پنجاب حکومت لاہور میں روپ ویز نصب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے

csm_anwendungen-urban-8mgd_marichetramoexpreso-doppelmayr_04_11e626ab57

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والی ایک حالیہ میٹنگ میں لاہور کے مختلف مقامات پر روپ ویز نصب کرنے کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت کا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ زرائع آمدورفت کو بہتر بنا کر شہر کی حالت بہتر کی جاسکتی ہے۔

روائیتی طور پر روپ ویز آمدورفت کے لیے پہاڑی علاقوں میں استعمال کی جاتی ہیں جہاں ان رسیوں کو چلانے کے لیے ایک موٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک غیر ملکی روپ ویز ٹرانسپورٹ سسٹم بنانے والی کمپنی نے اس آنے والے پروجیکٹ میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اس بات سے روپ ویز کو ٹرانسپورٹ کے لیے امامیہ کالونی تا ریلوے اسٹیشن، مقبرہ جہانگیر تا اقبال پارک، اور جلو موڑ تا ٹھوکر نیاز بیگ اور اسلام آباد تا مری تک استعمال کرنے کے خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔

بہت سی وجوہات کی بناء پر روپ ویز ایک قابل عمل منصوبہ لگتا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اسے چلانے کے لیے بہت بڑے سرمایہ کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ باقی تمام زرائع آمدورفت میں ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں روپ ویز وہ واحد زریعہ ہیں جو ٹریفک کے نظام کو متاثر کیے بغیر بہترین زرائع آمدورفت فراہم کر سکتا ہے۔

مزید یہ کہ روپ ویز کے زریعے عوام بڑا اور بھاری سامان باآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرسکتی ہے۔ حکومت شہری علاقوں میں جو بھی آمدورفت کے لیے پروجیکٹ لگانے کا ارادہ رکھتی ہے اس کا مقصد صرف یہی ہے کہ وہ بہتر آمدورفت اور مواقع فراہم کرے۔ روپ ویز ٹرانسپورٹ سسٹم کا ہمارے ماحول پر بھی منفی اثر نہ ہونے کے برابر ہے چونکہ اس سے خطرناک گیس خارج نہیں ہوتی جیسا کہ باقی دیگر زرائع آمدورفت خارج کرتے ہیں۔

تاہم اس پروجیکٹ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے بنانے کے لیے ایک خطیر رقم کی ضرورت ہے۔ فی الحال پاکستان میں روپ ویز ٹرانسپورٹ سسٹم عام نہیں ہے اور یہ زیادہ تر سیاحتی مقامات پر موجود ہے جو کہ سیاحوں کو زمین کی خوبصورتی دیکھنے کی جانب راغب کرتا ہے۔ مزید یہ کہ اس سسٹم میں مختلف روٹس پر جانے کی صلاحیت بہت کم ہوگی چونکہ یہ ایک سیدھی لائن میں چلتا ہے۔ اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ بہت سسٹم زیادہ تیز رفتاری سے چلنے کا حامل نہیں ہے۔

Mustafa likes to play games online. Apart from playing online games, he likes playing and watching football. He enjoys reading about philosophy, literature, sociology and psychology.

Top