ماضی کے جھروکوں سے: پیلی ٹیکسی اسکیم میں پیش کی گئی گاڑیاں

Taxi-1993-featured

اگر آپ کی پیدائش 90 کی دہائی یا اس سے قبل ہوئی ہے اور آپ کو پیلی ٹیکسی اسکیم (Yellow Cabs Scheme) یاد نہیں تو آپ خود کو گاڑیوں کا شوقین قرار نہیں دے سکتے۔ میں بہت چھوٹا تھا کہ جب میاں محمد نواز شریف نے 1993 میں اس اسکیم کو پاکستان میں متعارف کروایا۔ اسکیم کے بنیادی مقاصد میں بیروزگار نوجوانوں کو آمدنی کا ذریعہ اور عوام کو جدید ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ اس اسکیم کے تحت گاڑیوں کے متعدد ماڈلز درآمد کیے گئے جنہیں بیرون ممالک میں بطور ٹیکسی خاصی کامیابی حاصل ہوئی۔ تاہم یہاں، پاکستان میں یہ اسکیم بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ اس کی وجوہات پر بھی بات کریں گے لیکن پہلے اس ٹیکسی اسکیم کے تحت پاکستان درآمد کی جانے گاڑیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کے مشہور رنگ؛ ماضی کی خوبصورتی آج ماند پڑ چکی ہے!

آگے بڑھنے سے پہلے میں چاہوں گا کہ آپ اپنی یادداشت پر زور دے کر یہ بتائیں کہ پیلی ٹیکسی اسکیم کی کون کون سی گاڑیاں آپ کو یاد ہیں۔ میرے خیال سے زیادہ تر قارئین کو سوزوکی مہران، ڈائیوو ریسر اور ہیونڈائی ایکسل تو یاد ہی ہوگی۔ ان کے علاوہ شاید کچھ دوستوں کو سوزوکی آلٹو (660cc)، نسان سنی اور ڈائی ہاٹسو کورے بھی یاد ہوگی۔ لیکن اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ پیلی ٹیکسی اسکیم میں 4،5 نہیں بلکہ 12 مختلف گاڑیوں کو درآمد کیا گیا تو آپ ضرور حیران رہ جائیں گے۔ آئیے باری باری ان گاڑیوں پر بات کرتے ہیں۔

سوزوکی مہران 800

سوزوکی مہران تو طویل عرصے سے پاکستان میں مشہور ہے اور اب بچہ بچہ اسے بخوبی پہچان لیتا ہے۔ جڑواں شہروں میں چلنے والی 75 فیصد ٹیکسیاں مہران ہی ہوتی ہیں۔ یہ 1993 میں پیلی ٹیکسی اسکیم کے آغاز میں پیش کی جانے والی اولین گاڑیوں میں سے ایک تھی۔ آج بھی ہلکے اور شوخ پیلے رنگ کی سوزوکی مہران اکثر و بیشتر نظر آتی ہی رہتی ہیں۔ لیکن یہ وہ والی ٹیکسیاں نہیں کہ جنہیں 90 کی دہائی میں پیش کیا گیا بلکہ یہ پیلی ٹیکسی کے نقل میں رنگی جانے والی مہران ہیں۔ اب بھلا یہ کیسے علم ہو کہ یہ ٹیکسی اسکیم والی گاڑی ہے یا نقلی پیلی ٹیکسی ہے؟ تو اس کا آسان جواب نمبر پلیٹ ہے۔ پیلی ٹیکسی اسکیم کے تحت تقسیم کی جانے والی تمام گاڑیوں کو منفرد نمبر پلیٹ دی گئی تھیں جن پر IDT (اسلام آباد)، PL، PE، PG (کراچی)، LHP، LPT (لاہور) اور RPT، RIR (راولپنڈی) درج تھا۔ مہران 800 خاصی کامیاب رہی اور فراہم کردہ تقریباً 90 فیصد گاڑیاں ٹیکسی ہی کے طور پر استعمال کی جاتی رہیں۔ انجن کی جہاں تک بات ہے تو ہم سب جانتے ہی ہیں کہ مہران 800 سی سی 3-سلینڈ پیٹرول انجن کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

suzuki-Mehran-taxi-1993

ڈائیوو ریسر

یہ میری پسندیدہ گاڑی ہے کیوں کہ میں نے اسی پر ڈرائیونگ سیکھنے کا آغاز کیا تھا۔ کوریا سے تعلق رکھنے والے کار ساز ادارے ڈائیوو کی اس خوبصورت سیڈان میں 1500cc پیٹرول انجن لگایا جاتا ہے۔ جو لوگ ڈائیوو ریسر سے بخوبی واقف وہ جانتے ہوں گے کہ اس گاڑی کی 2 خصوصیات دیگر گاڑیوں سے منفرد ہیں۔ پہلی یہ کہ اس میں ریورس گیئر پاکستان میں دستیاب دیگر گاڑیوں سے بالکل مختلف ہے اور دوسری یہ کہ اس کے ریڈیئٹر کا ڈیزائن بھی عام گاڑیوں سے الگ ہے۔ ہوسکتا ہے لوگ ان دونوں منفرد چیزوں کو عجیب خیال کرتے ہوں لیکن ذاتی طور پر مجھے یہ دونوں ہی خصوصیات بہت اچھی لگتی ہیں۔ اس وقت بہت کم ڈائیوو ریسر پیلی ٹیکسی کے طور پر استعمال کی جارہی ہیں۔ اگر آپ انہیں دیکھنا چاہیں تو یہ اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹیکسی اسٹینڈ پر مل سکتی ہیں۔ البتہ دیگر رنگوں میں یہ سیڈان شاید آپ کو زیادہ نظر آئے گی جنہیں مالکان ٹیکسی کے بجائے ذاتی استعمال میں لا رہے ہیں۔

daewoo-private-taxi-schemeDaewoo-93-yellow

ہیونڈائی ایکسل

یہ بھی کوریا سے متعلق رکھنے والے کارساز ادارے ہیونڈائی موٹرز کی سیڈان ہے جسے پیلی ٹیکسی اسکیم کے تحت پیش کیا گیا۔ ہیونڈائی ایکسل میں 1300cc پیٹرول انجن پیش شامل تھا۔ ڈائیوو کے برعکس ہیونڈائی ایکسل کا گیئر باکس سادہ اور بہتر تھا کیوں کہ اس میں 5-اسپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن شامل تھا۔ اس گاڑی کی منفرد بات چھت پر موجود مزار قائد نما ٹوپی تھی۔ آج بھی ہیونڈائی ایکسل کراچی میں پیلی ٹیکسی کے طور پر استعمال ہوتی دیکھی جاسکتی ہے۔

hyundai-taxi-caphyundai-excel-1993 (N)

سوزوکی آلٹو 660

جاپانی کار ساز ادارے سوزوکی (Suzuki) کی تیار کردہ چھوٹی ہیچ بیک کو بھی پیلی ٹیکسی کے طور پر پیش کیا گیا۔ سوزوکی آلٹو میں 660cc پیٹرول انجن لگایا گیا تھا۔ مہران کی طرح یہ گاڑی بھی اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی اور لاہور کے چند علاقوں بشمول ایئرپورٹ پر دیکھی جاسکتی ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ 90 کی دہائی میں آلٹو کی قیمت کیا تھی البتہ آج پیلی آلٹو 660cc کی قیمت 5 لاکھ روپے سے بھی زائد ہے۔ چند مالکان نے اس گاڑی کا رنگ تبدیل کر کے ذاتی استعمال میں لینا شروع کردیا تاہم اکثریت اب بھی اسے پیلی ٹیکسی کے طور پر ہی استعمال کر رہی ہے۔

Suzuki-Alto-660 Taxi-1993Alto-Works-Cab

نسان سنی

اس خوبصورت اور کم قیمت جاپانی سیڈان کو بھی پیلی ٹیکسی اسکیم کے تحت فروخت گیا۔ اس میں 1700cc ڈیزل انجن لگایا گیا تھا جو اچھی مائلیج اور ٹویوٹا 2C ڈیزل انجن سے کم شور شرابہ کرنے کی وجہ سے مشہور تھا۔ لیکن بدقسمتی سے اس برانڈ کی بہت کم گاڑیاں پیلی ٹیکسی کے طور استعمال کی جاتی رہیں۔ اکثر گاڑیوں کو لوگوں نے ذاتی استعمال میں لینا شروع کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب بہت کم نسان سنی پیلے رنگ میں نظر آتی ہیں۔ البتہ میں ایک ایسے لڑکے کو جانتا ہوں جو آج بھی راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو ایئرپورٹ میں نسان سنی کو بطور پیلی ٹیکسی چلا رہا ہے۔

nissan-sunny-1993-side

ڈائی ہاٹسو کورے

یہ گاڑی انڈس موٹرز کی تیار کردہ کورے سے قدرے مختلف تھی۔ جاپانی کار ساز ادارے کی اس چھوٹی ہیچ بیک کو ٹیکسی کے طور پر کافی پسند کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مہران اور آلٹو کی طرح یہ آج بھی کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں پیلی ٹیکسی کے طور پر استعمال کی جارہی ہے۔ ڈائی ہاٹسو کورے میں 800cc پیٹرول انجن لگایا گیا تھا۔

1993-taxi-coure-0Taxi-1993-Coure-yellow-cab (5)

سوزوکی خیبر

مہران کی طرح سوزوکی خیبر بھی اصلی اور نقلی پیلی ٹیکسی کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ اگر آپ کو پیلے رنگ کی خیبر پر LPT، RPT، RIR، IDT، PE یا PG نمبر پلیٹ نظر آئے تو سمجھ جائیے کہ یہ پیلی ٹیکسی اسکیم کے تحت دی جانے والی اصلی ٹیکسی ہی ہے۔ یہ ان دو گاڑیوں میں سے ایک ہے جنہیں پاکستان ہی میں تیار کر کے پیلی ٹیکسی کا روپ دیا جاتا تھا۔ ان میں سے اکثر گاڑیاں اب بھی بڑے شہروں میں ٹیکسی ہی کے طور پر استعمال کی جارہی ہیں۔ عام سوزوکی خیبر اور پیلی خیبر میں نمبر پلیٹ اور رنگ کے علاوہ چھت پر لگا جنگلے (سامان رکھنے کی جگہ) کا فرق ہے۔

Daihatsu-Khyber-Taxi-1993-yellow-cab

مٹسوبشی لانسر

شاید بہت سے لوگ یقین نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ 90 کی دہائی میں مٹسوبشی لانسر کو پیلی ٹیکسی کے طور پر استعمال کیا جاچکا ہے۔ میری خوش قسمتی کہہ لیں یا بدقسمتی کہ اسلام آباد میں I-11 کے نزدیک ایک لانسر کو پیلی ٹیکسی کے روپ میں دیکھ بھی چکا ہوں۔ یہ آج بھی پیلی ٹیکسی کے طور پر چلائی جاتی ہے البتہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ڈرائیور صاحبان صرف خاص الخاص سواریوں ہی کو لفٹ کرواتے ہیں جو انہیں کرائے کے علاوہ تگڑی tip بھی دے سکتی ہو۔ 1993 جب لانسر کو بطور ٹیکسی لایا گیا تو اس میں 2000cc مٹسوبشی ڈیزل انجن لگا ہوا تھا جو پیٹرول انجن جیسی کفایت فراہم کرتا تھا۔ دیگر پیلی ٹیکسیوں کے برعکس اس پر ہلکا پیلا رنگ کیا گیا تھا۔ آج 90 فیصد مٹسوبشی لانسر مالکان کے ذاتی استعمال میں نظر آتی ہیں اور شاذ و نادر ہی آپ کسی ایئرپورٹ پر اسے بطور پیلی ٹیکسی استعمال ہوتا دیکھ سکیں گے۔

Mitsubishi-Lancer-1993-taxi (2)

سوبارو J-10

خوبصورت انداز، ایندھن کی بچت اور آرامدے سفر؛ ایک ٹیکسی میں اگر یہ سب ہوں تو اور کیا چاہیے؟ ہم بات کر رہے ہیں سوبارو J-10 کی جسے 1993 میں 1000cc پیٹرول انجن کے ساتھ پیش کیا گیا۔ تاہم اس کے پرزوں کی عدم دستیابی نے بہت سی پیلی ٹیکسیوں کو جلد ہی ذاتی گاڑیوں میں تبدیل کردیا۔ بڑی شہروں میں آپ اسے ذاتی استعمال اور پیلی ٹیکسی دونوں ہی روپ میں دیکھ سکتے ہیں۔

subaru-1993-front

پیجیوٹ 205

پیلی ٹیکسی اسکیم میں شامل دو یورپی گاڑیوں میں سے ایک پیجیوٹ (Peugeot) 205 بھی تھی۔ فرانسیسی ادارے کی اس گاڑی میں 1800cc ڈیزل انجن لگایا گیا تھا جو ایندھن کی بچت کرنے کے ساتھ کاربن کے کم اخراج جیسی خصوصیت بھی رکھتا تھا۔ پیلے رنگ میں متعارف کروائی جانے والی دیگر ہیچ بیک مثلاً مہران، خیبر، کورے ااور سوبارو کے برعکس اس کا اندرونی حصے کافی کشادہ تھا۔ گو کہ یہ بہت اچھی گاڑی تھی تاہم پیلی ٹیکسی کے طور پر بہت استعمال ہوئی اور اکثریت ذاتی استعمال میں لائی جاتی رہیں۔ اس کے پرزے بھی سوبارو کی طرح عام بازاروں میں دستیاب نہیں تھے۔ اس کے علاوہ پیجیوٹ 205 کے ساتھ ایک اور مسئلہ یورپی ڈیزل انجن کا تھا جسے پورے پاکستان میں چند ایک ہی مکینک سمجھ کر ٹھیک کر پاتے تھے۔ آج یہ گاڑی پیلی ٹیکسی کے طور پر استعما ل ہوتی نظر نہیں آتی۔

PUG-205 Yellow

پیجیوٹ 309

یورپی کار ساز ادارے کی پیلی ٹیکسی اسکیم میں شامل یہ دوسری سیڈان نما ہیچ بیک تھی۔ اسے 1900cc ڈیزل انجن کے ساتھ پیش کیا گیا تاہم بہت کم عرصے اسے پیلی ٹیکسی کے طور پر استعمال کیا گیا۔پرزوں کی عدم دستیابی اور مکینکس کے لیے نامانوس ہونے کی وجہ سے یہ یورپی گاڑیاں بہت جلد پیلی ٹیکسی سے تبدیل ہو کر ذاتی گاڑی کے طور پر استعمال ہونا شروع ہوگئیں۔ آج پیجیوٹ 309 کو ذاتی گاڑی کے طور پر دیکھنا بھی مشکل ہے۔ اگر مجھے کوئی شخص اس دور میں پیجیوٹ 309 پیلی ٹیکسی کے طور پر استعمال کرتا ہوا نظر آجائے تو میں اسے ضرور انعام دوں گا۔

Peugeot-309-gld-taxi-1993 (0)

ٹویوٹا کورونا

ٹویوٹا کی اس گاڑی کو سنگاپور میں ٹیکسی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ وہاں اس کی زبردست کامیابی دیکھتے ہوئے 1993 میں یہی تجربہ پاکستان میں دہرانے کا فیصلہ ہوا۔ لیکن ہیونڈائی، ڈائیوو اور مٹسوبشی کی سیڈان گاڑیوں کے مقابلے میں اضافی قیمت اور قدرے بہتر انداز کی وجہ سے بہت کم فروخت ہوئیں۔ ٹویوٹا کورونا کو 2000cc ٹویوٹا ڈیزل انجن کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔ میں 90 کی دہائی کے دوران اپنے خاندان کے ساتھ لاہور میں رہائش پذیر تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہماری فیملی نے تفریحی مقام تک پہنچنے کے لیے اسی ٹویوٹا کورونا ٹیکسی میں سفر کیا تھا۔ چونکہ یہ بہت کم تعداد میں فروخت ہوئیں لہٰذا جلد ہی یہ منظر سے غائب ہوگئیں۔ گاڑی چونکہ خاصی اچھی تھی لہٰذا شوقین افراد نے اسے اچھی قیمت پر خرید لیا اور آج یہ ذاتی استعمال ہی میں نظر آتی ہے۔

corona-taxi-1993-yellow-cab

1993-taxi-Corona-rear-0

1993-taxi-Corona-int-0

1993 کی اسکیم کے تحت درآمد کی جانے والی دیگر گاڑیاں

ذیل میں دی گئی فہرست ان گاڑیوں کی ہے جنہیں مسافر بردار ٹیکسی کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا کیوں کہ یہ سامان بردار گاڑیوں کے طور پر معروف تھیں۔ اس کے باوجود ان کے شیشوں پر TAXI لکھا دیکھا جاسکتا تھا۔
مزدا E2200
مٹسوبشی اروان
نسان اروان
ٹویوٹا ہائی ایس
مٹسوبشی L300

سوزوکی سوپر کیری پک اپ

Taxi-1993-Suzuki-Carry-yellow-cab

ڈائی ہاٹسو ہائی جیٹ پک اپ

اب آپ کو اندازہ ہوچکا ہوگا کہ وزیراعظم کی پیلی ٹیکسی اسکیم کے تحت کیسی کیسی گاڑیوں کو 90 کی دہائی میں یہاں درآمد کیا گیا۔ لیکن افسوس کہ آج ان میں سے بہت ہی کم سڑکوں پر ٹیکسی کے طور پر رواں دواں نظر آتی ہیں۔ ان ٹیکسیوں میں میٹر بھی لگا ہوا تو آج کسی بھی ٹیکسی میں نہیں ملتا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ٹیکسی اسکیم امیدوں پر پوری نہ اترسکی اور ناکام ثابت ہوئی۔ اس کے باوجود پیلی ٹیکسی اسکیم کی وجہ سے متعدد منفرد گاڑیوں کو پاکستان میں دیکھنے کا موقع ملا اور اب ان میں سے کئی برانڈز استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ میں برائے فروخت نظر آتے ہیں۔ 1993 میں شروع ہونے والی اسکیم کے تحت فروخت کی جانے والی اکثر گاڑیوں کا رنگ تبدیل کیا جاچکا ہے اور ان کے شیشوں پر سے TAXI کا نشان بھی مٹ چکا ہے۔ حتی کہ بہت سی گاڑیوں سے پیلی ٹیکسی کا داغ دھونے کے لیے نمبر پلیٹ تک تبدیل کروائی جاچکی ہے۔ اگر آپ کسی بڑی شاہراہ پر گاڑیوں کا ہجوم دیکھیں تو اس میں مہران، آلٹو ڈائیوو اور ہیونڈائی تو باآسانی مل جائیں گی مگر لانسر ،سوبارو یا کورے نظر نہیں آئیں گی۔ ٹویوٹا کورون اور پیجیوٹ گاڑیاں دیکھنا تو اور بھی محال ہے۔

Daihatsu-hiject-1993-pickup

Sultan Kiani

I’m a car enthusiast and Toyota Land Cruiser J-70 is my dream car. I like talking about all kind of vehicles including small hatchbacks, pickup trucks, classics, green-tech engines, buses and commercial trucks. I advocate “Mass Transit for Islamabad-Rawalpindi” for greener tomorrow. You can call me an “environmentalist” because I have a bachelor’s degree in Environmental Science!

  • Arsal Hashmi

    You forgot to mention that Mercedes was also used in the Yellow cab scheme

Top