ہوشیار: پیٹرول پمپ پر آپ کو 4 طریقوں سے دھوکا دیا جارہا ہے!

feature

ہمارے یہاں پیٹرول اسٹیشن پر دھوکا دہی کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاہم گزشتہ چند سالوں کے دوران انٹرنیٹ پر اس ضمن میں بے تحاشہ واقعات سامنے آرہے ہیں۔ انہیں دیکھتے ہوئے سوال کیا جاسکتا ہے کہ ملک میں صارفین کے حقوق سے تعلق قانون محض دکھاوا ہیں یا کہیں ان پر عملدرآمد ہو بھی رہا ہے؟ اگر کوئی فرد اس بارے میں تحقیق کرنا چاہے تو اسے پاک ویلز فورم پر بنائے گئے کئی تھریڈز نظر آئیں گے کہ جس میں فورم اراکین نے ملک کے مختلف حصوں میں پیٹرول اسٹیشن پر ہونے والی دھوکا دہی کی افسوسناک کہانی لکھی ہوئی ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نت نئی ٹیکنالوجی کی آمد اور سیکورٹی کیمروں کی موجودگی کے باوجود پیٹرول پمپ پر عوام کو کس طرح لوٹا جاسکتا ہے؟ اس کا جواب جاننے کے لیے میں نے پاک ویلز فورم پر شیئر کیے جانے والے واقعات کو یکجا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک جیسے واقعات کو اکھٹا کرنے کے بعد میں نے پیٹرول پمپ پر کام کرنے والے ایک فرد سے رابطہ کر کے اس گتھی کو سلجھانے کی درخواست کی۔ اس طرح مجھے وہ چند طریقہ کار معلوم ہوئے جس کے ذریعے پیٹرول اسٹیشن پر عوام کی آنکھوں دھول جھونکی جاتی ہے اور کسی کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔

1: توجہ بٹانے کا طریقہ

آپ ایک پیٹرول اسٹیشن پر جاتے ہیں اور وہاں موجود فرد سے ایک مخصوص رقم کے مطابق پیٹرول بھرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ پیٹرول اسٹیشن پر موجود خدمت گار مشین کے میٹر کو ‘صفر’ پر لاتا ہے اور آپ سے تصدیق کرلینے کی درخواست کرتا ہے۔ آپ میٹر کی طرف دیکھ کر یقین دہانی کرتے ہیں اور پیٹرول بھرنے کا اشارہ کردیتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں مسلسل میٹر پر لگی رہتی ہیں تاکہ صحیح تعداد میں پیٹرول بھرے جانے کی تصدیق کرسکیں۔ ایسے میں اچانک ایک آواز آتی ہے “سر! وائپر لگادوں؟” اور آپ کی تمام تر توجہ کا بیڑہ غرق ہوجاتا ہے۔ آپ آواز کی جانب رخ کرتے ہیں اور کہتے ہیں “ہیں۔۔۔؟ اچھا وائپر ۔۔ ہاں لگادو لگادو” اور تب تک آپ کے ساتھ ‘کہانی’ ہوچکی ہوتی ہے۔ واپس میٹرکی جانب مڑنے پر آپ کو پتہ چلتا ہے کہ پیٹرول بھرا جاچکا ہے۔ حالانکہ جب تک آپ میٹر کو دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ عام رفتار سے چلتا رہتا ہے لیکن جیسے ہی آپ کی توجہ بٹی میٹر تیزی سے گھومتے ہوئے آخری حد تک پہنچ گیا یا پہنچا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: CNG اسٹیشنز پر اضافی رقم کی وصولی اور ہماری لاپرواہی

2: چلو بھر پیٹرول بچانے کا طریقہ

ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب گاڑی میں پیٹرول بھرنے کے لیے ایک فرد کو پائپ میں لگے نوزل (nozzle) کو دبائے رکھنا ہوتا تھا۔ لیکن اب زیادہ تر پیٹرول اسٹیشن پر آٹومیٹک نوزل والا نظام موجود ہے۔ مینوئل نوزل کے زمانے میں اکثر شکایات سامنے آتی تھیں کہ فلاں پیٹرول والا پورا پیٹرول نہیں ڈالتا لیکن آٹومیٹک نوزل آنے کے بعد یہ شکایت دور ہوگئی۔لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نا جائے۔ آٹومیٹک نوزل آنے کے بعد بھی ان اسٹیشن پر پیٹرول بچانے کا طریقہ نکال ہی لیا گیا۔ آٹومیٹک نوزل کی حامل مشینوں میں ایک لاک لگا ہوا ہوتا ہے جو مقررہ رقم کے مطابق پیٹرول فراہم کرنے کے بعد بند ہوجاتا ہے۔ ایسے میں ہیرا پھیری کیسے ممکن ہے؟ آئیے ہم آپ کو سمجھاتے ہیں۔

آپ ایک پیٹرول اسٹیشن پر جاتے ہیں اور وہاں موجود فرد سے ایک مخصوص رقم کے مطابق پیٹرول بھرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ پیٹرول اسٹیشن پر موجود خدمت گار مشین کے میٹر کو ‘صفر’ پر لاتا ہے اور آپ سے تصدیق کرلینے کی درخواست کرتا ہے۔ آپ میٹر کی طرف دیکھ کر یقین دہانی کرتے ہیں اور پیٹرول بھرنے کا اشارہ کردیتے ہیں۔ پیٹرول بھرنے والا فرد نوزل گاڑی میں داخل کرتا ہے تو آپ کی آنکھیں مسلسل میٹر پر لگی رہتی ہیں تاکہ صحیح تعداد میں پیٹرول بھرے جانے کی تصدیق کرسکیں۔ اس مرتبہ آپ کو کوئی بھی تنگ نہیں کرتا اور آپ پوری توجہ سے میٹر کی جانب دیکھتے رہتے ہیں۔ پھر جیسے ہی میٹر پر مقررہ رقم کے مطابق پیٹرول فراہمی کا بتایا جاتا ہے ویسے ہی پیٹرول بھرنے والا فرد نوزل باہر نکال لیتا ہے۔ آپ کو اس تمام وقت میں دھوکا دہی کا احساس تک نہیں ہوتا کیوں کہ وہ بالکل آخر میں انجام دیا گیا ہے۔

ہوتا یہ ہے کہ پیٹرول پمپ کی مشین ایندھن فراہم کرنے کے اعتبار سے چلتی ہے اور مقررہ رقم کے مطابق ایندھن مشین سے نکل جانے کے بعد میٹر چلنا بند ہوجاتا ہے۔ لیکن مشین کے ساتھ جڑے نوزل میں اس وقت بھی پیٹرول کی کچھ مقدار باقی رہتی ہے۔ نوزل میں پیٹرول کی مقدار ختم ہونے پر کِلک (Click) کی آواز آتی ہے اور اصولاً پیٹرول بھرنے والے فرد کو اس آواز کے بعد ہی نوزل کو گاڑی سے نکالنا چاہیے۔ لیکن پیٹرول بھرنے والا فرد اس کِلک کی آواز سے پہلے ہی نوزل کو ازخود بند کر کے گاڑی سے علیحدہ کردیتا ہے یوں نوزل سے جڑے پائپ میں موجود پیٹرول واپس چلاجاتا ہے حالانکہ اس کی قیمت آپ سے وصول کرلی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پیٹرول پمپ پر فی گاڑی 50 سے 100 ملی لیٹر تیل بچایا جاتا ہے اور روزانہ ہزاروں گاڑیوں کے ذریعے کئی لیٹر تیل کی ہیر پھیر باآسانی کرلی جاتی ہے۔

3: باتوں میں لگانے کا طریقہ

یہ بلاشبہ سب سے پرانا اور قدیم ترین طریقہ ہے۔ اگر کسی نے پیٹرول پمپ پر کی جانے والی دھوکا دہی سے متعلق کتاب لکھی تو یہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے حربوں میں سے ایک قرار دیا جائے گا۔ دراصل یہ طریقہ کار پرانے وقتوں سے چلا آرہا ہے کہ جب میٹر کے ذریعے پیٹرول بھرنے کا آغاز ہوا تھا۔ اس میں پیٹرول بھروانے کے خواہش مند فرد کو باتوں میں لگا کر میٹر سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ شریف آدمی باآسانی اس حربے کا شکار ہوجاتا ہے۔ وہ کیسے؟ آئیے دیکھتے ہیں۔

آپ ایک پیٹرول اسٹیشن پر جاتے ہیں اور وہاں موجود فرد سے ایک مخصوص رقم کے مطابق پیٹرول بھرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ پیٹرول اسٹیشن پر موجود خدمت گار آپ کو انتہائی مودبانہ انداز میں سلام کرتا ہے، خیر خیریت دریافت کرتا ہے اور دیگر حال احوال پر بات کرتے ہوئے پیٹرول بھرنا شروع کردیتا ہے۔ جب آپ میٹر کی جانب متوجہ ہوتے ہیں تب تک وہ کہیں آگے بڑھ چکا ہوتا ہے اور چند ہی سیکنڈ میں مقررہ رقم کے مطابق پیٹرول بھرنے کی ‘نوید’ سنا دی جاتی ہے۔ پیٹرول پمپ والے کی خوش اخلاقی اپنی جگہ لیکن کیا پیٹرول بھرنے سے قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مشین کے میٹر کو ‘صفر’ پر لایا گیا یا پھر اس کے بغیر ہی پیٹرول بھرنا شروع کردیا؟ یہاں بہت سے لوگ گڑبڑا جاتے ہیں اور چونکہ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا اس لیے ان کے پاس سوائے پیٹرول بھرنے والے فرد پر یقین کرنے کے اور کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔

یہ بھی پڑھیں: اپنی گاڑی کی مائلیج بڑھانا چاہتے ہیں؟ ان تجاویز پر لازمی عمل کریں

4: گمراہ کرنے کا طریقہ

یہ طریقہ کار سب سے سادہ اور آسان ہے تبھی آج کل اسے استعمال کیے جانے سے کافی سننے میں آتا ہے۔ پیٹرول پمپ پر صارفین کو کیسے گمراہ کرنے کے لیے یہ مثال پڑھیں۔

آپ ایک پیٹرول اسٹیشن پر جاتے ہیں اور وہاں موجود فرد سے 1000 روپے کا پیٹرول بھرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ پیٹرول اسٹیشن پر موجود خدمت گار مشین کے میٹر کو ‘صفر’ پر لاتا ہے اور آپ سے تصدیق کرلینے کی درخواست کرتا ہے۔ آپ میٹر کی طرف دیکھ کر یقین دہانی کرتے ہیں اور پیٹرول بھرنے کا اشارہ کردیتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں مسلسل میٹر پر لگی رہتی ہیں تاکہ صحیح تعداد میں پیٹرول بھرے جانے کی تصدیق کرسکیں۔ ایسے میں اچانک میٹر 200 پر آکر رک جاتا ہے اور آپ حیران رہ جاتے ہیں۔ آپ پیٹرول بھرنے والے فرد کو بتاتے ہیں کہ بھائی 1000 روپے کا پیٹرول ڈالنا ہے لیکن آپ نے صرف 200 کا ڈال دیا اور وہ جواباً اپنی عدم توجہی پر معذرت کرتے ہوئے پیٹرول دوبارہ بھرنے لگتا ہے۔ آپ ایک بار پھر حیران رہ جاتے ہیں کہ میٹر 800 پر آکر رک جاتا ہے۔ لیکن پیٹرول اسٹیشن کا نمائندہ آپ کو بتاتا ہے کہ پہلے اس نے 200 روپے کا پیٹرول ڈالا پھر دوبارہ میٹر کو ‘صفر’ کرنے کے بعد 800 روپے کا پیٹرول ڈال دیا۔ لیکن کیا آپ نے دوسری مرتبہ اسے مشین کو ‘صفر’ پر کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ نہیں۔ اور یہی وہ موقع ہے کہ جب آپ کے ساتھ ہاتھ ہوگیا۔

دھوکا دہی سے بچنے کا طریقہ

مجھے یقین ہے کہ یہاں بیان کی جانے والی چند مثالوں کے علاوہ بھی بہت سے طریقوں سے پیٹرول پمپ پر خریداروں کو دھوکا دیا جاتا ہے۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ درج ذیل تجاویز پر عمل کر کے آپ اس دھوکا دہی سے محفوظ رہ سکتے ہیں:

1: پیٹرول بھروانے سے قبل میٹر کے ‘صفر’ پر ہونے کی تصدیق کرلیں۔
2: پیٹرول بھرنے والے شخص کو میٹر سے دور ہونے کی درخواست کریں تاکہ آپ میٹر پر نظر رکھ سکیں۔
3: بہتر ہوگا کہ پیٹرول بھرواتے ہوئے گاڑی سے باہر آجائیں اور پیٹرول بھرنے والے فرد کے قریب ہی رہیں۔
4: وہاں موجود دیگر افراد کی جانب سے توجہ بٹانے کی کوشش کو نظر انداز کریں اور اپنی آنکھیں ہمہ وقت میٹر پر رکھنے کی کوشش کریں۔
5: چاہے جتنی بھی جلدی ہو پیٹرول بھرے جانے سے قبل پیسے ادا نہ کریں۔
6: میٹر پر ‘صفر’ اس وقت تک رہنا چاہیے کہ جب تک نوزل گاڑی میں داخل نہ ہوجائے۔
7: اگر گاڑی سے باہر آنا ممکن نہیں تو کوشش کریں کہ ایندھن بھرواتے ہوئے آپ کی نظریں میٹر پر رہیں اور پیٹرول بھرنے والے فرد کو ہاتھ کی صفائی دکھانے کا موقع نہ دیں۔
8: اگر مطلوبہ تعداد میں پیٹرول بھروانے سے پہلے ہی میٹر رک جائے تو بھی اپنی توجہ میٹر پر رکھیں اور ایندھن بھرنے والے فرد کی باتوں میں آکر بھٹکنے سے بچیں۔
9: رقم کے بجائے مقدار (لیٹر) کے حساب سے پیٹرول بھروائیں۔

اگر آپ کے ساتھ بھی پیٹرول پمپ پر کوئی ہیرا پھیری کا واقعہ پیش آیا ہے تو اسے ہمارے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ اس طرح ہم ایک دوسرے کو پیٹرول اسٹیشن پر ہونے والی دھوکا دہی سے ہوشیار رہنے اور ان کے سدباب کی کوشش کرسکیں گے۔

We all make mistakes in life but I believe in learning from them and that is why I have opted to become an auto-journalist. I have a tech background but I prefer to write and express my views on cars because I am petrol head.

  • Khan

    4th option se mjhy dhoka dainy ki koshish ki gi thi

  • Hafiz Waqas Munir

    9th option ghalat (ulat) likhi hoi hai.

  • Sajid Khan

    PSO pump near gholra on kashmir highway (islamabad) is the mother of frauds… many including me have been a victim…

  • Faheem Abbas

    Once I went to the fuel station and asked the worker to fill out Rs.500’s petrol. The guy ahead of me got 250’s petrol and the same figure was still on the meter. The worker started fueling it and the meter started from 250 to 500. I was constantly watching it even though the worker tried to affect my focus on the meter by first coming in front of the meter, and later asking me stupid questions like “From where did you change your engine oil” bla, bla, bla. When the meter stopped at 500, I immediately pointed this out to him and informed him and the other guys waiting for their turn that I was watching when he started the meter from 250. People gathered there and he had to add another Rs.250’s fuel in my bike.

  • Zuhaib

    In Lahore near general hospital caltax petrol pump stations are full of fraud, looting people…I am sure they ammend their machines, while refilling machine showed me that full fuel has transformed, but in actually its much less then that, when I refill from this pump, mery sath esy he hath hua,,,

  • German Ab

    which petrol pump provides best quality petrol in Lahore near Cantt mughalpura etc. specially for JDM cars. thanks

  • Hassan Naqvi

    Yesterday Shell F-10 Markaz Fill my Bike (Suzuki GS-150) with 15 Liter. I was astonished… coz Suzuki claim 13.25 is the max capacity of the Bike Tank. I argued but they were willing to fight. nothing to do.

Top