ٹریفک جام کیوں ہوتا ہے؟ آن لائن گیم سے سمجھیں!

giant-traffic-jam

کوئی بھی شخص ٹریفک جام کو پسند نہیں کرتا۔ان میں پھنس کروقت اور ایندھن تو ضائع ہوتا ہے ہی ساتھ شدید کوفت بھی اٹھانا پڑتی ہے۔ یہ صورتحال اس وقت اور بھی زیادہ پریشان کن ہوجاتی ہے کہ جب گاڑیاں بظاہر کسی وجہ کے بغیر ہی پھنسی ہوئی ہوں۔ بمشکل ٹریفک جام سے باہر نکل کر علم ہی نہیں ہوپاتا کہ آخر اس بدنظمی کی وجہ کیاتھی۔ نہ تو سڑک بند ہے، نہ کوئی گاڑی خراب ہوئی اور نہ ہی سگنل کی وجہ ٹریفک رکا ہوا ہے۔۔۔ لیکن پھر بھی آپ گاڑی کو پہلے گیئر میں ڈال کر رینگ رینگ کر چلتے رکاتے اور رکتے چلتے آگے بڑھنے پر مجبور ہیں۔

گزشتہ سال دسمبر میں پاکستان سسٹین ایبل ٹرانسپورٹ پاکستان (پاکسٹران) نے ایک اقوام متحدہ کے شعبہ ترقیاتی پروگرام کے ہمراہ ایک ورکشاپ منعقد کی جس میں اندرون شہر نقل و حمل کے قوانین اور ٹریفک کے انتظامی مسائل سے متعلق گفتگو کی گئی۔ اس ورکشاپ میں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے حوالے سے بھی ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ شہر قائد میں ٹریفک جام کی وجہ سے ہر سال 400 ارب روپے کا ایندھن ضائع ہوجاتا ہے۔ رپورٹ میں ٹریفک جام کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے سڑکوں کی ابتر صورتحال، غیر ضروری ٹریفک سِگنلز کی موجودگی اور غیر قانونی تعمیرات کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بے ہنگم ٹریفک: کراچی میں سالانہ 400 ارب روپے کا ایندھن ضائع ہوتا ہے

گو کہ اس رپورٹ میں بیان کی گئی تمام ہی وجوہات درست ہیں تاہم ٹریفک جام کی ایک بڑی وجہ ڈرائیور صاحبان کی کوتاہی بھی ہے۔ بڑی شاہراہوں پر بے تحاشہ ٹریفک کے دوران کسی بھی ایک ڈرائیور سے ہونے والی محض چھوٹی سی غلطی کا خمیازہ پیچھے آنے والی تمام گاڑیوں کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

مثلاً اگر ایک شخص گاڑی چلاتے ہوئے ریڈیو چینل تبدیل کرنے لگے اور اس دوران گاڑی کی رفتار کم ہوجائے تو اس سے پیچھے آنے والی تمام گاڑیوں کو اپنی رفتار سست کرنا پڑے گی۔ پھر جیسے ہی اگلی گاڑی کی رفتار بڑھے گی ویسے ہی تمام گاڑیوں کے ڈرائیور ایک بار پھر ایکسلریٹر پر دباؤ بڑھا کر گاڑی آگے بڑھائیں گے۔ لکن اس دوران گزرنے والے چند لمحات ٹریفک کا تسلسل متاثر کرنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ڈرائیور کی غلطی سے ٹریفک کے تسلسل میں آنے والا یہ خلل پچھلی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ یوں ٹریفک جام کی شروعات ہوتی ہے اور یہ تب تک جاری رہتا ہے کہ جب تک ٹریفک کا تسلسل ایک بار پھر رواں نہیں ہوجاتا۔ تکنیکی زبان میں اسے کنسرٹینا ایفیکٹ (concertina effect) کہتے ہیں۔

اس حوالے سے گزشتہ روز مجھے ایک دلچسپ آن لائن گیم ملا جس میں ٹریفک کے تسلسل کو قائم رکھنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ کھیل کے دوران اگر آپ کی گاڑی سست ہوتی ہے تو پیچھے آنے والی تمام ہی گاڑیوں کی رفتارا پر اس کا اثر پڑتا ہے اور پھر وہ گاڑیاں بھی سست ہو کر رک جاتی ہیں۔ لہٰذا آپ کو ٹریفک کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مخصوص رفتار سے گاڑی چلانا لازمی ہے ورنہ وہی ہوگا کہ جو آپ اور میں سڑکوں پر روز ہی دیکھتے ہیں۔

ٹریفک جام سے متعلق آن لائن گیم کھیلنے کے لیے یہاں کلک کریں

Top