سپریم کورٹ نے سرکاری اہلکاروں کے زیر استعمال گاڑیوں پر حکومت سے رپورٹ طلب کرلی


عدالت عظمیٰ پاکستان نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو سرکاری اہلکاروں کے زیر استعمال لگژریوں گاڑیوں اور ان کے استعمال کی وجوہات پر مبنی تفصیلی رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے حکومتوں کو رپورٹ جمع کروانے کے لیے 10 دن کی مہلت دی ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکومت پنجاب کے زیر استعمال گاڑیاں ایک کمپلیکس میں چھپی پائی گئی تھیں، جبکہ چیف جسٹس نے حکومت سندھ کی جانب سے بازیافت کرائی گئی گاڑیوں کے حوالے سے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے سوالات کیے۔

ہمیں یہ معلوم کرنے اختیار حاصل ہے کہ کون سا عہدیدار گاڑیاں استعمال کر سکتا ہے، انہوں نے کہا۔ ان گاڑیوں کی دیکھ بھال پر کئی ملین روپے خرچ ہو رہے ہیں، جو دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، چیف جسٹس نے زر دیا۔ اگلی سماعت 26 اکتوبر 2018ء کو ہوگی۔

سسماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے انکشاف کیا کہ حکومت اب تک 201 گاڑیوں کو پہلے ہی ضبط کر چکی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت پنجاب پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ ایکسٹرا لگژری گاڑیوں کو نیلام کر دے گی اور ان سے حاصل کردہ رقم کو صوبائی خزانے میں جمع کروایا جائے گا۔

لگژری گاڑیوں کی نیلامی کا رحجان وزیر اعظم کی سادگی مہم کے ساتھ شروع ہوا۔ مہم کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور جلد ہی دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگا۔ نہ صرف وفاقی اور پنجاب حکومت بلکہ سندھ کابینہ بھی 10 سال سے زیادہ پرانی لگژری گاڑیوں کو نیلام کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ بھی گاڑیوں کو نیلام کر رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔


Top