گاڑیوں کا شوقین سعودی نوجوان اور اس کی 4 گولڈ-پلیٹڈ سُپر کارز

turki-cars-featured

پنجابی میں ایک محاورہ مشہور ہے ‘شوق دا کوئی مول نئی’۔ اگر آج کے دورمیں اس کی عملی مثال دیکھنی ہو تو سعودی نوجوان ترکی بن عبداللہ اور ان کی چار سُپر کارز کو دیکھ لیں۔ 23 سالہ سعودی نوجوان گھومنے پھرنے کے بھی شوقین ہیں اور آج کل لندن کے مہنگے اور پوش علاقوں میں قیام پذیر ہیں۔ وہ سعودی عرب سے اپنے ہمراہ چند دوستوں کے علاوہ ان 4 سپُر کارز کو بھی لے کر گئے ہیں کہ جن پر سونے کی ملمع کاری کی گئی ہے۔

ترکی بن عبداللہ کی گاڑیوں میں 6×6 اے ایم جی، دو دروازوں والی رولس روئس فینٹم کوپے ، لامبورگینی ایونتادور اور ایک بینٹلی فلائینگ سُپر شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان گاڑیوں کی مجموعی مالیت 15 لاکھ پاؤنڈ سے بھی زیادہ ہے۔ ترکی بن عبدللہ کے قافلے میں شامل لامبورگینی ایونتادور V12 انجن کی حامل ہے جو صرف 2.7 سیکنڈ میں 0-62 میل فی گھنٹہ کی رفتار پکڑسکتی ہے جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 217 میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنیوا موٹر شو 2016 میں دکھائی جانے والی 10 بہترین سُپر کارز

گاڑیوں کے شوقین اس ارب پتی نوجوان نے اپنی بیش قیمت گاڑیوں سے صرف مغربی لندن ہی میں دھوم نہیں مچائی بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کو اپنی شوق سے میں متاثر کیا ہے۔ ترکی بن عبداللہ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر موجود ان گاڑیوں کی درجنوں تصاویر اور ویڈیوز کو لاکھوں بار دیکھا جاچکا ہے۔ایک تصویر میں ترکی بن عبداللہ کی مرسڈیز میں ایک چیتے ہو بیٹھا ہوا دیکھا جاسکتا ہے جو اس نوجوان کی دلیری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انسٹاگرام پر موجود دیگر تصاویر میں بن عبداللہ کی گاڑیوں کو پیرس، لندن اور دبئی کے مقامات پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

turki-cars-1

ترکی بن عبداللہ کے انتہائی امیر خاندانی پس منظر سے متعلق کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا تعلق سعودی عرب کے شاہی خاندان سے ہے تاہم ترکی یا ان کے کسی قریبی دوست سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

اگر آپ کو یہ تصاویر فوٹوشاپڈ لگتی ہیں تو پھر نیچے دی گئی مختصر ویڈیو ملاحظہ کریں:

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top