ڈبل سواری پر دونوں کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی، لاہور ہائی کورٹ کا حکم


لاہور ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں سٹی ٹریفک آفیسر (CTO) کو حکم دیا ہے کہ وہ یکم دسمبر 2018ء سے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کرنے والے دونوں افراد کے لیے ہیلمٹ پہننے کی پابندی کو لاگو کرنا شروع کردیں۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم دیا۔ اس نے اتھارٹیز کو ٹریفک قواعد و ضوابط کا بھرپور نفاذ کرنے کی ہدایت کی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے چالان کیے جائیں گے۔ قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ (LHC) کے جج علی اکبر قریشی نے حکم دیا تھا کہ وہ ڈبل سواری پر ہیلمٹ نہ پہننے والے افراد کے خلاف کارروائی کریں، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بچے ہوں یا بزرگ۔

مزید برآں، عدالت نے موٹر سائیکلوں پر سائیڈ مررز نہ لگانے والے موٹر سائیکل سوراوں کو ٹکٹ جاری کرنے کا بھی حکم دیا۔ چیف آپریٹنگ آفیسر نے عدالت کو بتایا کہ ای-چالان کے نفاذ کے بعد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں کمی آئی ہے۔

عدالت نے ٹریفک اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہا اور اسے مستقبل میں بھی جاری رکھنے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ ٹریفک پولیس لاہور شہر میں کم عمر ڈرائیورز کو بھی گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دے رہی، کیونکہ یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی خطرناک ہے۔ مزید برآں، عدالتی احکامات کے مطابق مزدوروں کے زیر استعمال یا کنسٹرکشن کیپس کو ہیلمٹ نہیں مانا جائے گا اور اگر کوئی اسے پہن کر موٹر سائیکل چلاتا پایا گیا تو اس کے خلاف ٹکٹ جاری ہوگا۔

اس کے علاوہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) نے لاہور میں تیز رفتاری اور لین کی خلاف ورزی پر ای-چالان جاری کرنا بھی شروع کردیے ہیں۔

ہماری طرف سے اتنا ہی، اس بارے میں اپنے تبصرے نیچے پیش کیجیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top