عدالت عظمیٰ نے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں پر سیلز ٹیکس میں اضافے پر وضاحت طلب کرلی


عدالت عظمیٰ پاکستان  نے حکومت اور تمام متعلقہ محکموں کو حکم دیا ہے کہ وہ پیٹرولیئم مصنوعات پر ٹیکسز لگانے کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ دیں اور ان محصولات کا تقابل مقامی و عالمی معیارات کے ساتھ کریں۔ حکومت پیٹرولیئم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس میں 25 فیصد تک اضافہ کر چکی ہے جبکہ دوسری جانب خام تیل کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو کہا کہ حکومت نے بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمت میں کمی کے باوجود پیٹرول پر سیلز ٹیکس کیوں بڑھایا؟

ایڈیشنل سیکریٹری جنرل نے جواب دیا کہ پاکستان خطے میں سب سے کم پیٹرول قیمت رکھتا ہے، بلکہ اس کا بھارت نے تقابل کیا جائے تب بھی یہ کم قیمت ہے۔ البتہ چیف جسٹس نے ان جوابات کو مسترد کردیا اور کہا کہ قیمتوں کا بھارت سے مقابلہ نہ کریں۔

ایڈیشنل سیکریٹری جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کسٹمز ٹیکس، سیلز ٹیکس اور پیٹرولیئم لیوی وہ ٹیکسز ہیں جو پیٹرول اور اس سے متعلقہ مصنوعات پر لیے جاتے ہیں۔ پیٹرولیئم مصنوعات پر 11.4 فیصد جی ایس ٹی لیا جاتا ہے۔ مزید برآں انہوں نے عدالت میں یہ بھی انکشاف کیا کہ حکومت پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین خام تیل پر نہیں کرتی۔

حکومت نے گزشتہ 8 سے 9 ماہ میں ملک میں مسلسل پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی ہیں جس پر عوام، ٹرانسپورٹرز اور دیگر نے سخت تنقید کی ہے۔

پیٹرولیئم مصنوعات کی نئی قیمتیں درج ذیل ہیں:

پیٹرول، 87.70 روپے فی لیٹر (1.70 روپے کا اضافہ)

ہائی-اسپیڈ ڈیزل، 98.76 روپے فی لیٹر (2.31 روپے کا اضافہ)

لائٹ-اسپیڈ ڈیزل، 68.85 روپے فی لیٹر (3.55 روپے کا اضافہ)

مٹی کا تیل، 79.87 روپے فی لیٹر (3.41 روپے کا اضافہ)

تازہ ترین خبروں کے لیے آتے رہیے۔


Top