کیا گاڑیاں بنانے والے ادارے اضافی قیمت مانگنے کا حق رکھتے ہیں؟

honda-cars

پاکستان میں گاڑیوں کے خریداروں کے لیے نئے سال کی شروعات زیادہ خوش کن ثابت نہیں ہوئی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک میں گاڑیاں بنانے والے اداروں نے بھی ایک، ایک کر کے اپنی گاڑیوں کی قیمتیں بڑھانا شروع کر دیں۔ کار ساز کمپنیوں کو اس ناگزیر اقدام کے نتیجے میں زبردست تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم ان اداروں بشمول ہونڈا، سوزوکی اور ٹویوٹا پاکستان، کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر ہے۔

گاڑیوں کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد سماجی روابط (سوشل میڈیا) پلیٹ فارمز پر ایک نئی بحث شروع ہوئی ہے جس میں لوگ گرم جوشی سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک سوال جو اکثر ذہنوں میں ابھر رہا ہے وہ یہ ہے کہ آیا وہ خریدار بھی گاڑی کی اضافی قیمت ادا کرے گا جس نے قیمتوں میں اضافے کے اعلان سے قبل گاڑی کی بُکنگ کروا لی تھی؟ اگر ہاں، تو کیوں؟ اور اگر نہ، تو کیوں؟ اس مضمون میں ہم اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کریں گے۔

زیر بحث سوال کا جواب دینے سے پہلے میں قارئین کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ گاڑیاں بنانے والے اداروں کی جانب سے ان خریداروں کو پیغامات بھی بھیجے جا رہے ہیں جن کی گاڑیاں پہلے سے بُک ہو چکی ہیں۔ ان پیغامات میں ان سے گاڑی کے حصول سے قبل اضافی رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

آئیے، اب اپنے سوال کی جانب واپس آتے ہیں کہ آیا قیمتوں میں اضافہ کیے جانے سے قبل گاڑی بُک کروانے والے خریدار بھی اضافی قیمت ادا کریں گے یا نہیں؟ اگر ہاں، تو بھلا کیوں؟ اور اگر نہ تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اس سوال کا سیدھا سا جواب ہے: جی ہاں، تمام ہی نئے اور پرانے خریداروں کو اضافی رقم ادا کرنا ہو گی کیوں کہ یہ نکتہ اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت گاڑی بُک کی جاتی ہے۔

کار ساز اداروں کی سیلز پالیسی میں یہ کلیہ پہلے ہی موجود ہے کہ گاڑی صرف اسی وقت فراہم کی جا سکتی ہے کہ جب خریدار اس کی حتمی انوائس میں درج پوری قیمت ادا کرے گا۔ اب چونکہ بُکنگ کے بعد گاڑی کو تیاری کے لیے بھیجا جاتا ہے اور کسی بھی قسم کی انوائس فراہم نہیں کی جاتی اس لیے خریدار کو وہی قیمت ادا کرنا ہو گی کہ جو گاڑی کی چابی تھامتے ہوئے انوائس پر لکھی ہوئی ہو گی۔ اس سے قبل اگر قیمت میں اضافے کا اعلان کر دیا جائے تو پھر اس سے بُک شدہ گاڑی کے مالکان بھی متاثر ہوں گے چاہے انہوں نے نصف یا کُل رقم ہی کیوں نہ جمع کروا رکھی ہو۔

اس ضمن میں بہت سے لوگوں نے ہونڈا ایٹلس کو تنقید کا ہدف بنا رکھا ہے۔ ہونڈا نے اپنے سیلز فارم میں یہ نکتہ پہلے ہی سے شامل کر رکھا ہے۔ تو اگر آپ نے ان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے تو آپ نے ادارے کو یہ حق دیا ہے کہ وہ گاڑی کی فراہمی اور حتمی انوائس جاری کرنے سے پہلے اضافی قیمت کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں گاڑی کی فراہمی کے وقت ہی حتمی انوائس فراہم کی جاتی ہے۔

ہم نے اس حوالے سے ہونڈا گاڑیوں کے ایک ڈیلر ہونڈا فورٹ (لاہور) سے بھی رابطہ کیا جنہوں نے ہمارے خیال کی باضابطہ تصدیق کی۔ ہمیں امید ہے کہ اس مضمون سے ان لوگوں کو اپنے سوال کا جواب مل گیا ہو گا جو کار ساز اداروں کی جانب سے اضافی قیمت طلب کرنے پر چراغ پا ہیں۔

کیا آپ ہمارے نکتہ سے مطمئن ہیں؟ ہاں یا نہ، دونوں ہی صورتوں میں ہمیں اپنے خیالات سے ضرور آگاہ کیجیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Notable Replies

  1. roboxx says:

    U forgot to mention and discuss the first part of the Question.. Do car manufacturers have the right to raise the car prices with slightest devaluation of local currency?? Why didn't they reduce the prices even when Rupee value increased in recent past?? Does this slight change of currency valuation give them right to increase the prices upto 50,000 Rs for a car??

Post a Comment

Participants

Top