موٹر سائیکل پر دونوں سواروں کو ہیلمٹ پہننا چاہیے: لاہور ہائی کورٹ


لاہور ہائی کورٹ کے جج علی اکبر قریشی نے اتھارٹیز کو حکم دیا ہے کہ وہ موٹر سائیکل پر دوسرے سوار کی جانب سے ہیلمٹ نہ پہننے کے خلاف کارروائی کریں؛ چاہے پیچھے بیٹھنے والا مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا۔

عدالت نے حکم دیا کہ اتھارٹیز ٹریفک قواعد و ضوابط کے مکمل اطلاق کو یقینی بنائیں۔ مزید برآں نئے حکم کے تحت دو سے زیادہ افراد کو موٹر سائیکل پر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ احکامات عدالت کی جانب سے اس وقت دیے گئے جب ٹریفک پولیس نے عدالت ہی کی جانب سے دیے گئے گزشتہ احکامات کی رپورٹ پیش کی تھی۔

قبل ازیں عدالت نے حکم دیا تھا کہ لاہور کی ٹریفک پولیس کم عمر ڈرائیورز کو شہر کی سڑکوں پر گاڑیاں نہ چلانے دے کیونکہ یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ دوسرے افراد کے لیے بھی خطرناک ہے۔ مزید برآں، عدالت کے حکم پر، ہیلمٹ نہ پہننے والے افراد کے خلاف بھی کارروائی عروج پر ہے، اور اتھارٹی اس ضمن میں بہت سے چالان کر چکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس اب تک ہیلمٹ نہ پہننے پر 171577 ٹکٹس جاری کر چکی ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ کریک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں نے ہیلمٹ پہننے شروع کردیے ہیں اور ٹریفک حادثات کم ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ لیبر یا کنسٹرکشن کیپ ہیلمٹس میں شمار نہیں ہوتے اور اگر کوئی موٹر سائیکل چلاتے ہوئے انہیں پہنتا ہے تو اس کا چالان کیا جائے گا، عدالت نے زور دیا۔

نہ صرف پنجاب بلکہ اسلام آباد اور سندھ بالخصوص کراچی میں بھی اتھارٹیز ہیلمٹ نہ پہننے والے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد پر سختی کر رہی ہیں۔

اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top