رائیڈ ہیلنگ سروس گریب پاکستان میں آپریشنز کا آغاز کرے گی


گریب (Grab) سنگاپور میں قائم ایک رائیڈ ہیلنگ سروس ہے جس نے اپنے آپریشنز کو پاکستان اور دنیا بھر کے مزید 13 ممالک تک پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گریب پاکستان سمیت اِن 14 ممالک میں مقامی اداروں کی مدد سے اپنے کام کو آگے بڑھا رہا ہے۔ گریب نے پاکستان اور مشرق وسطیٰ میں اپنی گاڑیوں کی بکنگ کے لیے کریم کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ 

گریب ایپلی کیشن مختلف ممالک میں متعدد زبانوں میں دستیاب ہوگی تاکہ لوگ اسے باآسانی استعمال کریں۔ گریب نے مشرق وسطیٰ کے ملکوں مراکش، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عراق، بحرین، لبنان اور کویت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ جاپان کے پانچ شہروں میں بھی کام کرے گی۔ 

گریب انہی شہروں کو ہدف بنار ہی ہے کہ جہاں کریم اور اوبر موجود ہیں۔ پاکستان میں گریب کراچی، اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد، پشاور گوجرانوالہ، ملتان، حیدر آباد، سرگودھا، سیالکوٹ، ایبٹ آباد، کوئٹہ، مردان، سکھر اور بہاولپور میں دستیاب ہوگی۔ 

گریب کی جانب سے یہ توسیع سپلٹ (Splyt) کے ساتھ ہونے والے معاہدے اور کمپنی میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں ہو رہی ہے۔ سپلٹ لندن سے چلنے والی ایک موبلٹی کمپنی ہے۔ سپلٹ کا مقصد دنیا بھر میں رائیڈ ہیلنگ ایپلی کیشنز کو باآسانی بین الاقوامی رومنگ سے جوڑنا ہے۔ 

سپلٹ نے علی پے کے ساتھ بھی معاہدہ کر رکھا ہے کہ جہاں صارفین گریب کی موبائل ایپلی کیشن ڈاؤنلوڈ کیے بغیر بھی گریب میں گاڑیاں بک کروا سکتے ہیں۔ سپلٹ کی جانب سے علی پے اور گریب کے درمیان یہ تعلق جنوب مشرقی ایشیا میں پیدا ہوا تھا۔ سپلٹ پاکستان میں پہلے ہی اوبر اور کریم جیسی رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ آپ سپلٹ کو سامنے نہیں دیکھ پائیں گے کیونکہ یہ پس پردہ رہتے ہوئے رائیڈ ہیلنگ ایپلی کیشنز کو جوڑنے کا کام کرتا ہے۔ گریب کے علاوہ سپلٹ کریم، اوبر سی ٹرپ، گیٹ، کارٹرالر کے ساتھ شراکت داریاں رکھتا ہے۔ سپلٹ پہلے ہی دنیا بھر کے تقریباً دو ہزار شہروں تک پہنچ چکا ہے۔ 

گریب جن ممالک میں جانے کا فیصلہ کر چکا ہے وہاں کے پہلے سے ہی گریب نیٹ ورک میں شامل صارفین سپلٹ کے شراکت داروں تک رسائی حاصل کر پائيں گے۔اس طرح گریب کو انفرا اسٹرکچر میں بڑی سرمایہ کاری نہیں کرنا پڑے گی اور جن 14 ممالک میں اس نے آنے کا فیصلہ کیا ہے وہاں وہ سپلٹ کے جامع نیٹ ورک کا استعمال کر سکتا ہے۔ 

پاکستان اور دیگر 13 ممالک میں گریب کی سروسز 2020ء سے شروع ہوں گی۔ پاکستان میں گریب کی آمد صارفین کے لیے ایک اچھی خبر ہے کیونکہ اس سے مقابلے کی فضاء بڑھے گی۔ مقابلے میں اضافہ ہونا صارفین کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ معاہدے کی خلاف ورزی پر حالیہ دنوں میں حکومتِ فلپائن کی جانب سے گریب پر جرمانہ کیا گیا ہے۔ اس جرمانے کے مطابق گریب کو اپنے مسافروں کو ادائیگی کرنا پڑے گی۔ اس سے فلپائن میں گریب اور اوبر کا انضمام ہوا تھا۔ 

گریب کی پاکستان آمد کے حوالے سے اپنے تبصرے نیچے پیش کیجیے اور مزید معلوماتی اور خبری مواد کے لیے آتے رہیے۔


Google App Store App Store

Top