رینالٹ اور پیجیو کو سرمایہ کاری کی دعوت؛ فرانسیسی اداروں کا مثبت جواب

renault peugeot pakistan

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے گزشتہ دونوں فرانس کا دورہ کیا۔ چار روز پر مشتمل اس دورے میں انہوں نے متعدد کاروباری اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کی جن میں دو اہم فرانسیسی کار ساز ادارے رینالٹ (Renault) اور پیجیو (Peugeot) بھی شامل ہیں۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے گاڑیاں تیار کرنے والے اداروں کو پاکستان کی پنج سالہ آٹو پالیسی سے متعلق معلومات فراہم کیں جس میں نئے سرمایہ کاروں اور غیر ملکی اداروں کے لیے خصوصی مراعات شامل کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی اداروں کی وہ گاڑیاں جو پاکستان میں پیش کی جاسکتی ہیں!

وفاقی وزیر خزانہ نے گزشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں ہونے والی بہتری پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرانسیسی اداروں کو بتایا کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بدتریج بہتری اور معاشی استحکام کے باعث گاڑیوں کی فروخت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے رینالٹ اور پیجیو کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے اور گاڑیوں کے کارخانے قائم کرنے کی بھی دعوت دی ہے۔ جواب میں فرانسیسی اداروں کے نمائندوں نے پاکستان کی بہتر ہوتی اقتصادی صورتحال پر خوشی کا اظہار کیا اور گاڑیوں کے شعبے میں سرمایہ کاری میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔اس ملاقات میں وزیر خزانہ کے ہمراہ سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین مفتاح اسماعیل، فرانس میں متعین پاکستان کے سفیر اور پاکستان میں متعین فرانس کے سفیر بھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ستمبر 2015 میں بھی نسان اور رینالٹ کے ایک وفد نے سرمایہ کاری بورڈ اور انجینئرنگ بورڈ کے عہدیداران سے ملاقات کرتے ہوئے پاکستان میں کارخانہ لگانے کا ارادہ اظہار کیا تھا۔ تاہم اس وقت تک حکومت کی جانب سے آٹو پالیسی برائے 2016-2021 کو حتمی شکل دیا جانا باقی تھا۔ بعد ازاں اپریل 2016 میں پاکستانی ادارے گندھارا نسان، رینالٹ اور الفطیم موٹرز کے نمائندوں نے سرمایہ کاری بورڈ کے سربراہ سے ملاقات کی اور پاکستان میں ڈاٹسن برانڈ کے تحت نئی گاڑیوں کی تیاری و فروخت کے حوالے سے منصوبہ پیش کیا۔ اگر رینالٹ پاکستان میں گندھارا نسان لمیٹڈ کے ساتھ کاروبار کا آغاز کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے آٹو پالیسی کے تحت کیٹگری B میں شامل اداروں کو دی جانے والی مراعات حاصل ہوں گی جس میں درآمدی ڈیوٹی میں رعایت بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: نئی آٹو پالیسی میں شامل 5 نکات جو انقلابی تبدیلیاں لاسکتے ہیں

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top