خوش خبری: رینالٹ نے پاکستان آمد کی تصدیق کردی!


بالآخر رینالٹ کی پاکستان آمد کی تصدیق ہوگئی ہے۔ پچھلے ماہ ہم نے قارئین کو بتایا تھا کہ فرانسیسی کار ساز ادارہ پاکستان میں قدم رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور اس ضمن میں متحدہ عرب امارات کی انجمن ماجد الفطیم اور رینالٹ کے درمیان معاہدے کی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت دونوں ادارے پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری کے لیے کارخانہ لگائیں گے۔

اب رینالٹ اور الفطیم نے باضابطہ طور پر اس معاہدے کا اعلان کردیا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق پاکستان میں گاڑیوں کا کارخانہ لگایا جائے گا۔ گاڑیاں بنانے والا فرانسیسی ادارہ اپنی جدید ترین مصنوعات اور ٹیکنالوجی لائے گا جبکہ الفطیم یہاں گاڑیوں کی تیاری اور بناوٹ کے لیے کارخانے کے قیام میں حصہ لے گا۔

ڈاؤن لوڈ کریں: پاک ویلز موبائل ایپ

تفصیلات کے مطابق یہ کارخانہ کراچی کے صنعتی علاقے میں آئندہ سال 2018ء کی پہلی سہہ ماہی میں رینالٹ کے معیارات کے مطابق بنایا جائے گا اور یہاں تیار شدہ گاڑیوں کی فروخت سال 2019ء میں شروع ہوگی۔ افریقہ، مشرق وسطی ہندوستان میں رینالٹ گروپ کے سینئر نائب صدر و چیئرمین فیبرائس کیمبولیو نے کہا کہ ان کا ادارہ مزید وسعت اختیار کرتے ہوئے پاکستان جیسے ملک، جو 10 فیصد سالانہ شرح  کے ساتھ تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ ہے، میں داخل ہونے پر بہت خوش ہیں۔

علاوہ ازیں الفطیم آٹوموٹیو لین ہنٹ نے کہا کہ پاکستان میں متوسط طبقے کی آبادی بہت زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے اسٹریٹجک مارکیٹ ہے اور ہم یہاں رینالٹ کی نمائندگی کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔

فرانسیسی ادارہ جلد از جلد اپنی مشہور زمانہ ڈسٹر SUV مارکیٹ میں پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور ہمارے رائے میں رینالٹ کی پاکستان آمد گاڑیوں کے شعبے میں تازہ ہوا کا پر مسرت جھونکا ثابت ہوگی۔

رینالٹ کے علاوہ، ایک اور بڑا یورپی کار ساز ادارہ ووکس ویگن بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے پر تول رہا ہے۔ جرمن ادارے کی مجلس منتظمین کے رکن ڈاکٹر جوزف بومرٹ نے اس ضمن میں وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات بھی کی ہے۔

پاکستان میں گاڑیوں کے شعبے کا مستقبل روشن نظر آرہا ہے اور آنے والے سالوں میں یہ شعبہ ترقی کی نئی بلندیوں پر پہچ جائے گا۔ اس حوالے سے اپنی رائے بذریعہ تبصرہ ہم تک ضرور پہنچائیں۔

 


Google App Store App Store

My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top