روڈ پرنس ویگو 150 – پاکستان میں دستیاب بہترین 150cc بائیکس میں سے ایک!


آج ہم روڈ پرنس ویگو 150 ے متعلق بات کرنے جارہے ہیں جس نے انتہائی قلیل وقت میں پاکستان بھر میں زبردست شہرت حاصل کرلی ہے۔ اس 150cc انجن کی حامل موٹر سائیکل کی غیر معمولی مقبولیت کا سہرا جارحانہ انداز، بہترین کارکردگی اور قیمت میں (کسی حد تک) قابل خرید ہونے کے سر باندھا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ پاکستان میں نئی روڈ پرنس ویگو 150 کی قیمت 1,80,000 روپے مقرر ہے۔

پاکستان میں دستیاب موٹر سائیکل کو انجن کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے تو یہ زمرہ جات بنیں گے:
1) 150cc سے کم انجن والی موٹر سائیکلیں
2) 150cc انجن کی حامل موٹر سائیکلیں
3) 150cc سے زائد انجن والی موٹر سائیکلیں

تیسرے و آخری زمرے میں شامل اکثر موٹر بائیکس بیرون ملک سے درآمد کرکے فروخت کی جارہی ہیں اور ان کی اضافی قیمت کے باعث بہت کم خریدار انہیں حاصل کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ تاہم پاکستانی صارفین کی ایک بڑی اکثریت بالکل سادہ ڈیزائن، مضبوط اور مقامی مارکیٹ میں اچھی شہرت رکھنے والی موٹر سائیکل رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 150cc سے کم قوت والے انجن کی حامل موٹر سائیکلیں یہاں زیادہ مقبول ہیں۔البتہ ملک میں 150cc موٹر سائیکلیں استعمال کرنے والوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے جن میں نوجوان طبقے کو واضح اکثریت حاصل ہے۔ قابل افسوس امر ہے کہ موٹر سائیکل میں طاقتور انجن شامل کرنے کے رجحان میں اضافے کے باوجود مقامی سطح پر بائیک تیار کرنے والے ادارے اس میں کوئی دلچسپی نیں لے رہے۔

اس مضمون میں ہم اب سے چند ماہ قبل ہی پاکستان میں قدم رکھنے والی 150cc موٹر سائیکل کا جائزہ لیں گے جسے عرف عام میں RP ویگو 150 کہا جاتا ہے۔

20161227_114413

پاکستان میں 150cc زمرے میں دستیاب نمایاں بائیک سوزوکی GS 150 ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمرے میں شامل ہونے والی ہر موٹرسائیکل کے ظاہری انداز اور کارکردگی کا موازنہ اسی سے کیا جاتا ہے۔ سوزوکی GS 150 اسی اجارہ داری کے باعث تمام تر فوائد سمیٹ رہی ہے اور اسی وجہ سے کئی سالوں تک اس کی فروخت قابل ذکر رہی ہے۔ اگر روڈ پرنس ویگو 150 کے اسپورٹی انداز کا موازنہ GS 150 سے کیا جائے تو سوزوکی کا انداز زیادہ معتبر معلوم ہوتی ہے۔

ظاہری انداز
ویگو دراصل پیاگو کی تیار کردہ ڈربی 150 سے کافی میل کھاتی ہے جسے اب روڈ پرنس ویگو 150 کے نام سے پیش کیا جارہا ہے۔ اس بائیک کا انداز پرانے وقتوں کی موٹر سائیکل سے بہت زیادہ مختلف ہے اور اس معاملے میں یہ سوزوکی GS 150 سے زیادہ آنکھوں کو بھلی لگتی ہے۔ اس کی مربع شکل ہیڈ لائٹس اور ابھرتے ہوئے فیول ٹینک کے باعث یہ ‘نیکیڈ اسٹائل’ بائیک سے بھی قربت رکھتی ہے۔ پچھلا حصہ خاصی سادہ ہے مگر موٹر سائیکل کے مجموعی ڈیزائن کے مواقف ہے۔ جبکہ یہاں موجود ایگزاسٹ مفلر اور ہیٹ شیلڈز پرانے دور کی موٹر سائیکل جیسے ہی بنائے گئے ہیں۔ موٹر سائیکل کی مجموعی بناوٹ اور اس پر کیا جانے والا رنگ بہت معیاری معلوم ہوتا ہے البتہ ہیڈلائٹس کے نیچے جھومتے ہوئے تار بہت بدنما لگتے ہیں۔ سوئچ گیئر کا معیار بہت ہی زبردست ہے۔ اس کے علاوہ پچھلی جانب اضافی سیفٹی فینڈر کی شمولیت بھی قابل ذکر ہے۔

خصوصیات
روڈ پرنس ویگو 150 کو دیگر موٹر بائیکس سے ممتاز کرنے والی چیزوں میں منفرد ہیڈلائٹس بھی شامل ہیں۔ کم اور ہائی بیم کے لیے مخصوص دو اضافی بلب اس سے قبل کسی موٹر سائیکل میں نہیں پیش کیے گئے۔ ہیڈلائٹس کو ڈیش بورڈ پر ایک برقی چمکدار لائٹس کی صورت پر دیا گیا ہے۔ چھوٹے سے ڈیش بورڈ میں ڈیجیٹل اسپیڈومیٹر اور اینالاگ ٹیکو میٹر کے علاوہ ایندھن، ٹرپ-میٹر، ہیڈلائٹس، دائیں بائیں اشارے اور گیئر بتانے کے لیے بھی انڈیکیٹرز موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس موٹر بائیک میں ‘مائیلومیٹر’ بھی دیا گیا ہے ۔ یہ منفرد میٹر بائیک چلانے کے انداز اور ٹینک میں ایندھن کی مقدار کے مطابق بتاتا ہے کہ آپ مزید کتنا سفر کرسکتے ہیں۔ پچھلی جانب 9-انلے LED کی حامل اسٹاپ لائٹس موجود ہیں جو دھند کے دوران بھی بہتر انداز میں نظر آتی ہیں۔

کارکردگی
روڈ پرنس ویگو 150 میں یورو III معیار کا 4-اسٹروک 1-سلینڈر 149cc انجن شامل ہے۔ ہوا سے خود کو ٹھنڈا رکھنے والا یہ انجن 2 والوز اور 1 اوورہیڈ کا حامل ہے۔علاوہ ازیں اس موٹر سائیکل میں 18 لیٹر کا فیول ٹینک بھی موجود ہے۔ وزن میں کم ہونے کے باعث یہ موٹر سائیکل GS 150 سےزیادہ تیز رفتار ہے۔ اسے تخلیق کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ ویگو 150 صرف 4-5 سیکنڈ میں 0 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پکڑ سکتی ہے البتہ میں اس کی تصدیق نہیں کرسکا کیوں کہ جب مجھے یہ موٹر سائیکل چلانے کے لیے دی گئی تب شہر کی سڑکوں پر ٹریفک بہت زیادہ تھا اور ایسی صورت میں برق رفتاری خطرناک ثابت ہوسکتی تھی۔بہرحال، مجھے اس بات کا بخوبی تجربہ ہوا کہ موٹر سائیکل کی رفتار اور گیئر کی تبدیلی میں ہم آہنگی ہے۔ 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے مجھے کوئی غیر معمولی حرکت محسوس نہ ہوئی۔ اس کے عاوہ ٹارک اسپریڈ بھی بہت عمدہ ہے اور پانچویں گیئر پر 25 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار پکڑتے ہوئے کوئی مزاحمت یا آواز نہیں کرتی۔ اس موٹر بائیک میں ایک اور قابل ذکر خصوصیت ملٹی-پلیٹ ویٹ کلچ بھی ہے جو اسے دیگر موٹر سائیکلوں سے ممتاز بناتا ہے۔ اس کلچ کی مدد سے گیئر کم کرنے اور بڑھانے میں بہت زیادہ سہولت میسر آتی ہے اور اس دوران کسی قسم کے جھٹکے وغیرہ کا احساس نہیں ہوتا۔ اسے تیار کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ روڈ پرنس ویگو 150 ایک لیٹر ایندھن میں 38 سے 42 کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یاماہا YBR 125 بمقابلہ روڈ پرنس ویگو 150

پہلا سفر
اس موٹر سائیکل میں کشش ثقل کا مرکز (center-of-gravity) خاصہ کم ہے۔ پاکستان میں دستیاب روایتی موٹرسائیکل کے برعکس اس کا فیول ٹینک لمبائی میں زیادہ ہے اور ہینڈل بارز بھی خاصے نیچے لگائے گئے ہیں۔ اس سے ویگو 150 کو جہاں جذباتی انداز حاصل ہوا وہیں موٹر سائیکل چلاتے ہوئے زمین سے زیادہ اونچائی کا احساس بھی ختم ہوگیا ہے۔ اس کی نشست مناسب گدے جیسی ہے اور فیول ٹینک دونوں رانوں کے درمیان باآسانی سما سکتا ہے۔ البتہ سوزوکی GS 150 کے مقابلے میں اسے چلانا تھوڑا سخت ضرور ہے جس کی بنیادی وجہ ویگو کا نوجوان طبقہ کو ہدف بنانا اور برق رفتاری میں اس کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ موٹر سائیکل کا رخ تبدیل کرنا بالکل بھی مشکل نہیں۔ مجموعی طور پر موٹر بائیک کو اسپورٹ انداز دینے کے لیے روایتی اسٹاک ٹائرز سے تھوڑے چوڑے پہیے لگائے گئے ہیں۔ ٹائرز کی اضافی چوڑائی کی وجہ سے انہیں گھمانے کے لیے اضافی قوت درکار ہوگی جس سے ایندھن کی بچت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ویگو 150 میں اگلی جانب ڈسک بریک جبکہ پیچھے ڈرم بریکس لگائے گئے ہیں۔ لیور کے ذریعے ڈسک بریک بہترین کارکردگی پیش کرتے ہیں۔

حتمی رائے
یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ روڈ پرنس ویگو ان خریداروں کا بہترین انتخاب ثابت ہوسکتی ہے جو GS 150 سے اکتا گئے ہیں۔ اس بائیک کے ساتھ مختصر وقت گزارنے کے بعد میں کہنا چاہوں گا کہ اس کا انجن تیز رفتار کے علاوہ شہر میں ٹریفک کے بیچ بھی مناسب کارکردگی پیش کرتا ہے۔ نشست کافی چھوٹی اور نیچے ہے جس سے موٹر سائیکل چلانے والے کا انداز کافی جارحانہ معلوم ہوتا ہے تاہم اس سے پیچھے بیٹھنے والے مسافر کو فرق نہیں پڑتا۔ اس کے علاوہ 150cc موٹر سائیکل کے لیے ایک ایندھن میں 38-42 کلومیٹر کی مسافت بھی توجہ طلب ہے۔ اس موٹر سائیکل کی خصوصیات کو نکات میں بیان کیا جائے تو سب سے زیادہ قابل ذکر پہلو یہ ہوں گے:
– دلکش انداز
– بہترین مسافت
– انجن کی کارکردگی
– معیاری بناوٹ

اور اگر اس موٹر بائیک کی چند ایک خامیوں پر نگاہ ڈالی تو اس کی فہرست کچھ یوں بنے گی:
– اضافی قیمت
– پچھلی جانب ایک رخ پر بیٹھنے کی گنجائش نہ ہونا
– مہنگی مینٹی نینس

بہرحال، میں روڈ پرنس کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا کہ جنہوں نے اس موٹر سائیکل کو ایک ایسی مارکیٹ میں متعارف کروایا جہاں بہت کم 150cc موٹر بائیکس دستیاب ہیں۔ اس بات کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا کہ پاکستانی شاہراہوں پر یہ موٹر بائیک مقامی صورتحال میں کس قسم کی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ البتہ ملک میں نوجوانوں کی بڑی تعداد اور بہتر اقتصادی صورتحال کو مدنظر رکھا جائے تو ویگو کا مستقبل بہت تابناک نظر آتا ہے۔


Abdul Hanan

Hanan is an avid auto enthusiast with a flair for writing and playing games. He loves traveling, deciphering political maneuvering and exploring the realms of coding & graphic designing.

Top