1800cc سے زیادہ کی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 10 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کردی گئی


فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے 1800cc سے زیادہ کی درآمد شدہ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 10 فیصد سے بڑھاکر 20 فیصد کردی ہے۔

16 اکتوبر 2018ء کو اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ قانونی حکم نامے (S.R.O) 1265(1)/2018ء میں اس نے 570 اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا جائزہ لیا گیا جن میں گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ PakWheels.com سے بات کرتے ہوئے ایک صنعتی ماہر نے کہا کہ حکومت اپنے تجارتی خسارے کو پورا کرنے اور زر مبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ البتہ انہوں نے اس پر بھی زور دیا کہ بڑھتی ریگولیٹری ڈیوٹی گاڑیوں کو بنانے کے عمل کو مہنگا کرکے ان پر بہت اثر انداز ہوگی۔

ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے کے علاوہ حکومت پہلے ہی 1800cc اور اس سے زیادہ کی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 10 فیدص سے بڑھا کر 20 فیصد کر چکی ہے۔ اس اضافے نے کمپلیٹلی بلٹ یونٹس (CBUs) کو درآمد کرنا اور مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں پر اثر ڈالا۔ لیکن تمام کمرشل گاڑیوں اور وینز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو تبدیل نہیں کیا گیا؛ جو صفر ہے۔

واضح رہے کہ جاری کردہ SRO کے مطابق ریگولیٹری ڈیوٹی مارکیٹ میں آنے والے نئے اداروں کے گاڑیاں (CBUs) درآمد کرنے پر لاگو نہیں ہوگی۔

مزید برآں، ڈیوٹی میں اضافے کی وجہ سے، گاڑیاں مہنگی ہو جائیں گی، لیکن یہی واحد وجہ نہیں ہے، روپے کی گرتی ہوئی قدر بھی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں اضافے کی یہ ایک اہم وجہ ہے۔ اب تک ٹویوٹا IMC، موٹر سائیکل بنانے والا اٹلس ہونڈا اور دیگر چینی موٹر سائیکل ساز ادارے اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا چکے ہیں، جو مزید بڑھنا ممکن ہے۔ ہونڈا اٹلس، پاک سوزوکی اور دیگر موٹر سائیکلیں اور کاریں بنانے والے اداروں کا بھی قیمتیں بڑھانا متوقع ہے۔

دیکھتے ہیں کہ اس نئی پیشرفت پر مقامی صنعت کیا ردعمل دکھاتی ہے تب تک کے لیے مزید خبروں کے لیے PakWheels.com پر آتے رہیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top