پاک سوزوکی کے منافع میں زبردست کمی

Pak Suzuki Increases Prices of its Cars Amidst Falling Profit Margins

پاک سوزوکی نے 31 مارچ 2018ء کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے اپنے منافع کا اعلان کردیا ہے اور اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں۔ ادارے کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق اُس نے اِس عرصے میں 904.14 ملین پاکستانی روپے کا منافع حاصل کیا۔ اگر گزشتہ سال کے اسی عرصے سے تقابل کیا جائے تو ادارے کے منافع میں 31 فیصد کی کمی آئی ہے۔

اس نے 2017ء کی اسی سہ ماہی میں 1.30 ارب پاکستانی روپے کا منافع حاصل کیا تھا۔ فی حصص آمدنی میں بھی کمی آئی ہے جو 15.88 روپے سے گھٹ  کر 10.99 روپے تک آ گئی ہے، جو پریشان کُن ہے۔ مزید برآں، سال بہ سال میں ادارے کا کل منافع بھی 10 فیصد کم ہوا ہے۔ واضح رہے کہ پاک سوزوکی کی مجموعی طور پر خالص فروخت میں 31.9 فیصد اضافہ ہوا۔

پاک سوزوکی کے ساتھ ساتھ ہیسکول نے بھی سال 2017ء کے لیے اپنے منافع کا اعلان کردیا ہے، جو بہت شاندار لگتا ہے۔ ادارے کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس کے مطابق اس نے 1.32 ارب روپے کا منافع حاصل کیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے۔

مزید برآں، اٹک پیٹرولیئم نے 1.45 ارب روپے کمائے، جو مالی سال 2017ء کی تیسری سہ ماہی کے مقابلے میں 21 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ادارے نے 2017ء کی تیسری سہ ماہی میں 1.20 ارب روپے کمائے تھے۔

PakWheels.com پر آتے رہیے اور گاڑیوں سے متعلق دلچسپ خبریں جانتے رہیے۔


Top