پنجاب اسمبلی نے بجٹ ‏2019-20ء‎ منظور کرلیا – آٹو انڈسٹری کس طرح متاثر ہوگی


پنجاب اسمبلی نے بجٹ اور مالیاتی بل برائے مالیاتی سال ‏2019-20ء‎ منظور کرلیا ہے اور 13 جون 2019ء کو پیش کردہ بجٹ میں کیے گئے تمام مطالبات کی منظوری دے دی ہے۔ 

دیگر شعبوں کے علاوہ حکومت کی جانب سے مقامی آٹو سیکٹر کے لیے نئی پالیسیاں بھی مرتب کی گئی ہیں۔ مالیاتی بل سے ہمیں جو تفصیلات ملی ہیں ان کے مطابق مقامی کار اور موٹر سائیکل ڈیلروں پر نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق حکومتِ پنجاب نے مالیاتی بل ‏2019-20ء‎ کے ذریعے موٹرسائیکل/اسکوٹر ڈیلروں پر 6 سے 10 ہزار روپے کا سالانہ ٹیکس لگایا ہے۔ 

دوسری جانب چھوٹے شہروں میں قائم کار ڈیلروں پر 10 ہزار روپے سالانہ اور بڑے شہروں میں موجود کار ڈیلرز پر 20 ہزار روپے سالانہ ٹیکس لگایا ہے۔ PakWheels.com یہ جاننے کے لیے کہ یہ مقامی کار/موٹر سائیکل ڈیلرز کو کس طرح متاثر کرے گی چند مقامی ڈیلرز سے رابطہ کیا۔ موٹر سائیکل اور کار ڈیلرز دونوں کا کہنا ہے کہ یہ سالانہ ٹیکس کار اور موٹر سائیکل ڈیلروں اور ان کے کاروبار کو زیادہ متاثر نہیں کرے گا۔ 

واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے بجٹ کی منظوری کے علاوہ وفاقی حکومت نے بھی ‏2019-20ء‎ کے بجٹ میں مختلف نئی پالیسیاں تجویز کی ہیں جو 29 جون کو منظور ہوں گی۔ آٹوموبائل سیکٹر کے حوالے سے وفاقی بجٹ ‏2019-20ء‎ کی نمایاں جھلک فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کا دائرۂ کار وسیع ہونا ہے جو مقامی طور پر تیار/اسمبل ہونے والی مختلف گاڑیوں پر لاگو ہوئی ہے۔ مجوزہ FED مندرجہ ذیل حساب سے ہر کیٹیگری پر لاگو ہوگی: 

1000cc تک کی گاڑیوں پر 2.5 فیصد FED 

1001cc سے 2000ccتک کی گاڑیوں پر 5 فیصد FED 

2001cc سے زیادہ کی گاڑیوں پر 7.5 فیصد FED 

حکومتِ پنجاب کے کار اور موٹر سائیکل ڈیلروں پر عائد کیے گئے ٹیکس کے بارے میں اپنی رائے نیچے پیش کیجیے۔


Google App Store App Store

My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top