنا شروع ہوگئے ہیں۔ ملک میں تیل کا استعمال 11 فیصد سالانہ شرح سے بڑھ رہا ہے جس کے باعث پیٹرولیم مصنوعات تیار کرنے والے ادارے بھرپور منافع کما رہے ہیں۔ پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے سربراہ آفتاب حسین نے کہا

خام تیل سے پیٹرولیم مصنوعات مثلاً پیٹرول اور فرنس آئل کی تیاری اور طلب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

شعبے کے ماہرین اور مبصرین حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری منافع پر شدید تنقید کرتے آرہے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود حکومتِ وقت عوام سے اضافی قیمتیں وصول کر رہی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کے بعد حکومت پاکستان پر پیٹرول کی قیمت 40 روپے فی لیٹر سے کم رکھے جانے کا مطالبہ زور پکڑنے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئی آٹو پالیسی کا اعلان جلد کیا جائے گا: وفاقی وزیر غلام مرتضی خان جتوئی

ایوان صنعت و تجارت لسبیلا کے صدر مسعود اسماعیل نے کہا

نہ صرف تیل بلکہ بجلی اور نقل و حمل کے ذرئع بشمول ریل اور ہوائی سفر کے کرایوں میں بھی فی الفور کمی لائی جانی چاہیے۔

دیکھنا یہ ہے کہ آیا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی یکم فروری تک برقرار رہتی ہے یا اس میں پھر اضافہ ہوتا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں رد و بدل آتا ہے تو حکومت کے لیے تیل کی قیمتوں کا تعین کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

Top