گاڑیوں کی فروخت میں 38 فیصد اضافہ؛ پاک سوزوکی سب سے آگے!

Punjab-Taxi-Scheme

پاکستان آٹوموٹیو مینوفکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے ملک میں گاڑیوں کی فروخت سے متعلق تازہ اعداد و شمار شایع کردیے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 2015-16 مقامی کار ساز اداروں کے لیے کافی مثبت جا رہا ہے۔ گزشتہ مالی سال 2015-14 کے ابتدائی 8 ماہ کے مقابلے میں جولائی 2015 سے فروری 2016 کے درمیان گاڑیوں کی فروخت 38 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ رواں مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران مقامی کار ساز اداروں نے 121,934گاڑیاں فروخت کی جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 88,538 تھی۔

رواں مالی سال پاک سوزوکی (Pak Suzuki) نے سب سے زیادہ منافع سمیٹتے ہوئے دیگر تمام کار ساز اداروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جاپانی ادارے نے سال 2014 کے مقابلے میں 2015 کے دوران 203 فیصد اضافی آمدنی جمع کی۔ پاک سوزوکی نے2014 میں 77,050 گاڑیاں فروخت کیں جبکہ 2015 میں فروخت ہونے والی سوزوکی گاڑیوں کی تعداد 133,279 رہی۔ یہ مجموعہ سال بہ سال73 فیصد اضافہ کو ظاہر کرتا ہے۔اس کا تمام تر سہرا پنجاب ٹیکسی اسکیم کے سر جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی گاڑی بنانے کا موقع حکومتی غفلت کے باعث ضایع ہوگیا

پنجاب ٹیکسی اسکیم کی بدولت سوزوکی بولان (Bolan) اور سوزوکی راوی (Ravi) دونوں ہی کی فروخت میں زبردست اضافہ ہوا۔ فروخت ہونے والی بولان اور راوی کی مجموعی تعداد بالترتیب 23,848 اور 23,540 رہی۔ گزشتہ مالی سال جولائی تا فروری یہ تعداد بالترتیب 10,411 اور 10,261 رہی تھی۔ رواں مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران 2,288 سوِفٹ اور 6,020 ویگن آر بھی فروخت ہوئیں جو گزشتہ مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ میں بالترتیب 2,614 اور 2,693 رہی تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سوزوکی ویگن آر (Wagon R) کی فروخت بھی مارکیٹ میں قدم جما رہی ہے اور صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہورہی ہے۔

pak suzukipak suzuki bolan side_view

دیگر کار ساز اداروں ٹویوٹا اور ہونڈا نے بھی اس عرصے میں منافع بخش کاروبار کیا۔ رواں مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران ہونڈا نے 15,793 گاڑیاں جبکہ ٹویوٹا نے 38,069 گاڑیاں فروخت کیں۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد بالترتیب 14,041 اور 31,042 رہی تھی۔ گو کہ ان دونوں ہی اداروں کے اعداد و شمار میں زیادہ فرق نہیں محسوس ہوتا لیکن گاڑیوں کی فروخت میں اضافے کا تسلسل روشن مستقبل کی جھلک دکھارہا ہے۔

Honda_Civic_2015_New_Grill11th gen Toyota-Corolla

4×4 گاڑیوں کے زمرے میں سگما ڈیفینڈر اور ٹویوٹا فورچیونر (Toyota Fortuner) دونوں ہی کی فروخت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ البتہ ٹویوٹا ہائی لکس کی فروخت میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ میں 3,286 ہائی لکس فروخت ہوئیں جبکہ گزشتہ مالی سال یہ تعداد 2,849 رہی تھی۔ پِک اپس کے زمرے مین صرف 9 ہیونڈائی شہزور فروخت ہوئیں۔

2011-Toyota-Fortuner

گو کہ گاڑیوں کے شعبے میں ہونڈا کی کارکردگی زیادہ نمایاں نہیں رہی لیکن موٹر سائیکل کے شعبے میں ہونڈا کی سبقت برقرار ہے۔ رواں مالی سال 2015-16 میں جولائی تا فروری کے دوران ہونڈانے 532,183 موٹر سائیکلیں فروخت کیں جبکہ گزشتہ مالی سال 2015-14 کے ابتدائی آٹھ کے دوران 408,204 موٹر سائیکلیں فروخت ہوئی تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہونڈا موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں گاڑیوں اور موٹر سائیکل کا شعبہ مجموعی طور پر بہتری کی جانب گامزن ہے تاہم نئے سرمایہ کاروں کی آمد سے اس میں مزید اضافہ کیا جانا چاہیے۔ اس ضمن میں حکومت کا یہ فیصلہ بہت زیادہ معنی رکھتا ہے کہ آٹو پالیسی میں نئے اور وجودہ اداروں کو کیا مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔

Top