الیکٹرک گاڑیوں کا پاکستان میں مستقبل:دشواریاں اور مسائل۔

leccy-cars
گزشتہ چند دہائیوں سے دنیا بھر کے آٹو میکرز اور حکومتوں کی جانب سے یہ اقدام اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ نا صرف ہم کاربن فٹ پرنٹ کو کم کریں بلکہ فاصِل فیول پر بھی مکمل انحصار نہ کریں۔جب سے گاڑیاں ایجاد ہوئی ہیں فاصل فیول تقریباً ایک صدی سے ہماری ضروریات پورا کر رہا ہے۔لیکن یہ ذرائع بہت کم ہیں جنہیں ایک دن ہم ختم کر دیں گے۔آٹومیکرز کسی ایسے انرجی حاصل کرنے کے ذریعے کی تلاش میں ہیں جو ہماری ضروریات کو پورا کرنے میں فاصل فیول کی جگہ لے،اور موجودہ دور میں یہ انرجی کاذریعہ الیکٹرک پاور ہی لگ رہا ہے۔
گزشتہ دہائی سے،الیکٹرک کارز دنیا بھر میں شہرت حاصل کر رہی ہے۔جانی مانی کمپنیاں جیسا کہ وولکس ویگن،فورڈ،بی ایم ڈبلیو،مرسیڈیزاور نسان بھی مختلف الیکٹرک گاڑیاں دے رہی ہیں۔ ٹیسلا جیسی وہ کمپنی جو محض دس سال پرانی ہے بھی اس میدان میں آرہی ہے اوروہ بھی فورڈ(ایسی آٹو میکر جو کہ سو سال سے زائد پرانی ہے) کے مقابلے پر، پھر یہ بات تو واضح ہے کہ الیکٹرک کارز کی ضرورت ہے۔پر اس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک کارز کا مستقبل کیا ہے؟
٭    درپیش خرابیاں اور کمی۔ 
حالیہ صورتحال میں پاکستانی آٹو سیکٹر تین بڑل جاپانی کمپنیز کے تابع ہے،مگر یہ سیاست اب جلد اختتام پزیر ہونے والی ہے کیونکہ مستقبل قریب میں تین نئے آٹومینو فیکچررز متعارف ہونے والے ہیں۔ایسی صورتحال میں ایک الیکٹرک گاڑی کا تعارف مارکیٹ پر کس قسم کے اثرات مرتب کرتا ہے؟  جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان بجلی کی قلت سے دو چار ہے۔بجلی کی کمی ہونا الیکٹرک کارز کے پاکستان میں آنے کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان کو جو سب سے بڑی دشورای پیش آئی ہے وہ ان گاڑیوں کے لئے مناسب بجلی کا ہونا ہی ہے،کیونکہ کئی گھنٹوں کے لئے چارجنگ پر لگانا اورلوڈ شیڈنگ ہونا بھی مسئلہ ہے کیونکہ ان گاڑیوں کو مکمل چارج ہونے کے لئے بہت لمبا وقت درکار ہوتا ہے۔
عام پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں میں جب پیٹرول ختم ہوتا ہے تو آ پ فیول سٹیشن جاتے ہیں کچھ ہی لمحوں میں پیٹرول بھرواتے ہیں اور کئی سو کلو میٹر تک سفر کر سکتے ہیں جب تک کہ دوبارہ پیٹرول فل کروانے کی ضرورت نہ پیش آئے۔الیکٹرک گاڑیوں کے لئے یہ اتنا آسان نہیں ہے،ایک عام الیکٹرک گاڑی فل چارج بیٹری میں ایک سو ساٹھ سے دو سو کلو میٹر تک کا سفر کرتی ہے۔جس کے بعد بیٹری کو دوبارہ چارج کرنے کے لئے آٹھ سے دس گھنٹے درکار ہوتے ہیں،اس دورانیئے کا انحصاربیٹری کے سائزپر ہے۔الیکٹرک گاڑی چلانا آپ کے لئے ذہنی اذیت کا باعث بھی بنتا ہے،یوں آپ ہمیشہ اس پریشانی کا شکار رہتے ہیں کہ کتنی رینج باقی بچی ہے اور آپ یہ اندازہ لگاتے رہتے ہیں کہ اس چارجنگ میں واپس پہنچ بھی پائیں گے یا نہیں۔اگر پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں متعارف ہوتی ہیں تو،شروع کے دس سالوں میں ملک بھر میں جگہ جگہ چارجنگ سٹیشن قائم ہوں گے،تا کہ ہر کوئی چارجنگ کی پریشانی لئے بنا با آسانی وہاں پہنچ سکے۔
پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کو لانے کے لئے الیکٹرک گاڑیوں کے لئے ضروری انفراسٹرکچر کی ضرورت بھی درکارہے، یوں مناسب جگہوں پر چارجنگ سٹیشنز ہو نے چاہئیں جیسا کہ پارکنگ لاٹ وغیرہ۔اس میں گورمنٹ کو بھی چاہئے ہو گا کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں کو چارج کرنے کے لئے مختلف مقامات پرمناسب قیمت میں سڑکوں کی کھدائی کر کے الیکٹرک تاروں کا جال بچھائے۔اس عمل کو شروع کرنا گورمنٹ کے لئے بہت زیادہ اخراجات کا بائث بنے گا اور ان چارجنگ سٹیشنز کو اپ گریڈ رکھنے کے لئے بھی مزید خرچ کی ضرورت ہو گی۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد بیٹری اپنی چارج رکھنے کی صلاحیت کم کر دیتی ہے اور اسے تبدیل کروانے کی ضرورت ہوتی ہے۔الیکٹرک گاڑیوں میں صرف سات سے دس سال بعد ایک بیٹری کو تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس پرپاکستانی ہزاروں روپے خرچ ہوتے ہیں۔دوسری جانب اگر ماضی میں الیکٹرک گاڑیاں متعارف ہوتی ہیں توپاکستان میں بیٹری تبدیل کرنے سے زیادہ مشکل اس طرح کی سہولیات کو ڈھونڈنا ہو گا۔
٭   فوائد۔
یہ بات تو واضح ہے کہ صرف الیکٹرک گاڑیوں اوران کے لئے بنیادی انفراسٹرکچرکو یہاں لانا ملک کے لئے بے پناہ خرچ کا بائث ہو گا،لیکن اگر اس انویسٹمنٹ کو دوسرے تناظر میں دیکھیں تو یہ سب آنے والے وقتوں میں اہم علاقوں میں پیسوں کی بچت کے لئے کافی کاآمد ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے ملک میں باہر سے تیل منگواناآہستہ آہستہ کم ہو جائے گا جس کا براہِ راست اثر پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضے پر پڑے گا۔پیٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں چار روپے میں ایک کلو میٹر کرتی ہیں جبکہ آج کے دور کی الیکٹرک گاڑیاں تقریباً پونے دو روپے میں ایک کلو میٹر کے حساب سے چلتی ہیں اور یوں وہ زیادہ تر لوگوں کے لئے سفر کو مزید سستا بنا تی ہیں۔
پاکستان میں زیادہ تر گاڑیوں پر سپیئر پارٹس کا خرچہ ایک عام بندے کے لئے کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے،نہ صرف سپیئر پارٹس مہنگے ہوتے ہیں بلکہ ایسی گاڑیوں کا کام کرنے اور انہیں سمجھنے والے افراد بھی کم ہی ملتے ہیں۔اس حوالے سے الیکٹرک گاڑیاں کافی بھروسہ مند ہیں، ان میں صرف ایک ہی مکینکل پارٹ ہوتا ہے جو کہ الیکٹرک موٹر ہے،اس کے علاوہ اورکوئی قابلِ ذکر حرکت کرنے والے پارٹس نہیں ہوتے جو تنگ کریں جیسا کہ پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں میں ہوتے ہیں،ان میں انجن کو صحیح سے کام کرنے کے قابل رکھنے کے لئے آئل تبدیل کرنے بیلٹ یاپلی بدلنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی،جو ان گاڑیوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کے خرچ میں مزید کمی کا بائث ہے۔
آج کل کے ترقیاتی دور میں گلوبل وارمنگ ایک بہت بڑا خطرہ ہے جس کا ہم سامنا کر رہے ہیں، اس سے پہلے کہ صورتحال قابو سے باہر ہو جائے بہت سے ممالک اس پر کام بھی کر رہے ہیں۔پاکستان میں کاربن فٹ پرنٹس کو کم کرنے کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کا آناگلوبل وارمنگ سے نمٹنے اور کاربن فٹ پرنٹس میں کمی کے لئے ایک بہت بڑا قدم ثابت ہو گا۔
نشاط گروپ نے حال ہی میں ہنڈائی موٹر کمپنی کے ساتھ پاکستان میں کار اسمبلی پلانٹ لگانے کا معاہدہ کیا ہے،وہ پاکستان میں الیکٹر ک گاڑیاں متعارف کر وانا چاہ رہے ہیں مگرابھی ملک کی موجودہ صورتحال انفراسٹرکچر اور کیپٹل ریکوائر مینٹ ان گاڑیوں کو متعارف کروائے جانے کے لئے موزوں نہیں ہے۔الیکٹرک گاڑیاں بہت فوائد رکھتی ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ آنے والے دس سالوں میں گورنمنٹ اور لوگوں کے لئے بھی کافی فائدہ مند ثابت ہو ں گی،مگر ابھی ایسا لگتا ہے کہ ہمارے لئے پرانی پیٹرول والی گاڑیاں استعمال کرنا ہی فائدہ مند ہے۔

Top