دھوکہ دہی پر مبنی تشہیر؛ پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) پر بھاری جرمانہ عائد

PSO

ملک میں تیل و گیس کی ترسیل سے وابستہ سرفہرست ادارے پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کو مسابقتی ایکٹ 2010 کی شق 10 کی خلاف ورزی پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ پر الزام ہے کہ اس نے اشتہاری مہم میں ایندھن سے متعلق غلط حقائق پیش کر کے صارفین کو دانستہ طور پر گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ فیصلہ کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) کی چیئرپرسن ودیعہ خلیل، رکن ڈاکٹر شہزاد انصار اور اکرام الحق قریشی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سنایا۔ کمپٹیشن کمیشن نے پاکستان اسٹیٹ آئل کو انگریزی الفاظ ‘گرین’ اور ‘پریمیئم’ کے استعمال سے بھی فوری طور پر روک دیا ہے۔ مزید برآں پاکستان اسٹیٹ آئل کو 30 یوم میں تمام اشتہاری مہم سے مذکورہ الفاظ حذف کرنے کا حکم دیتے ہوئے اردو اور انگریزی قومی اخبارات کے ذریعے حقائق واضح کرنے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔

پاکستان اسٹیٹ آئل پر الزام تھا کہ اس نے ‘پریمیئر XL’ اور ‘گرین پلس’ کی اشتہار مہم میں غلط دعوی کیے۔ ان میں مذکورہ ایندھن استعمال کرنے پر گاڑی کی مسافت میں بہتری، دھویں کے اخراج میں کمی اور انجن کی بہتر کارکردگی کے لیے اضافی اجزا شامل کرنے کا دعوی بھی شامل ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بہترین کارکردگی کا حامل شیل وی- پاور فیول پاکستان میں متعارف

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل نے دھوکہ دہی پر مبنی تشہیری مہم 2003-2004 سے جاری رکھی ہوئی تھی۔ کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ ادارے نے سال 2012-2013 میں اضافی اجزا کی شمولیت کا دعوی ازخود واپس لے لیا تھا تاہم ایندھن کا نام اور گمراہ کن حقائق جوں کے توں استعمال کیے جاتے رہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل ادارے پر لگنے والے الزامات کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہا نیز اشتہار مہم میں کیے جانے والے دعوی کو سائنسی طور پر ثابت کرنے میں بھی کامیاب نہ ہوسکا۔ پی ایس او کے غلط دعوی سے صارفین یہ سمجھتے رہے کہ وہ بہتر اور معیاری ایندھن استعمال کر رہے ہیں۔ اس غیر قانونی حرکت سے شعبے میں مسابقت کی فضا کو سخت نقصان پہنچا ہے۔


Top