اگر حکومت نے نان-فائلرز کو گاڑی خریدنے کی اجازت نہ دی تو فروخت میں کمی آئے گی: سی ای او انڈس موٹرز

CEO Toyota Indus Motor Ali Asghar Jamali

حکومت پاکستان نے حالیہ بجٹ میں ایک تجویز پیش کی تھی جس کے مطابق حکومت نان-فائلرز کو نئی موٹر کاڑی خریدنے کی اجازت نہیں دے گی چاہے وہ مقامی طور پر بنی ہوئی ہو یا درآمد شدہ، یہاں تک کہ خریدار انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروائے۔ اس تجویز نے گاڑیاں بنانے والے مقامی اداروں میں تہلکہ مچا دیا۔ سی او ٹویوٹا انڈس موٹر جناب علی اصغر جمالی نے ایک میڈیا ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے 60 فیصد خریدار نان-فائلرز ہیں اور اگر انہیں گاڑی خریدنے سے روکا جائے گا تو فروخت میں تیزی سے کمی واقع ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اب تک صارفین میں کوئی بے چینی نہیں ہے کیونکہ وہ اس تجویز/نئی شرط پر غور کر رہے ہیں جو حکومت نے پیش کی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک مرتبہ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ تجویز یکم جولائی 2018ء سے قانون کا حصہ بن جائے گی، اور اس کے بعد نان-فائلرز کوئی گاڑی نہیں خرید پائیں گے۔

ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سی ای او انڈس موٹر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ نئی شرط یا تجویز استعمال شدہ گاڑیوں پر لاگو نہیں ہوتی۔

گاڑی خریدنے کے علاوہ نان-فائلر 40 لاکھ روپے سے زیادہ کی ملکیت بھی نہیں خرید پائیں گے، جب تک کہ وہ انکم ٹیکس ریٹرن نہ فائل کریں۔

چند روز قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے حکومت سے سفارش کی تھی کہ وہ نان-فائلرز کو کچھ رعایت دے۔ اتھارٹی نے حکومت سے کہا کہ وہ نان-فائلرز کو 1000cc تک کی گاڑیاں خریدنے یا درآمد کرنے کی اجازت دے تاکہ ملک کے متوسط طبقے کو کچھ سہولت ملے۔ دیکھتے ہیں حکومت اس ضمن میں کیا کرتی ہے۔

ہماری طرف سے اتنا ہی، تازہ ترین خبروں کے لیے آتے رہیے۔


Top