یکم جولائی 2016ء سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

petrol price

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا) نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز وزارت پیٹرولیم کو ارسال کردی ہے۔ ملکی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی خبروں کے مطابق اوگرا نے یکم جولائی سے مختلف پیٹرولیم مصنوعات پر 1.75 روپے سے 4.5 روپے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی ہے۔ قیمتوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ وزارت خزانہ اور وزیر اعظم کی مشاورت سے 28 جون تک کرلیا جائے گا۔

معروف انگریزی روزنامے بزنس ریکارڈر کے مطابق وزارت پیٹرولیم کے ذرائع کہنا ہے کہ آئندہ ماہ سے پیٹرول پر 2.60 رو پے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 3.20 فی لیٹر، لائٹ ڈیزل آئل پر 1.80 روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل پر 3.50 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی آکٹین پر 4.50 روپے فی لیٹر اضافے کی توقع ہے۔پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں اوران میں مجوزہ اضافے کا خلاصہ درج ذیل ہے:

پیٹرول لائٹ ڈیزل ہائی اسپیڈ ڈیزل مٹی کا تیل ہائی آکٹین
موجودہ قیمتیں 64.27 37.97 72.25 43.25 72.62
مجوزہ قیمتیں 66.87 39.77 75.45 46.75 77.12

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکس؛ حکومت سے رعایت کی امید فضول ہے!

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 47 سے 50 ڈالر فی بیرل کی سطح پر موجود ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال خام تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل تک ہوجانے کے امکانات ہیں۔ پاکستان میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی مانگ سب سے زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں ماہانہ 6 لاکھ ٹن ہائی اسپیڈ ڈیزل، 4 لاکھ ٹن پیٹرول، 10 ہزار ٹن مٹی کا تیل اور 6 ہزار ٹن ہائی آکٹین فروخت ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ اوگرا نے مئی اور جون کے لیے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز ارسال کی تھی جسے وزیر اعظم نواز شریف نے مسترد کردیا تھا۔ جون میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائے جانے سے دیگر اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان تھا لہٰذا حکومت نے ماہِ رمضان میں عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے لیے موجودہ قیمتیں ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اگر حکومت کے سابقہ فیصلوں کو مدنظر رکھا جائے تو عید سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان کم نظر آتا ہے۔

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top