شیل پاکستان نے ہائی آکٹین کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا

shell increase hobc price

حکومت پاکستان کی جانب سے تیل فراہم کرنے والے اداروں کو ہائی آکٹین (HOBC) کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار دیئے جانے کے بعد شیل پاکستان نے ہائی آکٹین کی قیمت میں 10 روپے اضافہ کردیا ہے جس کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شیل پاکستان کے پیٹرول اسٹیشنز پر ہائی آکٹین 82 روپے فی لیٹر پر فروخت کیا جارہا ہے جبکہ دیگر پیٹرول پمپس پر ہائی آکٹین کی قیمت بدستور 72 روپے فی لیٹر ہی ہے۔انگریزی روزنامے بزنس ریکارڈر پر شایع ہونے والی خبر کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کی جانب سے من پسند قیمت پر ایندھن فروخت کرنے کی اجازت دیئے جانے کی تصدیق بھی کی ہے۔

شیل پاکستان کے ترجمان نے اسلام آباد میں ہائی آکٹین کی قیمت بڑھانے کی وجہ عالمی منڈی سے خام تیل کی اضافی قیمت پر درآمد کو قرار دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دیگر ممالک سے منگوائے جانے والے تیل کو کراچی کی بندرگاہ سے اسلام آباد تک پہنچانے میں بھی اضافی اخراجات آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ صرف دارالحکومت میں ہائی آکٹین کی قیمت میں 10 روپے اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے تمام ہی اداروں کو ہائی آکٹین درآمد کرنے کا اختیار دینے پر شیل کے ترجمان نے کہا کہ اس سے مقابلے کی فضا قائم ہوگی اور قیمت کے تعین میں مدد مل سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول یا ڈیزل؛ گاڑی کے لیے کونسا انجن اور ایندھن زیادہ مفید ہے؟

گزشتہ سالوں کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں زبردست کمی کے بعد ملک میں ہائی آکٹین کی قیمت 140 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 72 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ قیمت میں واضح کمی کے بعد پاکستان میں ہائی آکٹین استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ عام طور پر ہائی آکٹین صرف پرتعیش اور مہنگی گاڑیوں میں ہی استعمال کیا جاتا ہے تاہم پیٹرول سے قیمت میں زیادہ فرق نہ ہونے کی وجہ سے اب چھوٹی گاڑیوں کے مالکان بھی اسے استعمال کرنے لگے ہیں۔ ملک میں دستیاب 87 آکٹین پیٹرول کے مقابلے میں ہائی آکٹین معیاری ایندھن ہے جس کے استعمال سے انجن کی کارکردگی بہتر اور اضافی مسافت (مائلیج) بھی حاصل ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں ایندھن ترسیل کرنے والے اداروں کو بیرون ممالک سے ہائی آکٹین درآمد کرنے اور اسے اپنی مرضی کی قیمت پر فروخت کرنے کا اختیار دیا جاچکا ہے۔ اس سے قبل صرف پاک عرب ریفائنری کمپنی (پارکو) ہی پاکستان میں ہائی آکٹین کی ترسیل کا اختیار حاصل تھا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

Top